لاہور :لاہور سے گرفتار ہونے والی ملک گیر منشیات نیٹ ورک کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی زندگی اور طریقہ واردات کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق ملزمہ نے مجموعی طور پر چار شادیاں کر رکھی تھیں، جن میں سے دو شوہر منشیات کے دھندے سے وابستہ تھے جبکہ ایک سابق پولیس انسپکٹر بھی اس کے شوہروں میں شامل رہا۔
ذرائع کے مطابق پنکی کی ایک شادی وزیر آباد کے رہائشی ناصر علی سے ہوئی۔ یہ میاں بیوی مل کر آن لائن منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے یہ جوڑا مختلف رائیڈرز کے ذریعے پارسلز کی صورت میں منشیات کی ہوم ڈلیوری یقینی بناتا تھا۔
حساس اداروں نے 10 روز قبل لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو اس وقت حراست میں لیا جب اس کا واٹس ایپ آن ہونے پر جدید لوکیٹر کی مدد سے اس کا درست مقام ٹریس کر لیا گیا۔ پنکی لاہور میں روپوش رہ کر کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں منشیات سپلائی کر رہی تھی۔
ملزمہ کا بھائی ریاض بلوچ بھی منشیات فروشی کے جرم میں 2002 میں لاہور سے گرفتار ہو چکا ہے، جس نے دورانِ تفتیش اپنی بہن کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ تاہم، اس وقت سی آر او (Criminal Record Office) میں پنکی کا ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا تھا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ دہائیوں تک روپوش رہ کر اپنا دھندہ چلاتی رہی۔ ملزمہ کی چار میں سے دو شادیاں باقاعدہ رجسٹرڈ تھیں جبکہ باقی غیر رجسٹرڈ تھیں۔ اشتہاری ملزمہ ہونے کے ناطے اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے کراچی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔