بڑے بڑے عدالتی فیصلے ہمیشہ چراغ تلے اندھیرا چھوڑ جاتے ہیں۔ حکومتوں کی بناوٹ و معزولی کی سماعتیں ہوں یا انتخابی نشانات کا اجرا۔ سرکاری زمینوں کے حکم امتناعی ہوں یا ججز کے تبادلوں پر بحث۔ عام آدمی عدالتی ترازو سے ہمیشہ غیر مطمئن ہی رہتا ہے کیونکہ قومی اخبارات کی ہیڈ لائنز اور ٹی وی چینلز کی سکرینیں جب بھی بریکنگ نیوز دیتی ہیں عام آدمی کے مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ عدالتوں کو عوامی ثابت کرتے کرتے سرکاری تجزیہ کاروں کو خوردبین کی مدد درکار ہوتی ہے۔ پہلی بار ڈرگ کورٹ لاہور نے عام آدمی کے در احساس پر دستک دے کر انصاف کے ترازو کو معتبر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہر گھر میں بچہ پیدا بھی ہوتا ہے اور پروان چڑھتے چڑھتے چار سے پانچ سال تک دودھ بھی پیتا ہے مگر ہم یہ معاملہ خواتین کے سپرد کر کے خود عالمی مسائل حل کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور یہ دیکھتے ہی نہیں کہ ہمارا بچہ جو دودھ پی رہا ہے وہ کس قدر خالص اور متوازن ہے؟ عدالت نے ناجائز منافع خوروں اور ملاوٹ مافیا کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنے کی عدالتی رسم ڈال دی ہے۔
ڈرگ کورٹ لاہور نے گزشتہ دنوں محمد مجاہد عباس کی درخواست پر ایک بھرپور تحقیقی فیصلہ جاری کیا اور ہمیں حیرت میں ڈال دیا کہ بچوں کے دودھ کا ٹیسٹ کرنے کے لیے کوئی لیب سرے سے موجود ہی نہیں۔ کمپنیاں جو کچھ من مرضی سے پیک کر دیں بچے وہی پینے پر مجبور ہیں۔
چیئرمین ڈرگ کورٹ محمد نوید رانا نے بچوں کے ڈبے کا دودھ غیر معیاری فروخت ہونے اور کوئی ٹیسٹ لیبارٹری نہ ہونے کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر تے ہوئے ڈائریکٹر ڈریپ کو حکم دیا کہ بچوں کے ڈبے کا دودھ تیار کرنے والی فیکٹریوں کے از سر نو لائسنس چیک کیے جائیں۔ چیئرمین نے چیف ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، ڈریپ اور متعلقہ محکمے کو حکم دیا کہ فوری بچوں کے دودھ کے معیار کو چیک کرنے کے لیے ٹیسٹ لیبارٹری بنائی جائے۔ عدالت نے لکھا کہ دوران سماعت پیش کی جانے والی 2015 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک سال میں 55 لاکھ بچے پیدا ہوئے، روزانہ پاکستان میں چودہ ہزار نو سو بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی صورت میں ہم بچوں کو دیئے جانے والے ڈبے کے دودھ کے معیار کو چیک کر رہے ہیں، ہم نے کبھی یہ دیکھا کہ ڈبے پر جو وٹامن کے حوالے سے فہرست لگی ہے ڈبے کے اندر یہ تمام اجزا شامل ہیں۔ چیئرمین ڈرگ کورٹ نے فیصلے میں ہیلتھ کے تمام افسران کو ہدایت کی کہ جہاں انہوں نے ادویات چیک کرنے کی لیبارٹری بنا رکھی ہے وہاں بچوں کے دودھ کو بھی چیک کریں، یہ بھی چیک کریں کوئی کسی کا جعلی کمپنی کا لیبل لگا کر دودھ فروخت تو نہیں کر رہا، نئی نسل کو صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے بہترین کوالٹی کا دودھ فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
چیئرمین ڈرگ کورٹ نے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیصلہ حکومت پنجاب اور دیگر متعلقہ ہیلتھ افسران کو بھی بھجوا دیا ہے۔ چیئرمین ڈرگ کورٹ محمد نوید رانا کی حد تک تو فیصلہ داد کا مستحق ہے مگر جن کی لوٹ مار پر کاری ضرب پڑی ہے وہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے پہلے یا تو حکم امتناعی لینے کی کوشش کریں گے یا پھر بیوروکریسی کے ذریعے لیبارٹریز کے قیام کو اس قدر مشکل بنا دیں گے کہ یہ منصوبہ بھی ہر فلاحی پراجیکٹ کی مانند ماضی کی لوک داستان بن جائے۔ اگر مصروف والدین کے معصوم بچوں کی بھی کوئی یونین ہوتی تو وہ اس فیصلے پر فوری عمل کرانے کے لیے کوئی لابنگ کرتے مگر دکھ کی بات تو یہ ہے کہ بڑوں پر بھروسہ کرنا بچوں کی مجبوری ہے اور جو کچھ وہ پلائیں گے بچوں کو پینا پڑے گا۔