Wed, September 16, 2026

معاہدے کا متن حتمی نہیں، سپریم کونسل کے فیصلے کے بعد تبدیلی ممکن ہے: عباس عراقچی

معاہدے کا متن حتمی نہیں، سپریم کونسل کے فیصلے کے بعد تبدیلی ممکن ہے: عباس عراقچی

تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اہم سفارتی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے، اس لیے اس کے متن میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس معاہدے کے 14 نکات ہیں، جن کے بعض حصوں پر ایران کی سپریم کونسل میں اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم کوئی بھی حتمی فیصلہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت سے کیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جوہری معاملات کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے اور یہ تمام امور بعد کے مراحل میں زیرِ بحث لائے جائیں گے۔ موجودہ حالات میں ایران کی اولین ترجیح خطے میں جنگ کا خاتمہ ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ  "ایران لبنان میں حزب اللہ کو کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ ہمارے مجوزہ معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جاری جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل جیسے دشمن عناصر ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے یا سفارتی پیش رفت کے سخت خلاف ہیں اور اسے سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم، ایران اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کے لیے کوشاں ہے۔

ٹیگز: