تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر ایک منصفانہ معاہدہ طے پایا تو ایران اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ انقلاب کے بعد اور خاص طور پر پچھلے ایک سال میں ایران کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا، جن میں دو جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کی جانب سے دباؤ اور ایک بڑا دہشت گرد حملہ شامل ہے، لیکن ایران نے ان تمام مشکلات کا مقابلہ مضبوطی سے کیا۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کی طاقت کا اصل سرچشمہ اس کے عوام ہیں، نہ کہ بیرونی طاقتیں۔ ایران ہمیشہ جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، اور انہیں امید ہے کہ آنے والا سال امن اور سکون کا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا اور ملک کے حقوق اور وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔