Wed, September 16, 2026

دہشت گردوں کو نکیل ڈالنا ہو گی

دہشت گردوں کو نکیل ڈالنا ہو گی

بلوچستان میں پنجابیوں کا قتل عام کوئی نئی بات نہیں۔سالہا سال سے مختلف گروہ اس قسم کی کارروائیوں میں مشغول ہیں لیکن افسوس کہ ان کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں۔اگر کبھی سوال کیا جائے تو ہماری حکومتیں اور سکیورٹی سے متعلق ادارے کہتے ہیں کہ اس قسم کی وارداتوں میں دہشت گرد ملوث ہیں۔ اگر ان کی بات کو درست مانا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کام دہشت گردوں کا ہے تو ریاست صرف بیان بازی اور انہیں بزدل قرار دینے کی حد تک محدود کیوں ہے؟ اگرسالہاسال میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور سکیورٹی ادارے مل کر بھی ان ’مٹھی بھر بزدل‘ دہشت گردوں کو کنٹرول نہیں کر سکے اور بلوچستان آنے اور جانے والے مسافر ، جنہیں شناخت چیک کرنے کے بعد قتل کیا جاتا ہے،آج بھی انتہائی غیرمحفوظ ہیں تو کیا یہ سب کچھ ان کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان نہیں؟۔
دو روز قبل بلوچستان میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں نو بے گناہ پنجابی ، جو ایک بس میں سوار تھے، کو شناخت کے بعد نیچے اتار کر گولیاں مار دی گئیں۔ وہ نہ کسی کے دشمن تھے، نہ انہوں نے کسی کا نقصان کیا تھا۔ ان کا جرم تو صرف پنجابی ہونا تھا۔ بلوچستان میں پنجابیوں کا قتل عام اس قدر زیادہ ہو چکا ہے اور اس قسم کی کارروائیاں اس تسلسل کے ساتھ ہو رہی ہیں کہ اب تویہ سب کچھ حکمرانوں اور شاید عام لوگوں کے لیے بھی ایک روٹین کی بات بن گئی ہے۔ لیکن بلوچستان سے جب بھی پنجابیوں کے قتل کی کوئی تازہ خبر آتی ہے تو میرے دکھ ضرور تازہ ہو جاتے ہیںجو برسوں پہلے کوئٹہ چھوڑتے ہوئے ملے تھے۔
 ہمارے خاندان کے علاوہ بے شمار پنجابی، اردو سپیکنگ، ہندو اور مختلف قومیتیں برسوں سے بلوچستان میں آباد ہیں۔ بلکہ ایک وقت تھا کہ بلوچستان میں تعلیم اور صحت کا شعبہ صرف پنجابیوں اور اردو سپیکنگ فیملیز نے ہی سنبھالا ہوا تھا۔  میرا خاندان تو تقسیم ہند کے بعد کوئٹہ میں ہی سیٹل ہوا۔ میرے والد کی قبر بھی وہیں ہے۔ میرے دادا، والد، والدہ کی جوانیاں اور ہم بہن بھائیوں کا بچپن کوئٹہ کی گلیوں میں ہی گزرا۔ پھر اچانک ہمارے خاندان کو دھمکیاں موصول ہونا شروع ہوئیں ، جان کے لالے پڑ گئے ، نتیجہ یہ ہوا کہ جان بچانے کے لیے ہم اپنی کروڑوں کی جائیداد کوڑیوں کے مول بیچ کر وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ 
 بلوچستان میں جاری دہشتگردی کیوں ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے کون سے ہاتھ کارفرما ہیں، اس کا جواب سب کو پتہ ہے، لیکن کوئی کھل کر بات نہیں کرتا۔ بھارت کئی سالوں سے بلوچستان میں گڑبڑ پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔یقینا اس سب کے پیچھے اس کی یہ خواہش کارفرما ہے کہ پاکستان کو اندر سے کمزور اور کھوکھلا کر دیا جائے۔اس کے علاوہ صوبہ کی جغرافیائی پوزیشن اور یہاں موجود معدنیات کے لامحدود ذخائر بھی امن قائم نہ ہو سکنے کی وجوہات ہیں۔
بھارت مسلسل کچھ لوگوں کو پیسے اور ہتھیار وغیرہ دے کر ورغلاتا ہے۔ کلبھوشن یادیو اسی سازش کا ایک ثبوت تھا۔ اُس نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ بلوچستان بدامنی پھیلانے کے لیے کیا کیا کرتا رہا ہے۔ افسوس کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ہم نہ جانے کن مصلحتوں کے تحت چپ سادھ رکھی ہے۔
بلوچستان کی محرمیوں سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتایہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہاں کے کچھ لوگ ہمارے سسٹم سے بہت ناراض ہیں۔ لیکن ان بھائیوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان کی محرومیوں کا ازالہ بے گناہ بس مسافروں کو قتل کر کے یا ٹرینوں کو ہائی جیک کر کے ممکن نہیں۔یہ تو انتہائی نامعقول بات ہے کہ اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کے لیے آپ دوسرے علاقوں کے بے گناہ لوگوں کو بے دردی اور بے رحمی سے قتل کرنا شروع کر دیں۔ بندوق اٹھائے اپنے حقوق کی یہ نام نہاد جنگ لڑنے والوں سے یہ سوال بھی کیا جانا چاہیے کہ کسی پنجابی مزدور نے بلوچستان کا کون سا حق مارا ہے؟ یا وہ کون سی سازش یا استحصال  کا حصہ ہے؟۔
ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی دہشت گردی یا قتل و غارت گری کا کوئی نیا واقعہ رونما ہوتا ہے ہمارے حکومتی اہلکار کچھ دن تو بہت بیان بازی کرتے ہیں اور بڑے بلندوبانگ دعوے کرتے ہیں لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد معاملات پھر جوں کے توں ہو جاتے ہیں اور دہشت گردوں کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ مزید کوئی واردات کر سکیں۔ لیکن جن کے پیارے مارے جاتے ہیں، اُن کی زندگی کبھی پہلے جیسی نہیں رہ سکتی۔ جس ماں نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی ہو، وہ زندگی بھر سو نہیں پاتی، جس بچے نے اپنے والد کا چہرہ کفن میں دیکھا ہو، وہ کبھی ہنس نہیں پاتا،جو عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں ان کی آئندہ زندگی انتہائی دشوار گزار ہو جاتی ہے، لیکن شاید قلعہ نما محفوظ گھروں میں رہنے والے اور سکیورٹی کے حصار میں سفر کرنے والوں کو ان تکالیف کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے وہ ان کے تدارک کے لیے کوئی ٹھوس اور جامع حکمت عملی تشکیل ہی نہیں دیتے۔ 
اپنے میڈیا کا حال دیکھیں ۔ اگر اسی قسم کا کوئی واقعہ کسی اور ملک میں ہوجائے، یا کسی خاص مراعات یافتہ طبقہ کے کسی فرد کے ساتھ ہوجائے تویہ دن رات چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیں گے۔ لیکن بے چارے غریب پنجابی مسافروں کے لیے پورے میڈیا پر تقریبا ً خاموشی چھائی رہتی ہے کیونکہ مرنے والے عام لوگ ہوتے ہیں۔
اگر تو اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث لوگ واقعی پاکستانی ہیں تو ہمیں یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ دشمن ہماری صفوں میں گھس چکا ہے۔ وہ ایک سازش اور منصوبہ بندی کے تحت ہمیں آپس میں لڑا رہا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے بدگمان کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے گلے کاٹیں، تاکہ وہ تماشا دیکھے۔ اب اس بات کا دارومدار ہم پر ہے کہ ہم کتنی جلدی اور کتنے موثر طریقے سے اس گھنائونے کھیل کو ناکام بناتے ہیں۔ 
اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ہماری ریاست کو بھی خواب غفلت سے جاگنا ہو گا اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر بہت تگڑے انداز میںان دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈائون کرکے اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہو گا۔ میڈیا پر بیان بازی اور مذمتیں بہت ہو چکیں اب ایکشن کا وقت ہے ہمیں ان تمام لوگوں کو گرفت میں لانا ہو گا جو بے گناہ مسافروں کو بسوں سے اتار اتار کر قتل کرتے ہیں۔ اس قسم کی کارروائیوں کے درپردہ کرداروں کو بے نقاب کرنا ہو گا اور بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے خصوصی کاوشیں کرنا ہوں گی تاکہ وہ لوگ جو بھٹک گئے ہیں انہیں قومی دھارے میں لایا جا سکے۔

ٹیگز: