Wed, September 16, 2026

غزہ کے لیے ’نیو ورلڈ آرڈر‘: ٹرمپ کے امن بورڈ میں اسرائیل شامل، 19 فروری سے عالمی فوج کی تعیناتی کا آغاز

غزہ کے لیے ’نیو ورلڈ آرڈر‘: ٹرمپ کے امن بورڈ میں اسرائیل شامل، 19 فروری سے عالمی فوج کی تعیناتی کا آغاز

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر ایک بڑی تبدیلی دستک دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ انتظام ’بورڈ آف پیس‘ نے غزہ کے مستقبل کا نقشہ فائنل کر لیا ہے، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی شمولیت نے اس منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والا اجلاس غزہ میں ایک نئی عالمی انتظامیہ اور بین الاقوامی فوج کے قیام کا باضابطہ سنگِ بنیاد رکھے گا۔
اجلاس میں غزہ کو کھنڈرات سے نکالنے کے لیے ایک کثیر ارب ڈالر فنڈ کا اعلان کیا جائے گا جس کی فنڈنگ 20 سے زائد ممالک کریں گے۔ منصوبے کے تحت  اقوام متحدہ کی چھتری تلے ایک ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ (ISF) غزہ میں سیکیورٹی کا چارج سنبھالے گی۔
 متعدد عالمی طاقتوں نے اس امن مشن کے لیے ہزاروں فوجی فراہم کرنے کی حامی بھر لی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا یہ پلان حماس کے لیے ’گاجر اور چھڑی‘ (Carrot and Stick) کی پالیسی پر مبنی ہے۔ ہتھیار پھینکنے اور پرامن بقائے باہمی کا عہد کرنے والے جنگجوؤں کو عام معافی دی جائے گی۔ غزہ چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو محفوظ راستہ (Safe Passage) دے کر دیگر ممالک منتقل ہونے کی سہولت دی جائے گی۔
 تاہم، حماس نے ان تمام پیشکشوں کو اسرائیلی قبضے کے مکمل خاتمے تک ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی بریفنگ دی جائے گی کہ کس طرح ایک غیر سیاسی ’قومی کمیٹی‘ غزہ کی سول انتظامیہ، پولیس اور انسانی امداد کی ترسیل کا انتظام سنبھالے گی۔ اس کا مقصد اسرائیلی فوج کے انتظامی بوجھ کو ختم کر کے مقامی اور عالمی نظم و نسق قائم کرنا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی، لیکن حماس کی مزاحمت اور زمینی حقائق اب بھی بڑے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

ٹیگز: