Wed, September 16, 2026

دہلی دھماکے میں جھوٹ اور افواہوں کا طوفان، بھارتی میڈیا کی ساکھ کو شدید نقصان

دہلی دھماکے میں جھوٹ اور افواہوں کا طوفان، بھارتی میڈیا کی ساکھ کو شدید نقصان

نئی دہلی: بھارتی میڈیا ایک بار پھر شدید تنقید کا شکار ہے، اور اس بار الزام دہلی دھماکوں کے حوالے سے غلط اور مبالغہ آمیز رپورٹنگ پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق، میڈیا کے کچھ حصوں نے صرف ریٹنگ بڑھانے کے لیے دھماکے کی جگہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے اور بے احتیاطی سے غلط معلومات نشر کیں، جس کے نتیجے میں عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

دھماکوں کی رپورٹنگ کے دوران میڈیا نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ دو دھماکے ہوئے ہیں، حالانکہ ابھی تک کوئی سرکاری ادارہ یا پولیس اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا۔ اس جھوٹی خبر نے عوام میں مزید خوف اور تشویش پیدا کی۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے اس پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب سرکاری ادارے اس بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع فراہم نہیں کر رہے، تو میڈیا کا اس طرح افواہیں پھیلانا غیر مناسب ہے۔

ایک شہری نے کہا کہ اگر کوئی دہلی دھماکوں کا حوالہ دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے، تو اس شخص کو فوراً مشکوک سمجھا جائے۔ مزید برآں، لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس واقعے کی تحقیقات شفاف اور غیر جانب دارانہ طریقے سے کی گئیں، تو اس کے روابط حکومت سے جڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ کئی شہریوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ دھماکہ کوئی دہشت گرد حملہ نہیں بلکہ ایک خود ساختہ کارروائی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

مبصرین نے بھارتی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کے حامی میڈیا نے پہلے بھی "آپریشن سندور" جیسے واقعات میں جھوٹی معلومات پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اب یہ میڈیا نہ صرف حقیقت سے دور ہے، بلکہ جھوٹ اور من گھڑت بیانات کو منظرِ عام پر لانے کا مرکز بن چکا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے مفادات کے لیے میڈیا کا استعمال اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ ان کے غیراخلاقی حربے اور چھپے ہوئے عزائم اب پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔

ٹیگز: