Wed, September 16, 2026

یوم آزادی اورعام آدمی

 یوم آزادی اورعام آدمی

آزادی کی قدر یقینا پاکستان کی ونسل ہم سے بہترجانتی تھی جس نے اس خطہءزمین کی خاطراپنا سب کچھ قربان کردیا ۔پاکستان وہ خواب ہے جو مشرقی پنجاب کی خود رو جھاڑیوں میں الجھے ہوئے چاندنی سے پاک اورغلاف کعبہ سے مقدس تارتارآنچلوں نے دیکھا ۔وہ خواب جو امرتسر اسٹیشن پر مرنے والوںکی آدھ کھلی آنکھوں یا اپنی ناموس بچانے کیلئے جان دینی والی بیٹیوں کی آخری چیخ میں تھا ۔ جس کیلئے ماﺅں نے بیٹوں ¾ بہنوں نے بھائیوں اور بیویوں نے شوہروں کی موت پرماتم کرنے کے بجائے اُس مقدس خواب کی تعبیر اِس ارض پاک کی سرزمین پرسجدہ کیا ۔پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ یہ ہماری سب سے بڑی اورپہلی کامیابی تھی لیکن آزادی کے باوجود عام آدمی کو وہ معاشی، سماجی اور سیاسی آزادی پوری طرح حاصل نہ ہو سکی جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے اس نیم مردہ قوم کو دکھایا تھا ۔پاکستان کے معرض ِوجود میں آتے ہی قائد کے سپاہیوں اوراقبال کے شاہینوں نے اِس ریاست میں بسنے والوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو ایک فاتح سپاہ مفتوح کے ساتھ کرتی ہے ۔پاکستان اپنے ابتدائی مسائل سے انتہائی مسائل کی طرف گامزن ہو گیا ۔کبھی مہاجرین کامسئلہ تھا اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ مہاجر خو د مسئلہ بن گئے ۔جمہوریت کے نام پرجمہوری طریقے سے حاصل کیا گیا پاکستان بعد ازاں نالائق سیاستدانوں کی تجربہ گا ہ بن کر رہ گئی ۔جمہوری پاکستان میں پہلا قومی جنرل الیکشن 1970 ءمیں ہوا یعنی پاکستان بننے کے تئیس سال بعد لیکن صرف ایک ہی سال میں ملک بھی دولخت ہوگیا ۔بچے کچھے پاکستان میں متعدد بار جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں، انتخابات ہوئے اور عوام نے اپنے نمائندے منتخب کیے لیکن جمہوری تسلسل بار بار بچپن کی دوستی کی طرح ٹوٹتا رہااوربنتا رہا ¾ مارشل لا آئے اور منتخب ادارے کمزور ہوتے رہے۔قائد کا پاکستان متفقہ آئین کے بغیر چلتا رہا لیکن آخر کار آدھے سے زیادہ پاکستان کھوکر ہم نے پورا متفقہ آئین 1973ءمیںحاصل کر لیا جو آج تک 27 ترامیم کے باوجود ریاستی نظام کی بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے اورجس نے حقیقت میں پاکستان کو اکائی کی صورت میں باندھ رکھا ہے۔المیہ یہ ہو ا کہ آئین موجود ہونے کے باوجود ہم اس کی روح کے مطابق اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن ہمیشہ برقرار نہ رکھ سکے۔جس کی وجہ سے ادارے کمزور اورنافرمان ہوتے چلے گئے۔پاکستان ایک مضبوط دفاعی قوت اور ایٹمی طاقت بنا جس نے ملک کی سلامتی اور دفاعی خودمختاری کو مضبوط کیامگر دہشت گردی، انتہاپسندی اور طویل جنگوں نے ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں لیں اور ملکی معیشت کو اتنا بھاری نقصان پہنچایا جو لڑی جانےوالی جنگوں سے کہیں زیادہ نہ قابل برداشت اورناقابل فہم ہے۔پاکستان نے زراعت، صنعت، بینکاری، ٹیلی کمیونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور برآمدات سمیت کئی شعبوں میں ترقی کی لیکن مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں، توانائی کے بحران اور کمزور معاشی پالیسیوں نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی۔ملک میں یونیورسٹیوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں کا بڑا نیٹ ورک قائم ہوا اور لاکھوں پاکستانی اعلیٰ تعلیم تک پہنچے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں اور معیارِ تعلیم میں طبقاتی فرق نے معاشرے کو جڑوں سے ہلا کررکھ دیا ہے۔بلاشبہ پاکستان نے بڑے سرکاری و نجی ہسپتال، میڈیکل یونیورسٹیاں اور جدید طبی سہولیات پیدا کیںمگر غریب پاکستانی کے لیے معیاری علاج آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صحت کا نظام عام آدمی کی ضروریات پوری کرنے میں مکمل ناکام ہوچکا ہے۔موٹرویز، میٹرو بس، اورنج لائن، ایئرپورٹس، ڈیمز اور بڑے ترقیاتی منصوبے پاکستان کے انفراسٹرکچر میں نمایاں اضافہ ہیں لیکن اس ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں کیوں نہیں پہنچ سکے ¾ امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی چلی گئی اور بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون، انٹرنیٹ، فری لانسنگ، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل معیشت نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے لیکن پاکستان کی سب سے بڑی طاقت یعنی نوجوان آبادی کو مناسب روزگار، تربیت اور مواقع نہ ملنے کے باعث بڑی تعداد جائزناجائز ہرطریقے سے یورپ پہنچنے کی تاک میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز المیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان نے دنیا کی بڑی طاقتوں اور مسلم ممالک کے ساتھ اہم سفارتی تعلقات قائم کیے اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بھی بنائی مگر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ بعض اوقات ہماری خارجہ پالیسی داخلی سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوریوں سے متاثر ہوئی جس سے خارجہ فیصلوں میں خودمختاری کا سوال اٹھتا رہا۔کشمیر پاکستان کی قومی ترجیحات میں مسلسل موجود رہا اور پاکستان نے عالمی سطح پر کشمیری حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی لیکن اُسی کشمیرکے ایک حصے کو بھارت نے ایک آئینی شق کی تبدیلی سے ریاست ہندوستان کا آئینی حصہ بنا لیا گوکہ یہ مضحکہ خیز حرکت ہے لیکن اُس وقت کے وزیر اعظم کوسانپ سونگھ گیا اورکسی نے اونچا سانس بھی نہیں لیا ۔ مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے اور کشمیری عوام کی طویل جدوجہد کا کوئی حتمی سیاسی حل سامنے نہیں آ سکا۔پاکستان نے اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور دیگر ثقافتوں کے ذریعے ایک بھرپور تہذیبی شناخت برقرار رکھی لیکن لسانی، فرقہ وارانہ، سیاسی اور صوبائی تقسیم نے قومی یکجہتی کو کئی مواقع پر شدید نقصان پہنچایااورکوئی قومی ثقافت عالمی سطح پر ابھر کر سامنے نہ آ سکی ۔کرکٹ، ہاکی، اسکواش، اسنوکر، کبڈی اور دیگر کھیلوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر شاندار کامیابیاں حاصل کیں لیکن کمزور سیاسی وغیر سیاسی حکومت کی وجہ سے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے، ادارہ جاتی منصوبہ بندی اور مستقل پالیسی کے فقدان نے کئی شعبوں میں ہماری کارکردگی کوبرباد کرکے رکھ دیا ۔خواتین نے تعلیم، سیاست، طب، صحافت، عدلیہ، کاروبار، کھیل اور دیگر شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیامگر آبادی کے اس بڑے حصے کو اب بھی مساوی مواقع، معاشی خودمختاری اور فیصلہ سازی میں مطلوبہ نمائندگی حاصل نہیںاورخواتین کے حوالے سے بڑھتے ہوئے جرائم گزشتہ دہائیوں کی بلند ترین سطع پرہیں ۔پاکستانی عوام نے مشکل ترین حالات میں بھی ملک کو سنبھالا، ٹیکس دیے، فوج میں خدمات انجام دیں، بیرونِ ملک محنت کی اور ہراندرونی اوربیرونی بحران میں ریاست کا ساتھ دیا۔سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جس پاکستان کے لیے عوام نے قربانیاں دیں، کیا اس پاکستان میں عام پاکستانی کو عزت، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت اور سستا و محفوظ مستقبل میسر آ سکا؟79 سال بعد اصل حساب یہ نہیں کہ پاکستان نے دنیا میں کیا مقام حاصل کیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے عام شہری نے ان برسوں میں کیا پایا؟ہم نے ملک تو حاصل کیا لیکن کیا ہمیں خوشحال معاشرہ بھی ملا؟ہم نے ایٹمی طاقت پائی مگر کیا ہر شہری کو معاشی طاقت ملی؟ہم نے بڑے بڑے شہر بنائے مگرکیا یہاں بسنے والے خوشخال ہوسکے؟ہم نے جمہوریت کے نعرے سنے مگرعام آدمی نے تو منتخب ایوانوں میں کیا پہنچنا تھا اُن کی آواز بھی اِن ایوانوںکے نزدیک نہیں پہنچی؟یہی ہے پاکستان کے 79 سال کا اصل سوال ہے کہ ہم نے بہت کچھ حاصل کیا لیکن کیا پاکستانی عوام نے وہ پاکستان حاصل کیا جس کا خواب کبھی دیکھا گیا تھا؟

ٹیگز: