چولستان کیلئے تعمیر ہونے والی نہر کا معاملہ ٹھپ ہوگیا۔سندھی قوم پرستوں کے اتحاد جی ڈی اے نے ساڑھے تین ماہ سے زائد ہوئے ’دریائے سندھ کا پانی چوری کیا جائے گا‘ کے خدشاتی بیانیہ پر بھر پور مہم چلائی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقار جونیئر کے ہم دوش ہو کر اس مہم کو آگے بڑھایا۔ سندھ میں ’لٹ گئے‘ کی تصوراتی فضا پید اکی لیکن پیپلز پارٹی نے جھپٹامارا اور اس فضا سے حاصل ہونے والے ثمرات کو بڑی ہنر مندی سے سمیٹ لیا۔ اب بلاول نے سندھو بچالیا کی فضا پیدا کرنے کیلئے سندھ حکومت کی جانب سے پورا زور لگایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف سولہ سترہ دن شاہراہ بند کر کے وکیلوں نے ملکی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچانے کی عملی کوشش کی۔ تعلیم یافتہ طبقہ کی شہرت رکھنے والوں سے ایسی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ پیپلز پارٹی کے بعد نہروں کا منصوبہ بند کرانے کے دعویدار وکیل بن گئے۔ ساڑھے تین ماہ سے زائد مہم چلانے والے قوم پرستوں کے ساتھ جو ہوا اس پر بھگت کبیر کا یہ کہنا یاد آیا
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
سوال پیدا ہوتا ہے کیا نہروں کا منصوبہ بند کرانے کا کریڈٹ لے کر پیپلزپارٹی نے تاریخی سیاسی فتح حاصل کی ہے یا اپنی قومی سطح کی سیاسی قوت سے گر کر ایاز لطیف پلیجو،نادر مگسی، زین شاہ اور پیر پگارا کی قوم پرست پارٹیوں کی سطح پر لے آئی ہے۔ جس طرح بلاول سمیت پیپلز پارٹی کے ہر لیڈر بشمول وزیر اعلیٰ سندھ نے سندھو، سندھو، (دریائے سندھ کا نام) کی رٹ لگائی وہ سندھی قوم پرستوں سے آگے نکل گئی لیکن قومی سیاست میں بہت پیچھے رہ گئی۔ کیونکہ پنجاب جیسے بڑے صوبہ کو مخالف ہونے کا تاثر دیا ہی نہیں بلکہ پنجاب کے ایسے منصوبے کو ناکام بنانے کا عملی مظاہرہ اور دعویٰ کیا جس کیلئے دریائے سندھ کا ایک قطرہ نہیں لیا جانا تھا اور محض سیلابی پانی سے چولستان کی ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب ہو کر پنجاب کی زرعی اجناس میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے اس طرح پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنا لیا ہو لیکن پنجاب میں نا پسندیدگی کی نا محسوس فضا پیدا کر دی ہے۔ پنجاب نے اس زیادتی پر اگر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تو یہ خاموشی اپنے صوبائی مفاد کے حوالے سے بے حسی نہیں اندر ہی اندر سلگنے والا لاوا بھی ہو سکتا ہے جو فوری طورپر آتش فشاںاس لئے نہیں بنا کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے محب پاکستان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پنجاب میں ماحول کو ٹھنڈا رکھا کیونکہ اگر سندھی مفاد کے مقابلے میں پنجاب مفاد کے تحفظ کیلئے پنجاب اٹھ کھڑا ہوتا تو یہ وفاق یا ملکی بقا و استحکام کیلئے سنگین مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا۔مریم نواز یہ نعرہ لگا سکتی تھیں کہ پانی ہمارا ہے۔ ہماری زمین کیلئے استعمال ہونا ہے۔ سندھی اعتراض کرنے والے کون ، لیکن مریم نواز نے پنجاب نہیں پاکستان کی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا۔
دریں اثنا، وزیر اعظم شہباز شریف نے سیاست نہیں ریاست کے اپنے نظریے کو ایک بارپھر زندہ کیا۔ سندھ کے پیدا کردہ حالات کے پیش نظر طے شدہ 2 مئی کی بجائے 28 اپریل کو ہی مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر مستقبل میں نہری منصوبوں کو صوبوں کے اتفاق رائے سے بنانے یا آگے بڑھانے کا راستہ کھول دیا ہے۔ اس طرح ایک خاص مدت کے بعد چولستان نہر جس کا چالیس فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ، تکمیل کی منزل تک پہنچنے کے امکانات معدوم نہیں ہوئے۔
سندھ میں اپنی فتح کے جھنڈے لہرانے کے بعد بلاول مختلف شہروں میں جلسوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جن میں سندھی عوام کو باور کرایا جا رہا ہے کہ بلاول نے ان کا پانی بچا لیا ورنہ وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے مل کر سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ ساتھ ہی بلاول پنجاب کے لوگوں کو چکمہ دینے کیلئے یہ دعویٰ بھی کر رہا ہے چولستان نہر کا منصوبہ ختم کرا کر پنجاب کے کسانوں کو بھی تباہی سے بچالیا گیا ہے کیونکہ چناب اور جہلم کا پانی اس نہر کو دیا جانا تھا۔ جس سے پنجاب کے کئی اضلاع میں کسانوں کیلئے مسائل پیدا ہو جاتے۔ دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کیا پنجاب حکومت اس قدر نا سمجھ ہے کہ چولستان کی ویرانی ختم کرنے کیلئے خود ہی پنجاب کو ویرانی کا شکار کر دیتی تو کیا ایسی حکومت اپنا وجود برقرار رکھ سکتی۔ یہ دراصل پنجاب کے کسانوں کو ورغلانے کی کوشش ہے۔ پنجاب سے چودھری منظور حسن مرتضیٰ اور ندیم افضل چن جیسے لوگوں نے بلاول کی ہمنوائی کر کے پارٹی سے وفاداری کا ثبوت تو دیا مگر پنجاب کو بلا جواز ملنے والی گالیوں کو جواز بخشا ہے۔ ایک طرف سندھ میں پیپلز پارٹی کے جلسوں میں پنجاب پر سندھ کا پانی چوری کرنے کے الزامات لگائے جا ئیں اور پنجاب سے اس کی حمایت میں آواز اٹھے تو پنجاب کو مجرم گردانا جانے کا جواز ہی بنتا ہے۔
پیپلز پارٹی نے بلاشبہ صوبائی سیاست میں خود کو اس خطرہ سے ضرور بچا لیا ہے جو قوم پرستوں نے بھرپور مہم چلا کر اس کے لئے پیدا کر دیا تھا لیکن خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور بالخصوص پنجاب میں اپنی سیاست کو نقصان سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ ان نہروں کے منصوبے سے بلوچستان کے کئی علاقے اور خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان سے بنوں، کرک، لکی مروت سمیت کئی علاقوں کی ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب ہو کر زرعی اجناس میں خود کفالت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آصف زرداری کی آخری خواہش بلاول کو وزیر اعظم بنانے کی ہے تو بلاول نے خود کو سندھ کے مفاد کا محافظ ثابت کر کے اس خواہش کی تکمیل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے جبکہ اسے چاہیے تھا وہ ڈٹ کرقوم پرستوں کا مقابلہ کرتا ان کے مؤقف کے ساتھ بہنے کی بجائے قومی لیڈر کے طورپر ان کے مؤقف کو غلط ثابت کرنے کی مہم چلاتا۔
مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس مقررہ تاریخ سے پہلے طلب کر کے سندھ میں پیدا کردہ صورتحال کو معمول پر لانے اور ملکی معیشت اور عوام کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے پر سندھ ن لیگ کے صدر بشیر میمن نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا میں اپنے قائد میاں نواز شریف کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی ہدایت پر وزیر اعظم نے یہ عوام دوست قدم اٹھایا ہے۔ جناب بشیر میمن نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حب الوطنی، عوامی بھلائی کے جذبہ اور سب سے پہلے پاکستان ، کی حقیقی سوچ کو سراہتے ہوئے پنجاب میں ہر طبقے کیلئے تاریخی اقدامات کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی شاندار کارکردگی سے پورے پاکستان اور بالخصوص ن لیگ سندھ کے کارکنوں کو فخرآمیز اعتماد ملا ہے اور سندھ بھر میں ورکرز کنونشنوں کے ذریعہ مریم نواز کے تاریخی اقدامات کو اجاگر کیا جارہا ہے۔