Wed, September 16, 2026

امریکہ اور غریدہ 

امریکہ اور غریدہ 

پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ناکامی سے زیادہ غریدہ فاروقی کے ڈریس کا موضوع اہم ہو گیا ہے، بیرون مُلک بیٹھے ایک ”شرپسند“ صاحب فرما رہے تھے ”غریدہ فاروقی نے بہت عجیب و غریب لباس پہنا ہوا تھا“، میرے خیال میں اپنی شخصیت اور شہرت کے مطابق اُنہوں نے بالکل ٹھیک لباس پہنا ہوا تھا، عجیب و غریب لباس ہم اُسے تب قرار دیتے اگر وہ پورے مشرقی لباس میں ہوتیں، سر پر چادر یا دوپٹہ بھی ہوتا، کسی انسان کا یہ ذاتی معاملہ ہوتا ہے وہ کس طرح کا لباس پہنے یا بالکل ہی نہ پہنے، کسی کو کسی کا لباس بُرا لگتا ہے وہ دیکھتا کیوں ہے؟ کسی کے لباس کے اندر باہر پوری تانک جھانک کرنے کے بعد بجائے اس کے لباس کی سہولت کاری کی ہم تعریف کریں اُلٹا تنقید شروع کر دیتے ہیں، عقل کے اندھوں کو شاید معلوم نہیں غریدہ جی پر تنقید کے ویسے ہی نقصانات اُٹھانا پڑ سکتے ہیں جیسے کچھ لوگوں کو نو مئی کے سانحے کے اُٹھانا پڑے، غریدہ جی کی یہ ”قومی خدمت“ کم ہے وہ دُنیا کو بتا رہی تھیں ”مقام مذاکرات پر کھانے و پینے پلانے کی اشیاءوافر مقدار میں موجود ہیں، وائی فائی کی سہولت بھی ہے“، شُکر ہے اُنہوں نے دیگر میسر سہولیات کا ذکر نہیں کر دیا ورنہ مسائل کپڑوں سے مزید باہر آ جاتے، ہماری پشتو فلموں کی ایک اداکارہ مسرت شاہین ایک زمانے میں بڑی مشہور تھیں، وہ کسی تقریب میں آتے ہوئے اچھی لگتی تھی جاتے ہوئے بہت اچھی لگتی تھی، وہ اداکاری چھوڑ کر سیاست میں آگئی، پھر اُن کی وجہ شہرت ”مال آنا فضل الرحمان“ کے مقابلے میں الیکشن لڑنا بن گئی، ایک بار الیکشن سے پہلے اُنہوں نے اپنے اثاثے ڈکلیئر کیے، یہ خبر شائع ہوئی، میں نے اپنے ایک کالم میں لکھا ”مسرت شاہین ہماری واحد سیاستدان ہے جو اپنا کوئی اثاثہ نہیں چُھپاتی“، یہ بات غریدہ فاروقی جی کے لیے ہم اس لیے نہیں کہہ سکتے ایک تو وہ الیکشن نہیں لڑتیں دوسرے اُن کا تعلق ہماری اپنی برادری سے ہے، میں بس آخر میں اُن سے ایک گزارش بس ایسے ہی اپنا منہ و دیگر اعضاءوغیرہ چُک چُکا کے یہ کرنا چاہتا ہوں ”فضول قسم کی بکواسیات کو نظر انداز کر کے ایسے ”سبز ہلالی لباس“ پہنتی رہا کریں، یقین کریں یہ صحافت سے بڑی خدمت ہے جو وہ معاشرے کی کر رہی ہیں“، جہاں تک اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے بیچ ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا تعلق ہے یہ ناکامی طے شدہ تھی جس کا ادراک ٹرمپ پسند پاکستانی حکمرانوں کو بھی یقینا ہو گا، اس کے باوجود پاکستان نے دونوں مُلکوں کو ایک میز پر بٹھا کر جو کارنامہ کیا وہ تاریخ میں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد رکھا جائے گا، پاکستان نے صلح صفائی کی ایک بھرپور کوشش کی جو امریکہ کی روایتی ہٹ دھرمی سے فی الحال ناکام ہو گئی، ممکن ہے آگے چل کے پاکستان اپنی کسی خاص حکمت عملی کے تحت امریکہ کو ایک بار پھر مذاکرات کے راستے پر واپس آنے پر مجبور کر دے، چاہے امریکہ کے کہنے پر ہی کر دے، ابھی بظاہر یہی نظر آ رہا ہے امریکی صدر ٹرمپ تباہی کا راستہ اپنانے پر ڈٹا ہوا ہے، میں بارہا عرض کر چکا ہوں وہ ایک انتہائی غیر مستقل مزاج پاگل شخص ہے جو اپنے کہے پر قائم رہتا ہے نہ ہی اُس سے خیر کی کوئی توقع ہے، ایران کو چھوڑیں خود امریکہ کے لیے اُس کی بعض پالیسیاں انتہائی نقصان دہ ہیں، پاکستان کو بھی کئی طرح کی آزمائشوں اور مُشکلوں میں اُس نے ڈالا ہوا ہے، پاکستان کو ان آزمائشوں سے نکلنے کے لیے بڑی سمجھداری سے کام لینا پڑے گا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جاتے جاتے اپنی مختصر ترین پریس کانفرنس میں کہا ”مذاکرات میں بیشمار نکات پر اتفاق ہو گیا تھا“، یہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے ، بقول امریکی نائب صدر امریکہ کے صرف اس ایک مطالبے پر اتفاق نہیں ہوا ”ایران اپنا ایٹمی پروگرام فوراً ملتوی کر دے“، اس مطالبے پر اتفاق ہونا بھی نہیں تھا، یہ مطالبہ ایران سے کئی بار کیا گیا، اس کے بدلے میں اُسے بیشمار فوائد کی آفرز بھی کی گئیں مگر ایران اپنے مو¿قف پر ڈٹا ہوا ہے جو اُس کا حق ہے، امریکہ سمیت کئی ممالک اپنی سالمیت کے لیے جدید ہتھیار و ٹیکنالوجی بنا سکتے ہیں ایران کو اس سے کیوں روکا جاتا ہے؟ ایٹمی قوت پاکستان بھی ہے، اس لحاظ سے کم از کم پاکستان امریکہ کی اس شرط کی حمایت نہیں کر سکتا کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر دے، ہاں کچھ ایسے معاملات ضرور طے کیے جا سکتے ہیں کہ ”ایٹمی قوت بننے کے بعد ایران کسی صورت میں اپنی حدود کراس نہیں کرے گا“، پاکستان سمیت دیگر کچھ ممالک کو اس بات کا گارنٹر بھی بنایا جا سکتا ہے، بہرحال امریکہ کو پتہ چل گیا ہے ایران کو زیر کرنا ناممکن ہے، اسی لیے ٹرمپ جیسے خونخوار کو نہ چاہتے ہوئے بھی مذاکرات کی میز پر آنا پڑا اور پندرہ روزہ جنگ بندی قبول کرنا پڑی، مذاکرات قبول کرنا ایران کے لیے زیادہ مُشکل تھا، وہ اپنی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہ کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے، مگر اُس نے اپنے دوست پاکستان کی بات مان لی، ایران کی بہترین قیادت شہید ہو گئی، اُس کا وہ بہترین راہنما بھی شہید ہو گیا جس نے اپنی قوم کو دلیری کا راستہ دکھایا، اگر یہ سارے نقصانات ایران نے برداشت کر لیے ہیں اب ان کے مقابلے میں بڑے سے بڑا متوقع نقصان اُس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ایرانی قوم اپنے لیڈروں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے، یہ سہولت ٹرمپ کو میسر نہیں ہے، ایٹمی قوت سے بڑا ہتھیار ایران کے پاس اللہ پر یقین کامل کا ہے، حق اور باطل کی جنگ میں فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے، ان حالات میں ایران امریکہ کی ناجائز شرائط کیوں مانے گا؟ ایران امن چاہتا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت مذاکرات کے لیے اُس کا پاکستان آنا ہے، مگر اپنی سالمیت، عزت آبرو اور وقار داو¿ پر لگا کر امریکہ کی کوئی شرط قبول کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا، امریکہ کے پاس اب بھی وقت ہے مذاکرات کی طرف لوٹ آئے، جتنا نقصان اپنے سُپر پاور ہونے کی شہرت کو وہ پہنچا چکا ہے اُس پر اکتفا کر لے، پاکستان نے فیس سیونگ کا ایک راستہ اگر اُسے دکھا ہی دیا ہے اُس پر مزید چُوں چراں نہ کرے، ایران تو اپنی آئی پر آیا ہوا ہے یہ نہ ہو پھر پاکستان بھی آ جائے۔

ٹیگز: