Wed, September 16, 2026

66 برس قبل جب پاکستان نے بھارتی کینبرا مار گرایا ....!

66 برس قبل جب پاکستان نے بھارتی کینبرا مار گرایا ....!

گزشتہ سے پیوستہ
 10 اپریل 1959ءپاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارتی کینبرا بمبار طیارے کے گرائے جانے کا ذکر ہو رہا تھا۔ بھارتی کینبرا بمبار طیارہ جونہی پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو سرگودھا میں پاک فضائیہ کے ریڈار کو اس کا پتہ چل گیا۔ ڈیوٹی پر موجود ریڈار آپریٹر پائلٹ آفیسر ربنواز نے فوری طور پر ائیر ہیڈ کوارٹر پشاور میں پاک فضائیہ کے سکوارڈن 15 کوبراز کو اس بارے میں اطلاع دی ۔ اطلاع ملنے کی دیر تھی کہ دو F-86 سیبر طیارے جن میں ایک میں سکوارڈن لیڈر نصیر بٹ بطور فارمیشن لیڈر اور دوسرے میں فلائٹ لیفٹیننٹ یونس بطور ونگ مین سوار تھے حرکت میں آ گئے۔ ان طیاروں نے چند ہی منٹوں میں بھارتی طیارے کو راولپنڈی کے قریب جب اُس کا رُخ واہ کی طرف تھا آن لیا۔ اُنہوں نے بھارتی طیارے کے ہواباز کو خبردار کیا کہ اُس نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے وہ اپنی اور اپنے طیارے کی سلامتی کے لیے اپنے طیارے کو نیچے اُتار لے ۔ بھارتی طیارے کا ہواباز سکوارڈن لیڈر چندرا سین گپتا اور اُس کا نیوی گیٹر فلائٹ لیفٹیننٹ رام پال اس گھمنڈ میں تھے کہ پاک فضائیہ کی یہ مجال اور صلاحیت نہیں کہ 50000 فٹ کی بلندی پر اُڑتے ہوئے اُن کے طیارے کا بال بیکا کر سکیں۔ اس طرح انہوں نے پاکستانی ہوا بازوں کی وارننگ کو سُنی اَن سُنی کر دیا ۔ اپنی جگہ پر اُن کی یہ سوچ درست تھی کہ اُن کے مدِ مقابل پاکستانی F-86سیبر طیارے جو زیادہ سے زیادہ 35000 فٹ کی بلندی پر جا سکتے ہیں وہ کیونکر اُن کے طیارے تک پہنچ پائیں گے۔ خیر پاکستانی ہوا بازوں سکوارڈن لیڈر نصیر بٹ اور فلائٹ لیفٹیننٹ یونس نے بھارتی طیارے کے ہوا باز پر اپنا دباﺅ جاری رکھا۔ اس دوران انہوں نے بھارتی طیارے کو خبردار کرنے کے لیے وارننگ شاٹس فائر کیے تو اس کے ساتھ اپنے طیاروں کے اضافی فیول ٹینک بھی گرا دئیے تاکہ اُن کے طیارے مزید بلندی پر جا سکیں۔ یہ صورتحال بھارتی طیارے کے ہواباز کے لیے کسی حد تک پریشانی کا باعث تھی اور وہ کچھ دباﺅ کا شکار ہوا اور اُس کے طیارے کی بلندی کچھ کم بھی ہو گئی۔ بھارتی طیارہ راولپنڈی کی فضاﺅں میں اُڑ رہا تھا اور پاکستانی ہواباز اُس کے پیچھے لگے ہوئے تھے ۔ شاید یہی وہ وقت تھا جب میں نے اپنے گاﺅں کی مسجد کے صحن سے تین جیٹ طیاروں کو انتہائی بلندی پر آگے پیچھے اُڑتے اور اپنے پیچھے سفید دھوئیں کی لکیریں چھوڑتے ہوئے دیکھا۔ 
راولپنڈی سے بھارتی طیارے کا رُخ جنوب مشرق میں روات کی طرف ہوا بھارتی ہواباز اس خیال میں تھا کہ انتہائی بلندی پر اُڑتے ہوئے وہ لاہور کے قریب سے پاکستان کی فضائی حدود سے باہر نکل کر اپنی فضائی حدود میں داخل ہو جائے گا۔ پاکستانی ہوا باز اُسے کسی صورت میں بچ کر نکل جانے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے اور انہوں نے ریڈیو پر 
پیغامات کے ذریعے اُسے چکلالہ راولپنڈی یا کسی دوسرے ائیر بیس پر اُترنے کے لیے دباﺅ جاری رکھا ہوا تھا۔ اسی دوران بھارتی طیارا جس کی بلندی 50000 فٹ سے کچھ کم ہو چکی تھی اور اُس کا ہوا باز شاید کچھ بوکھلاہٹ کا شکار تھا کہ ایسی پوزیشن میں آیا کہ اُس کا دائیاں ونگ فلائٹ لیفٹیننٹ یونس کے F-86 کی مشین گنوں کے نشانے پر آ گیا۔ ذرا سی دیر میں یونس کے سیبر کی ایک طرف کی تین مشین گنوں یا دونوں طرف کی چھ مشین گنوں سے بجلی سے بھی تیز رفتار سے گولیاں نکلیں اور بھارتی کینبرا بمبار طیارے کے دائیں ونگ کا انجن اُن کا اس طرح نشانہ بنا کہ چشم زدن میں طیارہ آگ کے گولے کی شکل میں زمین کی طرف لڑھکنا شروع ہو گیا۔ بھارتی طیارے کے ہوا باز سکوارڈن لیڈر چندرا سین گپتا اور فلائٹ لیفٹیننٹ رام پال کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ اپنے طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے کود کر اپنی جانیں بچائیں۔ نیوی گیٹر فلائٹ لیفٹیننٹ رام پال طیارے سے پہلے کودا ۔ ہوا باز سکوارڈن لیڈر چندرا سین گپتا نے طیارے سے نکلنا (Eject ) کرنا چاہا تو اُس کی ٹانگیں طیارے کے ڈیش بورڈ سے ٹکرا کر فریکچر ہو گئیں تاہم وہ طیارے سے باہر آ گیا۔ جلتے بھارتی طیارے کا ملبہ روات کے جنوب میں آٹھ سے دس کلو میٹرکے فاصلے پر بسالی کے قصبے کے نواح میں پھیل گیا تو اُس کا ہواباز اور نیوی گیٹر بھی اپنے پیراشوٹوں کے ساتھ اُدھر ہی آن گرے۔ مقامی لوگ طیارے کے ملبے کے پاس آن اکٹھے ہوئے ۔ اُن کا جوش و جذبہ دیدنی تھا اور آناً فاناً آس پاس کے دیہات و قصبات میں بھی بھارتی طیارے کے گرائے جانے کی خبر پھیل گئی۔ کچھ وقت شاید ڈیڑھ دو گھنٹے بعد راولپنڈی سے مسلح افواج کے دستے بھی بھارتی طیارے کے گرنے کی جگہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے بھارتی طیارے کے پائلٹ چندرا سین گپتا اور نیوی گیٹر فلائٹ لیفٹیننٹ رام پال کو اپنی حراست میں لے کر CMH راولپنڈی پہنچا دیا۔ 
10 اپریل 1959ءکو عید الفطر کے دن صبح کے اوقات میں تقریباً ساڑھے سات بجے پاک فضائیہ کے شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی کینبرا بمبار طیارے کا مار گرانا بلا شبہ ایک زبردست اور قابلِ فخر کارنامہ تھا جس پر پورے ملک میں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑی لیکن اس سے روات سے آگے بسالی کے قصبے تک لوگوں کی قسمت بھی جاگ اُٹھی ۔ ہوا یوں کہ پاکستان کی بری فوج کے اُس وقت کے سربراہ کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ بھی اُسی دن طیارے کے گرائے جانے کی جگہ پر سب کچھ دیکھنے کے لیے روات جی ٹی روڈ سے آگے بسالی تک کچی سڑک کے ذریعے پہنچے۔ مقامی لوگ اُن کے گرد اکٹھے ہو گئے جن سے انہوں نے بات چیت کی اور مسائل وغیرہ کے بارے میں پوچھا ۔ لوگوں نے روات سے بسالی تک سڑک کے پختہ کرنے کے بارے میںذکر کیا ۔ جنرل موسیٰ نے وعدہ کیا کہ وہ اس بارے میں جو کچھ ہو سکا ضرور کریں گے۔ پھر کیا ہوا، اگلے سال یا اُس سے کچھ زیادہ عرصہ بعد میرا اس علاقے میں بسالی کے نواح میں اپنے ننھیالی گاﺅں میں جانے کا اتفاق ہوا تو روات سے بسالی تک سڑک پختہ ہو چکی تھی اور اس پر فوارہ چوک راجہ بازار راولپنڈی سے بسالی تک اُومنی بس سروس (لوکل گورنمنٹ ٹرانسپورٹ) کی بسیں چلنا شروع ہو چکی تھیں۔ 
پاک فضائیہ نے بھارتی کینبرا بمبار طیارہ مار گرایا تو پورے بھارت میں کھلبلی مچ گئی ۔لوگوں نے بھارتی فضائیہ کی کارکردگی پر سوال اُٹھانا شروع کیے تو اُس وقت کے بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور وزیرِ دفاع وی کے کرشنا مینن کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا اور ایوانِ زیریں لوک سبھا میں اس کی وضاحتیں پیش کرنا پڑیں۔ وی کے کرشنا مینن نے لوک سبھا میں بیان دیا کہ بھارتی کینبرا بمبار طیارہ حملے کی نیت سے یا کسی طرح جنگی مشن پر نہیں تھا کہ اس کو گرایا جاتا۔ اس کا مشن ہما چل پردیش اور جموں کشمیر کے علاقوں کی فضائی تصاویر بنانا تھا کہ نیوی گیشنل دشواری کی بنا پر وہ غلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا۔ یہ ایک معمول کی بات تھی کہ 1958ءکی آخری سہ ماہی میں پاکستان کی طرف سے کشمیر میں 17 بار فضائی حدود کی خلاف ورزی کے واقعات پیش آئے لیکن ہماری طرف سے کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی گئی۔ کرشنا مینن کے اس بیان کے جواب میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ 10 اپریل ایک روشن دن اور فضا بالکل صاف تھی ۔ کسی نیوی گیشنل دشواری کے پیش آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ پھر بھارتی طیارے نے محض فضائی حدود کی خلاف ورزی ہی نہیں کی بلکہ دو اڑھائی سو میل تک پاکستان کی حدود کے اندر آ گیا ۔ اُسے وارننگ شاٹس کے ذریعے خبردار کیا گیا اور نیچے اُترنے کی ہدایت کی گئی لیکن اُس نے اس کی قطعاً پروا نہ کی۔ مجبوراً انتہائی قدم اُٹھانا پڑا۔بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے بھی لوک سبھا میں اس بارے میں سوال کیا گیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف کیا اقدام کرے گا تو اُن کا کہنا تھا کہ ہم سفارتی سطح پر پاکستان سے شدید احتجاج کر رہے ہیں۔
بھارت نے سفارتی سطح پر یقینا احتجاج کیا ہوا گا لیکن پاک فضائیہ کے مایہ ناز ہوا باز فلائٹ لیفٹیننٹ یونس نے اپنے کم تر صلاحیت والے F-86 سیبر طیارے سے برتر صلاحیت کے حامل بھارتی کینبرا بمبار طیارے کو جو مار گرایا وہ فضائی جنگوںکی تاریخ میں ایک یادگار واقعے کے طور پر ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ فلائٹ لیفٹیننٹ یونس کو اس کارنامے پر ستارہِ جرات کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ستمبر 1965ءکی 17 روزہ جنگ میں بھی یونس کی طرف سے فضائی معرکوں میں جرات ، دلیری اور بے خوفی کا یہی مظاہرہ جاری رہا اور ایک فضائی معرکے میں وہ شہادت کے رُتبے سے سرفراز ہوئے۔

ٹیگز: