انسان نما بھیڑیا ٹرمپ ایک نمبر کا مکار، جھوٹا، فریبی ہے جو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں شیخ چلی کو بھی کوسوں دورپیچھے چھوڑ گیا ، دنیا جان چکی ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا، کاش یہ بات خلیجی ممالک بھی سمجھ لیں تو دنیا سے آدھی سے زیادہ جنگیں ختم ہو جائیں کیونکہ امریکہ دوسرے ملکوں میں بیٹھ کر اپنی چودھراہٹ قائم رکھنا چاہتا ہے اور زیر عتاب مسلم ممالک ہی آتے ہیں،اسی وجہ سے آج ماضی میں جو ممالک امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے معاشی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، سعودیہ، قطر، یو اے ای وغیرہ نے ان سے کوئی سبق نہیں سیکھا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ ان کے ساتھ ہے لیکن اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر جارحیت سے ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئے کہ جو امریکہ اپنے اڈوں کو چھوڑ کر بھاگ رہا ہے وہ خلیجی ممالک کی کیا حفاظت کرے گا، امریکہ نے ہر بار مذاکرات کی آڑ میں پیٹھ میں چھرا گھونپا جب ویت نام سے نکل رہا تھا اس وقت بھی مذاکرات ہی ہو رہے تھے اور جاتے جاتے امریکہ نے بم داغ دیئے تھے، ایران میں بھی آج وہی چال چلی جا رہی ہے، چڑھائی سے پہلے بھی مذاکرات کی سرکس لگائی گئی پھر اسرائیل کے ساتھ مل کر چڑھائی کر دی، اعلیٰ قیادت کے شہید ہونے کے باوجود ایرانی ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی بھی طرح پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ امریکہ دھونس دھاندلی سے ایران کو فتح کرنا چاہتا ہے جو ٹرمپ کی بھول ہے، ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کے نام پر دھوکہ دے رہا ہے، دوسری طرف سے زمینی کارروائی کے لئے بارود کا ڈھیر لے کر آ گیا ہے، آبنائے ہرمز پر قبضہ کے لئے تہران کسی طور پر کسی کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں اور ایرانی سپیکر نے برملا کہا ہے کہ ہم انتظار میں ہیں کہ امریکہ زمینی کارروائی کرے، امریکہ نے کبھی کسی کے ساتھ بھلائی نہیں کی، وہ آبنائے ہرمز پر آج نہیں پچھلی تین دہائیوں سے قبضے کی سوچ رہا ہے،
بس وہ موقع کی تلاش میں تھا اور ہے اور 2مارچ کو چڑھائی کرتے وقت اس نے غلط اندازہ لگا کر اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مار لی، آج نیٹو ، یورپ سمیت کوئی ملک ٹرمپ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں امریکہ ایران میں پھنس کر رہ گیا ہے اور 48گھنٹے میں ایرانی اثاثے تباہ کرنے کی دھمکی دے کر خود ہی سیز فائر کر لیا، 5دن کے لئے حملے روک کر پھر خود ہی دس دن کے لئے حملے نہ کرنے کا اعلان کر دیا کیونکہ ٹرمپ ہر حال میں وکٹری بنانا چاہتا ہے لیکن یہ ہو گا نہیں، ایران جس استقامت کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے اس نے دیگر ممالک کو بھی حوصلہ دیا ہے کہ امریکہ اب سپرپاور نہیں، دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ نے زمینی کارروائی کی تو یہ اس کے گلے پڑ جائے گی اور بدلے میں ایرانی ردعمل میں امریکہ کا تیا پانچا ہو گا، ساتھ ہی خطے کے دیگرممالک میں مہنگائی، بے روزگاری کا جو سیلاب آئے گا اسے کئی سال تک کنٹرول کرنا مشکل ہو گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کا دوست نہیں وہ جواریا ہے صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے وہ دو مونہہ سانپ ہے اسی لئے جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے اسی لئے وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں سخت اور نازیبا انداز میں گفتگو کر رہاہے بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی وائٹ ہاو¿س کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کہہ رہی ہیں صدر ٹرمپ ایران جنگ کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے عرب ممالک سے مطالبہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اب ان سے پوچھاجائے کہ کیا ایران پر حملہ کرنے کا پلان سعودیہ کا تھا؟جواب نہیں میں ہی آئے گا لیکن امریکہ ایسی بازی کھیلتا ہے جس میں ہارے یا جیتے فائدہ اسی کا ہو لیکن ایران پر جارحیت کرکے پھنس گیا ہے وہ مختلف بہانوں سے باعزت رہائی چاہتا ہے جوممکن نہیں کیونکہ ایران جس طرح ڈٹا ہوا ہے اورامریکہ اور اسرائیل کو یہاں مار پڑرہی ہے اس سے لگتا ہے کہ ایک وقت آئے گا عرب ملک تہران کی ہاں میں ہاں اور ناں میں ناں ملائیں گے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اسلام آباد میں ہونے والا مشاورتی اجلاس جس میں سعوی عرب ، ترکیہ اور مصر کے وزرا خارجہ شریک ہوئے اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر جامع مشاورت کی گئی ، اجلاس پاکستان کی طرف سے اچھی کاوش تھی جس میں ایک بات ابھر کر دنیا کے سامنے آئی کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں امن کا خواہاں ہے اور دنیا میں بھی امن دیکھنا چاہتا ہے اور اس سے مودی کی بولتی بند ہو گی جو اسلام آباد کےخلاف ہر زہ سرائی کرتے نہیں تھکتا اسلام آباد میں چار ملکی مشاورتی اجلاس کے بعد جنگ بندی ہو یا نہ ہو لیکن یہ بات طے ہو گئی کہ پاکستان امن چاہتا ہے جنگ نہیں ،پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے امریکا اور ایران دونوں نے مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ، پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے تاکہ جاری تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکے اسحاق ڈار نے چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے بھی تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں چین نے پاکستان کے اس امن اقدام کی مکمل حمایت کی،اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اب اصل بات ہے کہ جنگ بندی کیسے ہو گی ایران اپنی شرائط منوائے بغیر کبھی پیچھے نہیں ہٹے گاکیونکہ تہران نے بھاری مالی اور جانی نقصان کے باوجود امریکہ اسرائیل کی درگت بنائی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ایران پر حملہ سے قبل بھی مذاکرات چل رہے تھے اور امریکہ اسرائیل نے حملہ کر دیا اصل بات یہ ہے کہ کون گار نٹی دے گا کہ جنگ بندی کے بعد امریکہ یا اسرائیل دوبارہ ایران پر حملہ نہیں کرے گا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے یہی کیفیت ایران کی ہے کیونکہ امریکہ بے اعتبارا ہے تاہم یہ بات تو طے ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں کہ جہاں سے نکلنا بھی چاہیں تو نہیں نکل سکیں گے اوراس کےلئے واحد راستہ سفارتکاری ہے زمینی جنگ صہیونیوں اور امریکیوں کےلئے موت کا کنواں ثابت ہوگی۔