Wed, September 16, 2026

قبائلی عوام کا افغانستان کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان

قبائلی عوام کا افغانستان کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان

اسلام آباد :  پاک افغان سرحدی جھڑپوں کے بعد قبائلی علاقوں کے عمائدین اور عوام نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں اور حملہ آور عناصر کے خلاف خود ہتھیار اٹھا کر پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

آڈیو پیغام میں قبائلی رہنماؤں نے کہا کہ "وطن کا دفاع ہمارا فرض ہے" اور یہ واضح کیا کہ اگر افغان مہمان عزت و احترام سے آئیں گے تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا، مگر اگر وہ حملہ آور بن کر آئیں گے تو "جواب گولی سے دیا جائے گا"۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی انہوں نے دہشت گردوں کو سبق سکھایا اور آئندہ بھی اسی جذبے سے کام لیں گے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بارڈر پر انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارام چاہ کے علاقوں میں افغان فورسز کی فائرنگ سے جھڑپیں ہوئیں۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی اور خوارج ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ طالبان کے بعض اہلکار لاشیں اور پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے؛ سعودی عرب، قطر اور ایران نے دونوں فریقین سے تحمل اور سفارتی حل کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہے۔ اس سب کے پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے نے سکیورٹی معاملات کی حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قبائلی اعلان اور بڑھتی ہوئی سرحدی کارروائیاں علاقے میں صورتحال کو پیچیدہ کر سکتی ہیں اور ضرورت یہی ہے کہ معاملات بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے قابو میں لائے جائیں تاکہ بے گناہ عوام کو نقصان نہ پہنچے۔

ٹیگز: