Wed, September 16, 2026

جب سپیکر، سپیکر نظر آنے لگے

جب سپیکر، سپیکر نظر آنے لگے

پاکستان کی سیاست میں اصولوں پر قائم رہنے والے کردار کم ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید اسی لیے جب کوئی آئینی منصب پر بیٹھا شخص اپنے اختیارات کا استعمال جماعتی مفادات کے بجائے پارلیمانی روایات کے مطابق کرتا دکھائی دے تو وہ خبر بھی بنتا ہے اور بحث کا موضوع بھی۔ ہمارے ہاں سیاست اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں آئینی منصب بھی اکثر سیاسی وفاداری کے ترازو میں تولے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کسی سپیکر کے فیصلوں پر حکومت کے اپنے وزرا کو اعتراض ہونے لگے تو اس کا مطلب صرف اختلاف نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری کو سنجیدگی سے نبھا رہا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان کے حالیہ اقدامات نے یہی تاثر پیدا کیا ہے۔ ایک طرف انہوں نے ایک متنازعہ بل کو مزید غور و فکر کے لیے روک کر یہ پیغام دیا کہ قانون سازی محض اکثریت کی طاقت سے نہیں بلکہ دانش، مشاورت اور اتفاقِ رائے سے ہونی چاہیے، تو دوسری طرف انہوں نے بارہا اپوزیشن کو ایوان کے اندر اظہارِ رائے کا حق دلانے کی کوشش کی۔ مزید برآں ان کی جانب سے صوبے میں پولیس گردی کے بڑھتے واقعات کا بروقت نوٹس ہی وہ طرزِ عمل ہے جس نے حکومتی حلقوں میں بھی بے چینی پیدا کی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پنجاب اسمبلی میں کسی بل پر اختلاف ہوا ہو، لیکن حالیہ متنازعہ بل کے معاملے میں سپیکر نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا، اس نے ایک مختلف مثال قائم کی۔ اچھا قانون وہی ہوتا ہے جو بحث، اختلاف اور عوامی مشاورت کے مراحل سے گزر کر سامنے آئے۔ اگر اسمبلی صرف مہرِ تصدیق لگانے والا ادارہ بن جائے تو پھر پارلیمان کی افادیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سپیکر کے اس رویے پر حکومت کے بعض وزرا نے کھلے عام ناراضی کا اظہار کیا۔ ایک جمہوری معاشرے میں سپیکر کا حکومت سے اختلاف جرم نہیں بلکہ اس کی غیر جانب داری کا ثبوت بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اختلاف قواعد، آئین اور پارلیمانی روایت کی بنیاد پر ہو۔
ملک محمد احمد خان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ قانون اور آئینی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں اکثر پارلیمانی روایات، آئینی تشریحات اور ادارہ جاتی توازن کا ذکر ملتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ اسمبلی کو محض حکومتی ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک خودمختار آئینی ادارہ سمجھتے ہیں۔ تاہم کسی بھی جمہوری معاشرے میں تعریف کا مطلب آنکھیں بند کر لینا نہیں ہوتا۔ چند فیصلے کسی شخصیت کو تاریخ میں جگہ نہیں دلاتے۔ اصل امتحان تو مسلسل مزاج کا ہوتا ہے۔ کیا یہی اصول آئندہ بھی برقرار رہیں گے؟ کیا اپوزیشن کے ساتھ وہی رویہ برقرار رہے گا جب سیاسی دباو¿ مزید بڑھے گا؟ کیا حکومتی ارکان بھی قواعد کی خلاف ورزی پر اسی معیار سے گزریں گے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب مستقبل دے گا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں پارلیمان کی بالادستی کا نعرہ تو بہت بلند کیا جاتا ہے، لیکن پارلیمانی روایات کو مضبوط کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کم نظر آتی ہیں۔ کئی اہم قوانین چند گھنٹوں میں منظور ہو جاتے ہیں، ارکان کو مسودہ پڑھنے کا وقت تک نہیں ملتا اور عوام کو بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نام پر کون سا قانون منظور ہو گیا۔ یہ طرزِ عمل نہ جمہوریت کے لیے مفید ہے اور نہ ہی قانون کی حکمرانی کے لیے۔ سپیکر اگر اس روایت کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اسے خوش آئند کہا جانا چاہیے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ایک فرد کے بل بوتے پر ادارے مضبوط نہیں ہوتے۔ اس کے لیے حکومت، اپوزیشن اور خود ارکانِ اسمبلی کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
پاکستان اس وقت جن سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں سے گزر رہا ہے، ان کا حل صرف مضبوط اداروں میں پوشیدہ ہے۔ عدالتیں اپنا کام کریں، حکومت اپنی آئینی حدود میں رہے اور پارلیمان آزادانہ قانون سازی کرے۔ اسی توازن سے ریاستیں مضبوط بنتی ہیں۔ ملک محمد احمد خان نے ابھی ایک راستہ دکھایا ہے، منزل ابھی بہت دور ہے۔ اگر وہ آئندہ بھی اسی استقامت کے ساتھ آئین، قواعد اور پارلیمانی وقار کا دفاع کرتے رہے تو ان کا شمار ان چند اسپیکرز میں ہو سکتا ہے جنہوں نے صرف اجلاس نہیں چلائے بلکہ ادارے کو مضبوط کیا۔ جمہوریت میں سب سے طاقت ور حکومت نہیں ہوتی، بلکہ سب سے طاقت ور ادارے ہوتے ہیں۔ اور جب کسی اسمبلی کا سپیکر واقعی سپیکر نظر آنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ جمہوریت نے خاموشی سے ایک اہم قدم آگے بڑھا لیا ہے۔

ٹیگز: