Wed, September 16, 2026

عرفان صدیقی صاحب یادیں اور باتیں ....!

عرفان صدیقی صاحب یادیں اور باتیں ....!

برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی ، اللہ کریم اُن کے درجات بلند کریں، اس دُنیا سے رُخصت ہو گئے اور اپنے پیچھے اپنے کنبے، گھرانے، لواحقین، قریبی عزیزوں کے ساتھ احباب ، نیاز مندوں ، قدردانوں، عقیدت مندوں، خوشہ چینوںاور بالواسطہ یا بلا واسطہ فوائد سمیٹنے والوں کا ایک بڑا حلقہ بھی چھوڑ گئے ہیں۔ یہ لوگ یا اُن کے قدر دان جن میں میں بھی شامل ہوں اپنے اپنے انداز سے اُن کا ذکر کرتے رہتے ہیںجو اخباری مضامین یا کالموں کی صورت میں یا واٹس ایپ اور فیس بُک میں بنائے گئے کسی گروپ میں سامنے آتا رہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ سب قابلِ قدر اور برادرِ مکرم و محترم عرفان صاحب مرحوم و مغفور کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک سلسلہ ہے۔ تاہم اس میں ایک پہلو قابلِ توجہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کون عرفان صاحب کے کتنا قریب اور کتنا اُس کا عرفان صاحب کے ساتھ گہرا اور دیرینہ تعلق یا واسطہ رہا ہے اور وہ عرفان صاحب کی خلوتوں اور جلوتوں کا کتنا ساتھی رہا ہے اور عرفان صاحب اُس پر کتنا بھروسہ اور اعتماد کیا کرتے تھے۔ اس کی کچھ نہ کچھ اہمیت ضرور ہو سکتی ہے اور میں اگر اپنا حوالہ دوں تو سچی بات ہے کہ مجھے کسی صلے کی پروا ہے نہ ستائش کی تمنا، لیکن بہر کیف میرا اُن کے ساتھ 1963 ءسے 2025 ءتک تقریباً ساڑھے چھ عشروں کا ساتھ کوئی معمولی عرصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس دوران کیا کیا واقعات پیش آئے ، زندگی نے کیسے کروٹیں لیں، عرفان صاحب مرحوم ومغفور جو بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک تھے اور اللہ کریم کی اُن پر کوئی خاص نظرِ کرم تھی کیسے آگے بڑھے اور بڑھتے ہی چلے گئے۔ اعلیٰ تعلیم کا حصول ، ملازمت میں ترقی، شہرت، عزت، ناموری، نیک نامی، خداداد صلاحیتوں کا اعتراف اور قدر افزائی اور اس سے بھی بڑھ کر بہت کچھ ۔۔۔۔ یہ سب مجھے اس پیرانہ سالی کہ میں جو عرفان صاحب سے عمر میں سال سوا سال بڑا ہونے کے ناتے اس دارِ فانی میں زندگی کی تراسی بہاریں گزار چکا ہوں بڑی حد تک اپنی جزوئیات سمیت از بر ہے۔ اس کی بڑی وجہ اللہ کریم نے مجھے اچھی یادداشت دے رکھی ہے ہو سکتی ہے تو اس کے ساتھ عرفان صاحب کے ساتھ جو میری گہری وابستگی تھی وہ بھی اس کا ایک اہم پہلو سمجھا جاسکتا ہے۔ عرفان صاحب بقیدِ حیات تھے تو انہیں اس کا پورا احساس ہی نہیں بلکہ اس کی قدردانی بھی تھی یہی وجہ ہے کہ میرے ساتھ اُن کا برتاﺅ، رویہ یا گفتگو کا انداز اور میل ملاپ خصوصی رنگ روپ لیے ہوتے تھے۔ یہاں میں اس کی ایک مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جولائی 2022 ءمیں ”گریز پا موسموں کی خوشبو“ کے عنوان سے عرفان صاحب کی شاعری کا مجموعہ شائع ہوا تو مجھے یاد ہے کہ عرفان صاحب نے محبی مکرم و 
محترم ڈاکٹر جمال ناصر کی سیٹلائیٹ ٹاﺅن راولپنڈی میں رہائش گاہ پر جہاں ڈاکٹر صاحب محترم نے مختصر حلقہ احباب کے قابلِ قدر ساتھیوں محترم عرفان صدیقی صاحب، عزیزِ گرامی فواد حسن فواد، عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام، محب مکرم و محترم اسماعیل قریشی اور میرے (راقم ساجد ملک) کے اعزاز میں رات کے کھانے کی دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا اپنے شعری مجموعے ”گریز پا موسموں کی خوشبو“ کا ایک ایک نسخہ ہمیں پیش کیا تھا۔ اس وقت میرے سامنے عرفان صاحب کی اپنے دستخطوں کے ساتھ دی ہوئی کتاب کا نسخہ موجود ہے ۔ ذرا ملاحظہ کیجئے کہ عرفان صاحب نے سَر ورق کے اندر پہلے صفحے پر میرے بارے میں کیا لکھا ہے ”برادرِ عزیز و محترم ساجد حسین ملک کی محبت بھری رفاقت کے نام ایک عمر راستوں کی رفاقت میں کٹ گئی ۔۔۔ منزل قریب آئی تو دل ڈوبنے لگا۔ 11 اگست 2022 ءدستخط عرفان صدیقی۔ 
میں نہیں سمجھتا کہ عرفان صاحب نے دیگر احباب خواتین و حضرات کو اپنی شاعری کے مجموعے ”گریز پا موسموں کی خوشبو“ کہ جو نسخے دئیے ، اُن پر اس طرح کے قدر افزائی کے محبت آمیز الفاظ لکھے ہوں گے ۔ خیر بر سبیلِ تذکرہ یہ ذکر آ گیا ورنہ اس سے مجھے اپنی مداح سرائی یا بڑھائی قطعاً مقصود نہیں ۔ عرفان صاحب کے شعری مجموعے کی بات چلی ہے تو نومبر 2022 ءکے تیسرے ہفتے میں اکادمی ادبیات پاکستان میں اس کی تقریبِ رونمائی ہوئی تو مجھے بھی اس میں عرفان صاحب کے اس خوبصورت شعری مجموعے کے بارے میں اظہار خیال کی دعوت ملی۔ اس موقع پر میں نے ایک طول طویل مضمون پڑھا تھا وہ مضمون اور اس تقریب کا احوال جو اُن دنوں روزنامہ نئی بات میں لفظ بہ لفظ چھپا تھا اُسے ان شاءاللہ میں عرفان صاحب کے بارے میں یادوں اور باتوں پر مبنی اپنی زیرِ ترتیب تصنیف میں ضرور شامل کروں گا۔ تاہم یہاں پر اپنے اُس مضمون کا ایک خلاصہ جو بعد میں، میں نے عرفان صاحب کی ہدایت پر انہیں بھجوایا تھا یہاں نقل کرنا چاہوں گا۔
” محترم عرفان صدیقی صاحب کی شاعری کے بارے میں مختصر خیال آرائی کرنے کے لئے سوچ میں پڑا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔ اُن کے شعری مجموعے ”گریز پا موسموں کی خوشبو“ کے نام سے بات شروع کی جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ ایسا خوبصورت ، اچھوتا اوربامعنی نام کہ مجموعے میں شامل نظموں اور غزلوں کی بڑی حد تک عکاسی کرتا لگے ۔ بلا شبہ عرفان صاحب کی شاعری میں تمام موسموں کی خوشبو ہی رچی بسی نہیں ہے بلکہ محبت کے سارے رنگوں کا روپ اور زندگی کے تجربات و مشاہدات اور ٹھوس حقائق کا نچوڑ بھی جھلکتا نظر آتا ہے۔ ان کے شعری مجموعے کی نظموں میں جہاں عشق و محبت کے جذبات کی شیرینی، وصال کی لذتوں اور ہجر و فراق کی کلفتوں کا اظہار پایا جاتا ہے وہاں اس میں شامل غزلوں میں زندگی کے تلخ اور برسرِ زمین حقائق کے بارے میں جذبات ، احساسات اور مشاہدات کا ایسا اظہار سامنے آتا ہے کہ یہ آپ بیتی لگے یا جگ بیتی یا آپ بیتی اور جگ بیتی دونوں لگیں اور ان میں تفریق کرنا آسان نہ ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ شعری حسن میں بھی ذرہ برابر فرق نہ آنے پائے۔ میرے خیال میں عرفان صاحب کی شاعری کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ خواہ اُن کی نظمیں ہوں یا غزلیں ، ان میں خوبصورت الفاظ اور نادر تراکیب ، تشبیہات اور استعارات کا استعمال اس طرح ہوا ہے کہ اس سے جہاں شعری حسن کو چار چاند لگ گئے ہیں وہاں شاعر کی فنی پختگی اور عظمت کا اظہار بھی سامنے آتا ہے۔ مجھے عرفان صدیقی صاحب کی شاعری اور اندازِ سخن کا کسی اور سے موازنہ یا مقابلہ کرنا مقصود نہیں لیکن سچی بات ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اُن کی شاعری فنی پختگی، خیالات کی بلندی اور ندرت ، عشق و محبت کے جذبات کی عکاسی اور نادر اور خوبصورت تراکیب کے استعمال کے لحاظ سے بے مثال سمجھی جا سکتی ہے۔ یہاں میں اُن کی غزل کے ایک شعر کا حوالہ دینا چاہوں گا (اس شعر کا ذکر اُوپر آ چکا ہے کہ عرفان صاحب نے اپنے شعری مجموعے گریز پا موسموں کی خوشبو کا جو نسخہ مجھے دیا اُس پر میرے نام کے ساتھ عرفان صاحب نے یہ شعر لکھا ہوا ہے) اس سے نہ صرف اُن کی شخصیت کا روپ سامنے آتا ہے بلکہ اس میں اُن کی شاعری کا کچھ نہ کچھ عکس بھی جھلکتا ہے۔  اِک عمر راستوں کی رفاقت کَٹ گئی ۔۔۔۔ منزل قریب آئی تو دل ڈوبنے لگا۔ کیا خوبصورت شعر اور محترم عرفان صدیقی صاحب کو میں جس حد تک جانتا ہوں اس کو سامنے رکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی شاعری کے ساتھ اُن کی شخصیت میں بھی اس کا پرتو جاری و ساری نظر آتا ہے۔ جیسے کہا جارہا ہے ، رفاقتیں ، دوستیاں، اُنس، لگاﺅ، محبتیں ، تعلق تعلقات، رشتے ناتے اور جان پہچان سبھی کچھ تھا ہی جن کا زندگی میں انہیں پاس رہا اور انہیں عزیز جانا لیکن اتنا ہی نہیں بلکہ راہیں اور راستے جن پر چلے اور لائحہ عمل اور اندازِ فکر و نظر جو اختیار کیا وہ سبھی کچھ بھی اتنا عزیز رہا کہ ساری زندگی اُس کا پاس کرتے گزر گئی لیکن اتنی قربت کے باوجود پھر بھی اُن کو مکمل طور پر پانے سے گریزاں رہے کہ شاید اتنی ہمت نہیں تھی یا پھر یہ خیال دامن گیر رہا کہ کہیں اپنی یا دوسرے کی پہچان پر کوئی حرف نہ آ جائے“۔ (جاری ہے)

ٹیگز: