Wed, September 16, 2026

پنجاب اسمبلی اور سپیکر کا فعال کردار

پنجاب اسمبلی اور سپیکر کا فعال کردار

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی تاریخ نئی نہیں، مگر حالیہ برسوں میں جس انداز سے خطے میں سیاسی، عسکری اور سفارتی تناو بڑھا ہے، اس نے قومی اداروں کو بھی زیادہ متحرک کر دیا ہے۔ گیارہ مئی کو سپیکر ملک محمد احمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ”بنیان مرصوص“ کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا اور بھارت کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پیغام دیا کہ بھارت اور پاکستان کی عوام اس وقت غربت سمیت گونا گوں مسائل کا شکار ہیں جو اس امر کے متقاضی ہیں کہ دونوں ملکوں کی قیادت جنگ کا طبل بجانے کی بجائے اپنی توانائیاں اپنی عوام کی خوشحالی اور انکا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے صرف کریں تاہم پاکستان کی امن کی اس خواہش کو ہرگز اسکی کمزوری نہ سمجھا جائے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان بھارت کو ہر طرح کے دفاعی اور جنگی محاذ پر شکست فاش دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ اس کا عملی مظاہرہ مئی 2025ءمیں کر چکی ہیں۔ اس وقت پوری دنیا افواج پاکستان کی صلاحیت و قابلیت کی معترف ہے ۔ ان کا یہ بیان صرف ایک سیاسی ردعمل نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے پنجاب اسمبلی کے اس وسیع تر کردار کی بھی عکاسی ہوئی جو آج محض قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ قومی بیانیے، جمہوری استحکام اور ادارہ جاتی خودمختاری کے فروغ تک پھیل چکا ہے۔
”بنیان مرصوص“ دراصل اتحاد، مضبوطی اور اجتماعی قوت کی علامت ہے۔ جب سپیکر پنجاب اسمبلی نے اس اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پیغام دیا تو اس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ پاکستان کے اندر سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم متحد ہے۔ پنجاب اسمبلی چونکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی نمائندہ قانون ساز اسمبلی ہے، اس لیے اس کے پلیٹ فارم سے آنے والا ہر پیغام داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر اہمیت رکھتا ہے۔
پنجاب اسمبلی کا کردار صرف قراردادیں منظور کرنے تک محدود نہیں۔ یہ ادارہ جمہوری اقدار، قانون سازی، عوامی نمائندگی اور حکومتی نگرانی کا بنیادی مرکز ہے۔ اگر ہم گزشتہ دو برسوں کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ سپیکر ملک محمد احمد خان نے اسمبلی کو زیادہ فعال، باوقار اور نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ایوان کے اندر نظم و ضبط قائم رکھنے، پارلیمانی روایات کو مضبوط کرنے اور قانون سازی کے عمل کو موثر بنانے پر خصوصی توجہ دی۔
پنجاب اسمبلی ماضی میں اکثر ہنگامہ آرائی، سیاسی محاذ آرائی اور غیر سنجیدہ رویوں کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتی تھی، مگر موجودہ سپیکر نے ایوان کے ماحول کو نسبتاً متوازن رکھنے کی کوشش کی۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو اظہار رائے کا موقع دینا، پارلیمانی قواعد پر سختی سے عمل کرانا اور کمیٹی سسٹم کو متحرک کرنا ان کی نمایاں ترجیحات میں شامل نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسمبلی کے اجلاسوں میں قانون سازی کی رفتار نسبتاً بہتر ہوئی اور مختلف شعبوں سے متعلق کئی اہم بل زیر غور آئے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے خاص طور پر نوجوان اراکین اسمبلی کی پارلیمانی تربیت پر بھی توجہ دی۔ جدید جمہوریتوں میں پارلیمانی استعداد کار انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ قانون ساز اداروں کی مضبوطی ہی دراصل ریاستی نظام کو مستحکم بناتی ہے۔ اس تناظر میں پارلیمانی ورکشاپس، قانون سازی سے متعلق بریفنگز اور ایوانی کارروائی کے معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات قابل ذکر ہیں۔
اگر قانون سازی کے پہلو کو دیکھا جائے تو پنجاب اسمبلی نے مقامی حکومتوں، تعلیم، صحت، خواتین کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور انتظامی اصلاحات سے متعلق متعدد قوانین پر پیش رفت کی۔ اگرچہ ان قوانین کے مکمل نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا، مگر یہ حقیقت اہم ہے کہ اسمبلی نے صرف سیاسی تقاریر تک محدود رہنے کے بجائے عوامی مسائل پر بھی توجہ دینے کی کوشش کی۔ سپیکر کا کردار یہاں ایک غیر جانبدار منتظم کا ہوتا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایوان کی کارروائی قواعد و ضوابط کے مطابق چلے اور قانون سازی میں رکاوٹ نہ آئے۔
اس کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جانے کی کوششیں بھی قابل ذکر ہیں۔ جدید دنیا میں پارلیمانوں کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسمبلی ریکارڈ، کارروائی، سوالات اور بلز کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنا شفافیت اور کارکردگی دونوں کو بہتر بناتا ہے۔ موجودہ سپیکر کے دور میں اس سمت میں ابتدائی اقدامات کیے گئے جنہیں مستقبل میں مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کا راستہ پارلیمانوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر پنجاب اسمبلی فعال، خودمختار اور عوامی مسائل کے حل میں موثر کردار ادا کرے گی تو اس کے اثرات پورے سیاسی نظام پر مرتب ہوں گے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کا حالیہ بیان اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جہاں ایک طرف قومی سلامتی کے حوالے سے واضح پیغام دیا گیا اور دوسری طرف اسمبلی کے ادارہ جاتی وقار کو بھی اجاگر کیا گیا۔
آج پاکستان کو صرف سرحدی خطرات ہی نہیں بلکہ اندرونی سیاسی تقسیم، معاشی دباو¿ اور گورننس کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ایسے حالات میں قانون ساز اداروں کا مضبوط ہونا ناگزیر ہے۔ پنجاب اسمبلی اگر اپنی آئینی ذمہ داریوں کو موثر انداز میں ادا کرتی ہے تو یہ نہ صرف صوبے بلکہ پورے وفاقی نظام کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ اسمبلی کو سیاسی کشمکش سے نکال کر ایک باوقار، فعال اور نتیجہ خیز ادارے کے طور پر سامنے لائیں۔ گیارہ مئی کا پیغام اسی سوچ کی ایک جھلک تھا جہاں قومی اتحاد، جمہوری استحکام اور ادارہ جاتی وقار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آئے۔

ٹیگز: