Wed, September 16, 2026

فتنہ الخوارج کی دہشت گردی اور پاکستان کا فیصلہ کن ردِعمل

فتنہ الخوارج کی دہشت گردی اور پاکستان کا فیصلہ کن ردِعمل

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے ایک ایسے عفریت کا سامنا کر رہا ہے جس نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں نگل لیں بلکہ معاشرے کے امن، معیشت اور سماجی ہم آہنگی کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اس دہشت گردی کے پس منظر میں ایک ایسا گروہ نمایاں ہے جسے ریاست پاکستان نے بجا طور پر" فتنہ الخوارج" قرار دیا ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو مذہب کے نام پر تشدد کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کی کارروائیاں اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار اور قومی مفادات کے سراسر منافی ہیں۔ ان کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا، ریاستی اداروں کو کمزور کرنا اور معاشرے میں بدامنی پیدا کرنا ہے۔
فتنہ الخوارج کی کارروائیوں کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ اس تنظیم نے ہمیشہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ گزشتہ برسوں میں ان دہشت گردوں کی وجہ سے ہزاروں افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے، درجنوں دیہات خالی ہوئے اور سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں برباد ہو گئیں۔ ان کی کارروائیوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی محفوظ نہیں رہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس گروہ کے لیے انسانی جان کی کوئی قدر نہیں اور نہ ہی انہیں اسلامی اصولوں کی کوئی پروا ہے۔
یہ دہشت گرد صرف لوگوں کو قتل کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا۔ اسکولوں کو تباہ کرنا، ہسپتالوں پر حملے کرنا، پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچانا اور مواصلاتی ٹاورز کو اڑانا ان کے معمول کے ہتھکنڈے رہے ہیں۔ اس کا مقصد واضح ہے کہ معاشرے کو مفلوج کرنا، ترقی کے عمل کو روکنا اور خوف کی ایسی فضا قائم کرنا جس میں عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں۔ تعلیم کے مراکز پر حملے دراصل آنے والی نسلوں کے مستقبل پر حملہ ہیں، جبکہ ہسپتالوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔فتنہ الخوارج کی حکمت عملی کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ شہری آبادی میں چھپ کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ وہ عام لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور پھر ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف عام شہری خطرے میں پڑتے ہیں بلکہ مقامی کمیونٹیز میں خوف اور بے یقینی بھی پیدا ہوتی ہے۔ قبائلی عمائدین، تاجر، سرکاری اہلکار اور عام مزدور سب ہی ان کی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔
ایسی صورتحال میں ریاست پاکستان کے پاس دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں دراصل ایک ناگزیر اور جائز ردِعمل ہیں جن کا مقصد امن و امان بحال کرنا اور معصوم شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔تاہم خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں ہونے والی فوجی کارروائیوں نے دہشت گردوں کے کئی مضبوط ٹھکانے ختم کیے اور ان کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں دوبارہ استحکام قائم کیا جائے، بے گھر افراد کو واپس ان کے گھروں میں بسایا جائے اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عام زندگی کو بحال کیا جائے۔
مزید برآں فتنہ الخوارج کی جانب سے ایک اور حربہ یہ استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔ وہ اپنی کارروائیوں کو جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف جھوٹا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ پروپیگنڈا زیادہ دیر تک نہیں چلتا۔ عوام کی بڑی تعداد اب ان عناصر کو اچھی طرح پہچان چکی ہے اور انہیں معاشرے کے تباہ کن عناصر کے طور پر دیکھتی ہے۔یہاں یہ بات اظہر من الشمش ہے کہ پاکستانی معاشرہ بنیادی طور پر امن پسند ہے۔ یہاں کے لوگ مذہب کو محبت، برداشت اور انسانی خدمت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کی انتہا پسند سوچ اس معاشرتی حقیقت سے متصادم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں کے عوام بھی اب ان دہشت گردوں کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ 
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے فکری اور سماجی سطح پر بھی جدوجہد ضروری ہے۔ مذہب کے نام پر پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیے کو علمی اور فکری دلائل کے ذریعے رد کرنا ہوگا۔ علما، اساتذہ، دانشوروں اور میڈیا کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو انتہا پسندی کے جال میں پھنسنے سے بچایا جا سکے۔ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں بلکہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر و ترقی پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور جب لوگوں کو بہتر مواقع ملیں گے تو انتہا پسند عناصر کے لیے نوجوانوں کو گمراہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔
آخرکار یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ فتنہ الخوارج دراصل ایک ایسا فتنہ ہے جو مذہب کے نام پر فساد پھیلاتا ہے۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اسلام کی تعلیمات کو مسخ کر کے اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف ریاستی کارروائی نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور مذہبی طور پر بھی درست ہے۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز اس جنگ میں قوم کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ ان کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ملک کے امن اور استحکام کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر قوم کے اتحاد، عوامی حمایت اور سکیورٹی اداروں کے عزم کے ساتھ یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس چیلنج پر قابو پا لے گا۔فتنہ الخوارج کی دہشت گردی وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتی ہے، مگر یہ قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔ جب ریاست، عوام اور سکیورٹی ادارے ایک صفحے پر ہوں تو کوئی بھی دہشت گرد تنظیم زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ یہی اتحاد اور عزم پاکستان کے روشن اور پرامن مستقبل کی ضمانت ہے۔

ٹیگز: