پاکستان کا دارالحکومت ہمیشہ کی طرح خاموش اور پرسکون ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے گیارہ اکتوبر 99 چار جولائی 77 اور چوبیس مارج 69 کو تھا۔ اکتوبر 58 میں اسلام آباد نہیں تھا جو کچھ تھا راولپنڈی تھا لیکن چھبیس اکتوبر تک راولپنڈی بھی پرسکون تھا لیکن جونہی کیلنڈر اور گھڑیوں پر تاریخ بدلی۔ 12 اکتوبر ہو گیا، 5جولائی ہوا، 25 مارچ ہوا اور 27 اکتوبر ہو گیا۔ نظام بدل گیا ہر مرتبہ بدلنے والا نظام قریباً ایک ایک دہائی تک چلتا رہا۔ غیبی مدد سے سینیٹر بننے والے جناب فیصل واوڈا کے شوخ و شنگ اور آتشیں بیانات سے یوں لگتا ہے جیسے قیامت آنے والی ہے اور یوم حساب قریب ہے۔ وہ قیامت جس کا ذکر قرآن میں ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، سورج سوا نیزے پر ہو گا، مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں ہو گا اور ہر شخص سے اس کے اعمال و کرتوتوں کا حساب لیا جائے گا۔ یہ قیامت تو ابھی دور ہے لیکن جو چار چھوٹی چھوٹی قیامتیں گزر چکی ہیں، اس قسم کی قیامت کے لئے حالات سازگار بتائے جاتے ہیں لیکن اس قسم کی قیامتیں ہم نے ملتوی ہوتی بھی دیکھی ہیں۔ انہیں جب بھی ملتوی کیا گیا غیر سازگار موسمی حالات کے سبب ملتوی کیا گیا۔ فرض کر لیجئے کوئی ننھی منی قیامت آبھی جاتی ہے تو کیا خود زندہ اور دوسروں کو زندہ درگور کرنے والوں سے ملک کو تباہ و برباد کرنے والوں سے اسے تیز چونچوں اور پنجوں سے نوچنے والوں کا حساب ہو سکے گا۔ اس سوال کا جواب تو قیامت آنے کے نوے روز کی کارکردگی کے بعد سامنے آئے گا۔ اس سے پہلے تو یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ ماضی کی ننھی منی قیامتیں کچھ اچھا ریکارڈ نہیں رکھتیں۔ ہر آنے والی قیامت دوسرے یا تیسرے برس فرینڈلی قیامت میں بدل گئی۔ بالکل اسی طرح جس طرح چوروں، ڈاکوﺅں اور لٹیروں سے حساب لینے کے نعرے پر حکومتیں آئیں لیکن انہوں نے حساب کتاب کے تمام دفتر تیسرے برس بند کرنا مناسب سمجھا۔
قیامت کی خبر دینے والے تین گروپ ہیں۔ ایک تو جناب فیصل واوڈا صاحب ہیں جبکہ دو گروپ دو وزارتوں کیلئے نرم گوشہ اور خاص پیار محبت رکھنے والے سیاسی و صحافتی ملنگوں کے ہیں۔ دونوں گروپوں سے تعلق رکھنے والے ملنگوں کی دھمال اپنے عروج پر ہے۔ ایک ملنگ پارٹی اہل وطن کو خواب غفلت سے جگانے کا فریضہ انجام دیتے ہوئے انہیں آگاہ کر رہی ہے کہ کرکٹ بورڈ اور کرکٹ تباہ ہو چکی ہے۔ پورے ملک کی پولیس غیر پولیسیانہ سرگرمیوں میں مصروف ہے، ان کی مصروفیت کے سبب پورے ملک میں چور اچکے ، ڈاکوﺅں، منشیات فروش اور اغواءبرائے تاوان کے کاروبار سے منسلک گروہ موجیں کر رہے ہیں کیونکہ انہیں دیکھنے اور پوچھنے والا کسی اور کام میں مصروف ہے۔ ملنگوں کا دوسرا گروپ قوم کو باور کرانا چاہتا ہے، خزانے کے ماہر امور خارجہ میں ناکام ہو چکے ہیں۔ وہ امریکہ اور ایران کی جنگ بند نہیں کرا سکے۔ وہ اسرائیل کو حملوں سے باز نہیں رکھ سکے۔ وہ دھوم دھڑکے سے دستخط شدہ ایم او یو پر عمل نہیں کرا سکے، ان کی دنیا میں کوئی وقعت نہیں۔ انہوں نے ماضی میں جس طرح خزانے اور ملک کی اقتصادیات کے ساتھ جو سلوک کیا، اب وہی خارجہ معاملات میں کر رہے ہیں۔ الزام دھرنے والے ملنگ گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ان کا دھیان غیر ملکیوں کو ویزے جاری کرانے، پسندیدہ افراد کو بلیو پاسپورٹ دلانے اور کرپٹو بزنس میں زیادہ دلچسپی کے سبب ہوا۔ ہر دور میں مختلف سوچ رکھنے والی ملنگ پارٹیاں اپنے اپنے دھندے سے لگی رہتی ہیں اور وجد میں آکر وقفوں وقفوں سے ایک ایسا نعرہ لگاتی ہیں کہ آس پاس موجود خلقت ان کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک نعرہ ایک ایسی شخصیت نے لگایا ہے جسے ملک میں ایک مقام حاصل ہے لیکن اس کا مذکورہ دو ملنگ پارٹیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کرپٹو بزنس کو غیر شرعی اور حرام قرار دے دیا ہے، جس نے کرپٹو بزنس سے وابستہ خاندانوں کی رات کی نیند اور دن کا چین رخصت کر دیا ہے۔ ان خاندانوں کا کرپٹو کاروبار امریکہ اور یورپ کے ساتھ ساتھ چین تک پہنچ چکا تھا۔ اس فتوے کی زد میں آنے والے اب ایک جوابی فتوے کے انتظامات میں مصروف ہیں لیکن ان کی پریشانی میں ہر دم اضافہ ہو رہا ہے۔ کرپٹو بزنس میں ایک خاندان کے پانچ کروڑ ڈالر ڈوبنے کی خبریں گزشتہ کئی ماہ سے میڈیا میں نظر آرہی ہیں لیکن جن کا سب کچھ ڈوبا ہے وہ اب بھی طلاطم خیز پانیوں میں کسی ماہر تیراک کی طرح تیر رہے ہیں لیکن اس مرتبہ دونوں ملنگ گروپوں میں شرطیں لگ چکی ہیں۔ ایک گروپ کا کہنا ہے ”گل ای کوئی نئیں“ جبکہ دوسرے گروپ کا کہنا ہے ”بچاﺅ مشکل ہے ڈوبنا مقدر ہے“۔
ملنگوں کے غیر جانبدار گروپ کا کہنا ہے کوئی چھوٹی یا بڑی قیامت نہیں آرہی۔ قیامت اپنے آنے یا نہ آنے کا فیصل نومبر میں کرے گی اور فیصلے سے پہلے امریکی انتخابات کے نتیجے کا انتظار کرے گی۔
غیرجانبدار ملنگ گروپ یہ بھی کہتا ہے کہ لڑائی دو بلیوں کے درمیان ہے۔ دونوں سمجھتی ہیں سامنے پڑی روٹی بلکہ پراٹھے پر اس کا حق ہے وقت بتائے گا پراٹھا کس کے حصے میں آتا ہے اور کسے ٹھینگا دکھایا جاتا ہے۔ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب وزیر خزانہ جناب محمد اورنگزیب کی کارکردگی کے حوالے سے سوال اٹھے۔ انہوں نے وزارت کا قلمدان سنبھالا تو نعرہ مستانہ لگایا تھا کہ وہ بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری لے کر آئیں گے۔ ٹیکس کے جاری نظام کو بہتر بنائیں گے، ان کی پالیسیوں سے ملک کی ایکسپورٹ میں خاطرخواہ اضافہ ہو گا اور خوشحالی صرف کاغذوں میں ہی نہیں بلکہ عام آدمی کے تن سے نظر آئے گی۔ جناب اورنگزیب صاحب کی قسمت ان کی کوئی ایک بات پوری نہ ہو سکی، اس کی رخصتی کی بات نکلی تو ایک ملنگ گروپ نے چاہا یہ وزارت ان کی طرف آنی چاہئے لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ خارجہ امور سے دست کش ہوں جبکہ ان کا مخالف ملنگ گروپ کہتا ہے کہ ”چپڑی ہوئی اور دو دو“ ہم کسی اور طرف نہیں جانے دیں گے۔ باکسنگ باﺅٹ کا آخری راﺅنڈ شروع ہو چکا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے ناک آﺅٹ نہ ہو، باﺅٹ برابر رہ جائے فیصلہ کمر درد پر ہو جائے۔