یہ بات واضح اور طے تھی کہ چالیس سالہ بد ترین دشمنی اور سفارتی دوریاں ایک دن کی نشست میں نہ ختم ہوں گی اور نہ کوئی ایسا بڑا بریک تھرو ہو گا جس سے جنگ ختم ہو جائے اور اس کے اثرات مندمل ہو جائیں۔ مذاکرات کی میز پر آنا ہی دراصل وہ کامیابی تھی جس سے مستقبل کی راہوں کا تعین ممکن تھا۔ جو لوگ مذاکرات کی ناکامی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں اور دراصل بغض پاکستان میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ ان کی بلا سے دنیا تباہ ہو جائے مگر پاکستان بارے کوئی خیر کی بات نہ ہو ان کیلئے عرض کیے دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا ہے اور پاکستان کی قیادت کی دور اندیشی، قائدانہ صلاحیتوں اور دنیا میں امن قائم کرنے کی خلوص دل اور نیت سے کی گئی کاوشوں کو ساری دنیا سراہ رہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ہر بات کا آغاز پاکستان اور اسلام آباد سے شروع ہوتا ہے اور اسلام آباد ٹاک پر بات ختم ہوتی ہے۔ سبز ہلالی پرچم کی شان میں ناقابلِ بیان حد تک اضافہ ہوا ہے۔ دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ گزشتہ ہفتے سے پاکستانی پاسپورٹ ٹاپ ٹرینڈ بن کر سامنے آیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان سرخرو مگر کیسے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے براہ راست سفارتی تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے نہ صرف منقطع تھے بلکہ کچھ عاقبت نااندیش دوست نما دشمنوں کی وجہ سے ہر وقت جنگ کے خطرات کی زد میں تھے۔ پاکستان نے اس آگ کو نہ صرف ٹھنڈا کیا بلکہ حالیہ جنگ کو بھی وقتی طور پر ٹال دیا۔ یقینا دو ہفتے کی جنگ بندی سے دونوں فریقین کو سوچنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی اور دونوں ممالک کی حکومت اور عوام جنگ کے اثرات سے متاثر ہیں۔ ایسے میں کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکلے گی اور اس سب کا کریڈٹ پاکستان کو ہی جائے گا۔ پاکستان کی قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس سٹاف سید عاصم منیر، وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف ، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ڈی جی آئی عاصم ملک یہ وہ لوگ ہیں جن کی انتھک محنت، لگن اور عزم نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹا دیا ہے۔ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی سازشیں ناکام ہوئیں، ریٹنگ کی دوڑ میں جھوٹ اور سنسنی خیزی پھیلانے والے سوشل میڈیائی دانشوروں اور بھگوڑے یو ٹیوبروں کی خواہشات کے بر عکس الحمدللہ اسلام آباد مذاکرات ہوئے، ایران اور امریکہ کی اعلیٰ ترین قیادت پاکستان آئی اور چالیس سال بعد ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھی۔ یقینا طاقت اس وقت سب سے بڑی دلیل ہے مگر جنگیں کسی بھی صورت جیتی نہیں جا سکتیں۔ تجربات یہی بتاتے ہیں کہ جنگ کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے اور وہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ امریکہ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے کہ ویت نام سے افغانستان اور اب ایران کی جنگ کے کیا بھیانک نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ان کے اثرات مستقبل میں کیسے امریکہ سمیت دنیا کو متاثر کریں گے۔ اسی طرح ایران جو کہ یقینایک بہادر، نڈر اور پُر عزم قوم ہے اس نے کس حد تک قربانی دی ہے۔ اپنی اعلیٰ قیادت کی شہادت سے لیکر معصوم بچوں کی قابلِ افسوس اور المناک شہادت تک کیا کچھ قربان نہیں کیا۔ ملک کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ حال ہے تاہم ایرانی قوم عزم و ہمت اور استقامت کا استعارہ بن کر کھڑی ہے مگر جنگ کے اثرات سے متاثر تو ہے۔ واضح رہے کہ یہ صرف دو ممالک کی جنگ تو نہیں ہے۔ پورا مشرق وسطیٰ اس سے متاثر ہے، یورپ، روس، برطانیہ سمیت چین براہ راست متاثرین میں شامل ہیں۔ دنیا بھر کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اگر یہ جنگ بندی نہ ہوتی اور بات روایتی جنگ سے آگے نکل جاتی تو اس کے اثرات کیا ہوتے یہ سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں بات کی جائے تو زمینی حقائق یہی ہیں کہ تیسری عالمی جنگ کا میدان تیار ہے۔ تیل و گیس کے ذخائر اور وسائل پر قبضے کی آڑ میں دنیا کی بربادی اور انسانیت کی تباہی ایک بٹن دبانے کی دوری پر ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے وہ مقام اور مرتبہ عطا کیا ہے کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے ثابت کیا یے کہ ہم کم وسائل ہیں، ہماری معیشت تباہ اور زبوں حالی کا شکار ہے مگر ہم صاحب بصیرت ہیں۔ ہم دنیا کو اپنے شعور اور امن کی ترغیب سے قائل کر کے امن کے سفیر کی صورت محبت کا پیغام دیں گے اور پاکستان کی قیادت نے ایسا ہی کیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وزارتِ خارجہ اور وزیراعظم ہاو¿س میں ایسے ایسے ممالک کے ٹیلیفون آئے کہ یقین جانئے دنیا کے نقشے پر دیکھنا پڑا کہ یہ ممالک کس براعظم میں ہیں۔ دنیا بھر سے وزیراعظم پاکستان کو خیر سگالی پیغامات ملے، دنیا بھر کی اعلیٰ قیادت نے امن قائم کرنے کی کاوشوں کو سراہا اور مبارکباد پیش کی۔ ایسے میں بھارت اور اس کی پراکسی جن میں چند ملک دشمن مادر فروش یو ٹیوبرز جو پاکستان سے بھاگ گئے ہیں ان کے سینے پر مونگ دلی جا رہی ہے۔ انہوں نے مذاکراتی عمل کو ہر طرح سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کی اور الحمدللہ عوام میں ان کی اصلیت ابھر کر سامنے آ گئی ہے۔ خراج تحسین پیش کرتے ہیں وزارت اطلاعات و نشریات اور اس کے انچارج قابل، سفارتی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور معاملات کی حساسیت کو سمجھنے والے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو جنہوں نے شبانہ روز محنت سے ایسا میدان سجایا کہ دنیا بھر کا میڈیا داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔ وزارتِ اطلاعات بالخصوص بدر شہباز وڑائچ اور ان کی ٹیم جس میں مدیحہ عابد علی جیسے پڑھے لکھے باشعور نوجوان جن کا ہر قدم پاکستان کیلئے اٹھتا ہے موجود ہیں اور انتھک محنت سے یہ ٹیم پاکستان کی حقیقی سفیر بن چکی ہے۔ ہر پاکستانی کو اپنی قیادت پر فخر ہے۔ پاکستان جنگ آلود گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا اور بارود کی تاریکی میں روشنی کا استعارہ بن کر ابھرا ہے۔ ہماری قیادت نے یہ ثابت کیا ہے اگر صدق دل سے کوشش کی جائے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان نے دنیا میں امن کا پرچم بلند کر دیا ہے، ساری دنیا اس وقت پاکستان کی ہم آواز ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کبھی ناکام نہیں ہوتے بلکہ یہ نئی راہوں کا تعین کرتے ہیں۔ یہی بات امریکہ اور ایرانی مذاکراتی ٹیم نے بھی کہی ہے۔ وقتی تعطل آنے والے دنوں میں دور ہو جائے گا اور پاکستان اپنے امن مشن میں کامیاب ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں فریقین سخت مو¿قف سے پیچھے ہٹ کر امن کو راستہ دیں۔ زیادہ تر معاملات پر اتفاقِ رائے ہے ایک دو نقاط پر بات کی جا سکتی ہے۔ کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔ بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے۔ یقینا دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیمیں اپنی اعلیٰ قیادت کو اعتماد میں لیکر نئے سرے سے بھرپور توانائی کے ساتھ پھر آمنے سامنے بیٹھ کر جنگ کے خطرات کو ہمیشہ کیلئے دور کریں گے اور آدھی سے زیادہ دنیا کو تباہی سے بچائیں گے۔ پاکستان اور پاکستان کی قیادت ذرائع کے مطابق اب بھی سرگرم عمل ہیں اور بہت جلد اپنے امن مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پُر عزم ہے۔