Wed, September 16, 2026

66برس قبل جب پاکستان نے بھارتی کینبرا مار گرایا

66برس قبل جب پاکستان نے بھارتی کینبرا مار گرایا

پاک بھارت حالیہ معرکہ آرائی کے دوران 6 اور 7 مئی کی درمیان رات پاکستان نے بھارت کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے تو یہ پاکستان فضائیہ کی تاریخ میں پہلا کوئی ایسا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی اس طرح کے سنہری حروف میں لکھے جانے والے واقعات پاک فضائیہ کی تاریخ میں موجود ہیں۔ فروری 2019ء میں جب بھارت پلوامہ واقعے کی آڑ میں اپنی فضائیہ کو میدان میں لے آیا تھا تو پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائے تھے۔ ان میں سے ایک کا ملبہ آزاد کشمیر میں بھمبر کے علاقے میں گرا اور اس کا پائلٹ ابھی نندن زندہ گرفتار ہوا تو دوسرے طیارے کو مقبوضہ کشمیر میں جلتے ہوئے گرتے دیکھا گیا۔ اسی طرح کا بلکہ اس سے بڑھ کر یادگار اور محیر العقل واقعہ ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران انفرادی طور پر سامنے آیا جب پاکستان کے قابل فخر سپوت مایہ ناز ہواباز سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم (جو بعد میں ایئرکموڈور کے عہدے سے ریٹائر ہوئے) نے اپنے F-86 سیبر طیارے کی مشین گنوں سے گولیاں برسا کر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا۔ یہ واقعات بلاشبہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی ایک اور ایسا واقعہ پاکستان فضائیہ کے شاندار کارنامے کے طور پر تاریخ میں موجود ہے جب پاکستان کے دو قابل فخر ہوابازوں سکوارڈن لیڈر نصیر بٹ اور فلائٹ لیفٹیننٹ یونس نے اپنے F-86 سیبر طیاروں کے ذریعے بھارت کے برتر معیار کے انتہائی بلندی پر اڑنے والے کینبرا بمبار طیارے کو 47500 فٹ کی بلندی پر نشانہ بنا کر مار گرایا تھا۔ اس کا پاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارتی جنگی طیارے کی تباہی کے طور پر پہلے واقعے کے طور پر ذکر کیا جائے تو یہ کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔
پاک فضائیہ کا یہ شاندار کارنامہ یا واقعہ مجھے اس طرح یاد آیا کہ اگلے دن پاک فضائیہ نے اپنے قابل فخر سکوارڈن -15گوپراز کے قیام کے 5 جون 1956ء کے دن کے حوالے سے اس سکوارڈن کی شاندار روایات کا ذکر کیا اور 10 اپریل 1959ء عیدالفطر کے دن اس سکوارڈن کے دو ہوابازوں (جن کا اوپر ذکر آیا ہے) کے ہاتھوں بھارت کے کینبرا بمبار طیارے کی 47500 فٹ کی بلندی پر روات کے قریب مار گرائے جانے کے عظیم کارنامے کا حوالہ دیا۔ سچی بات ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ چھیاسٹھ برس قبل پاک فضائیہ کی اعلیٰ کارکردگی کے حامل اس شاندار واقعے کی جزئیات جو میں نے مسلح افواج کے ترجمان مجلے ’’ہلال‘‘ (موجودہ ماہنامہ) جو اس وقت سہ روزہ اخبار کی صورت میں شائع ہوتا تھا پڑھی تھیں، اس طرح یاد آ گئیں کہ جیسے یہ واقعہ کل ہی پیش آیا ہو۔
یہ 10اپریل 1959ء کا دن تھا اور پاکستان میں عیدالفطر منائی جا رہی تھی۔ صبح کوئی ساڑھے سات کا وقت تھا کہ میں اپنے محلے (محلہ اعواناں چونترہ) کی مسجد جو کچھ بلندی پر بنی ہوئی ہے میں گیا کہ وہاں وضو کر کے آگے محلہ راجگان کی جامع مسجد میں عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے جائوں۔ میں مسجد کے حوض سے مٹی کے کوزے (لوٹے) میں پانی بھر رہا تھا اور کچھ اور لوگ بھی وہاں کھڑے تھے کہ معاً میری نظر اوپر آسمان کی طرف اٹھ گئی۔ وہاں بہت بلندی پر فضا میں دھوئیں کی تین سفید لکیریں نظر آئیں۔ مجھے اتنا پتہ تھا کہ جیٹ طیارے بلندی پر اڑتے ہیں تو ان کے انجنوں سے نکلنے والا دھوں فضا میں موجود خنکی کی وجہ سے دھوئیں کی سفید نظر آنے والی لکیروں کی صورت میں کچھ وقت کے لیے فضا میں موجود رہتا ہے اور پھر تحلیل ہو جاتا ہے۔ میں نے بہت بلندی پر دھوئیں کی ان لکیروں اور ان کے آگے اڑنے والے طیاروں جو بہت بلندی پر ہونے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے اجسام کی صورت میں نظر آ رہے تھے دیکھا تو میرے تجسس میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ ایک دھوئیں کی لکیر اور اس کا طیارہ زیادہ بلندی پر آگے نظر آ رہا تھا اور دو دھوئیں کی لکیریں اور ان کے طیارے کچھ کم بلندی پر ایسے نظر آ رہے تھے جیسے وہ اگلے والے طیارے کا پیچھا کر رہے ہوں۔ میں نے یہ منظر دیکھا تو وہاں قریب کھڑے ایک دو عزیزوں کو بھی متوجہ کیا اور بتایا کہ آج عید کے دن بھی ہماری فضائیہ کے شاہین اپنے طیارے اڑا رہے ہیں۔
خیر بات آئی گئی ہو گئی۔ عید کی نماز پڑھی، دن گزرا، شام کو کسی سے پتہ چلا کہ روات (جی ٹی روڈ پر قصبہ کے جنوب میں آٹھ دس کلومیٹر کے فاصلے پر بسالی کے نواح میں بھارت کا ایک طیارہ مار گرایا گیا ہے اور اس کے ہواباز اور اس کا ساتھی جو جلتے طیارے سے پیراشوف کے ذریعے کود گئے تھے انہیں زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سچی بات میرے لیے یہ بڑی زبردست خبر تھی اور میں نے کڑیاں جوڑنا شروع کیں کہ صبح ساڑھے سات بجے اونچائی پر بنی اپنی محلے کی مسجد کے صحن سے میں نے فضا میں انتہائی بلندی پر اڑتے طیاروں اور ان کے انجنوں کے دھوئیں سے بننے والی سفید لکیروں کو جو دیکھا تھا تو ان میں آگے زیادہ اونچائی پر اڑنے والا بھارتی طیارہ ہی تھا اور اس کے پیچھے ذرا کم بلندی پر ہماری فضائیہ کے طیارے تھے جو اسے نشانہ بنانے کے لیے پر تول رہے تھے۔ خیر میں چاہتا تھا کہ اس واقعے کی تفصیلات ملیں۔ اس زمانے میں خبروں کا بڑا ذریعہ ریڈیو ہوا کرتا تھا اور ہمارے گھر میں ریڈیو تو تھا ہی نہیں شاید میں نے بھائی امیر زمان مرحوم جن کی دکان پر ریڈیو ہوتا تھا وہاں رات آٹھ بجے کی خبریں سنیں جن میں بھارتی کینبرا بمبار طیارے کو مار گرائے جانے کی تفصیل موجود تھی تاہم میری تشنگی برقرار تھی اور میں چاہتا تھا کہ پاک فضائیہ کے اس شاندار کارنامے کی پوری جزئیات حاصل ہوں۔
ان دنوں ویسے بھی میں میٹرک کا امتحان دینے کے بعد فارغ تھا اور میرا معمول تھا کہ میں دن کو بازار میں حوالدار ریٹائرڈ غلام محمد علی دکان پر چلا جایا کرتا تھا اور ان کے نام مسلح افواج کا ترجمان اخبار (سہ روزہ) ’’ہلال‘‘ آیا کرتا تھا پڑھ لیا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ادھر قریب ہی ڈاک خانے میں ڈاک میں جو اخبار وغیرہ آتے تھے اور جس میں اس دور کا ایک بڑا اخبار روزنامہ ’’کوہستان‘‘ بھی شامل تھا اگر موقع ملتا تو اس کو بھی پڑھ لیا کرتا تھا۔
خیر مجھے (سہ روزہ) ’’ہلال’’ کا انتظار تھا۔ دو یا تین روز بعد ہلال آیا تو اس میں بھارتی کینبرا بمبار طیارے کو مار گرانے کی پوری تفصیل جہاں موجود تھی وہاں بھارتی طیارے کے پائلٹ سکوارڈن لیڈر چندرا سین گپتا اور نیوی گیٹر فلائٹ لیفٹیننٹ رام پال کے اعترافی بیانات جو انہوں نے پاکستانی حکام کو دیئے تھے پوری تفصیل کے ساتھ موجود تھے۔ ’’ہلال‘‘ میں چھپنے والی تفصیل کے مطابق بھارتی طیارے کے ہواباز سکوارڈن لیڈر چندرا سین گپتا اور نیوی گیٹر فلائیٹ لیفٹیننٹ رام پال کا کہنا تھا کہ ان کے کینبرا بمبار طیارے جس کا سیریل نمبر 71591 اور جس کا تعلق بھارتی فضائیہ کے سکوارڈن 106سے ہے۔ ہم نے صبح (10اپریل کی صبح جب پاکستان میں عیدالفطر کی نماز کی تیاریاں ہو رہی تھیں) سات، سوا سات بجے کے لگ بھگ انڈین ایئرفورس کے اجمیر کے فضائی مستقر سے اڑان بھری۔ جلد ہی ہم نے اپنا رخ پاکستان کی سرحد کی طرف کر لیا۔ ہم لاہور کے قریب پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ ہمارا خیال تھا کہ پچاس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ہمیں پاکستان فضائیہ کی طرف سے کسی خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ہم آسانی کے ساتھ لاہور سے راولپنڈی اور آگے کھاریاں پاکستان کے سٹرٹیجک مقامات (اثاثوں) کی بلا روک ٹوک فوٹو بنا لیں گے۔   (جاری ہے)

ٹیگز: