Wed, September 16, 2026

بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا یوم سیاہ، آزادی کا مطالبہ

بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا یوم سیاہ، آزادی کا مطالبہ

مظفرآباد : آج بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیری دنیا بھر میں یوم سیاہ منا رہے ہیں تاکہ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اپنی آواز بلند کر سکیں۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف اور دیگر ممالک میں کشمیری اس دن کو احتجاج کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ بھارت کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دینے سے انکاری ہے اور وہ جمہوریت کے بجائے جارحیت پر عمل پیرا ہے۔

آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں بھارت مخالف احتجاج اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس اور پاسبان حریت سمیت مختلف تنظیمیں کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ ان ریلیوں کا مقصد بھارت کے قبضے کی مخالفت اور کشمیریوں کے حق آزادی کی حمایت کرنا ہے۔

بھارت نے اپنے یوم جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں سخت سیکیورٹی اقدامات کیے ہیں۔ پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور سیکیورٹی کے نام پر مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ بھارتی فورسز کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے، اور عوام کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کا استعمال کر کے کشمیریوں کی نگرانی کی جا رہی ہے، جس سے ان کی روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

گزشتہ سات دہائیوں میں بھارت نے 5 لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا، اور حالیہ 36 برسوں میں آزادی کی آواز اٹھانے والے 96 ہزار 481 کشمیریوں کو قتل کر دیا گیا۔ ان برسوں کے دوران لاکھوں کشمیری یتیم ہوئے، ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں اور ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس دوران کشمیریوں کی نجی املاک بھی تباہ کی گئیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت جعلی ڈومیسائل کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارت کو کشمیریوں کے حقوق دینے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے۔

ٹیگز: