واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے چین سے آنے والی کئی اہم الیکٹرانک اشیاء کو اضافی ٹیرف سے وقتی چھوٹ دے دی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے ایک نوٹس میں سامنے آیا ہے۔
ان اشیاء پر اصل میں 145 فیصد اضافی ٹیرف لگنا تھا، جو ٹرمپ کی چین کے خلاف سخت تجارتی پالیسی کا حصہ ہے۔ لیکن اب جن مصنوعات کو استثنیٰ دیا گیا ہے، اُن میں سمارٹ فونز، کمپیوٹرز، ہارڈ ڈرائیوز، پروسیسرز اور سیمی کنڈکٹرز شامل ہیں – یعنی وہ اشیاء جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ دن پہلے صدر ٹرمپ نے چین سے درآمد ہونے والی دیگر اشیاء پر بھی 125 فیصد نیا ٹیرف لگا دیا تھا۔ یہ فیصلہ چین پر امریکا میں فینٹانائل جیسی خطرناک منشیات بھیجنے کا الزام لگا کر کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ ان اقدامات کے ذریعے امریکی مینوفیکچرنگ کو واپس لانا چاہتے ہیں، لیکن جن اشیاء پر استثنیٰ دیا گیا ہے، ان کی مقامی سطح پر پیداوار فوری طور پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق انڈسٹری کو ان اشیاء کی مقامی پیداوار شروع کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔