وطن عزیز میں پرچون فروش سے لے کر خاتون فروش تک سب کو پارسائی کا دعویٰ ہے۔ ہمیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا بھی صاف دکھائی دیتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر بھی محسوس نہیں ہوتا۔ 9 اور 10 مئی دونوں گزر گئے لیکن اپنے پیچھے کسی کیلئے فتح اورکسی کیلئے شکست، کسی کیلئے ندامت اورکسی کیلئے تفاخر چھوڑ کر۔ دن گزرنے کیلئے ہوتے ہیں کہ زمین کی گردش کو روکنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ البتہ انسان خود کو بُرے اور غیر عقلی اعمال سے روک کر بہت کچھ برباد ہونے سے بچا سکتا ہے۔ 9 مئی کو میں اُسی مقام پر جا پہنچا جہاں آج بھی جناح ہاو¿س اپنی پوری شان سے کھڑا ہے۔ میں نے چشم تصور سے اُس منظر کو دیکھنا شروع کیا جو اُس وقت میرے سامنے تھا جب جلاو¿گھیراو¿ جاری تھا۔ عمران نیازی کے زمان پارک قیام کے دوران میں نے بڑی وضاحت سے تحریر کیا تھا کہ جو لوگ وہاں غلیلیں استعمال کر رہے ہیں، پیٹرول بم پھینک رہے ہیں، درختوں پر سکینڈز میں چڑھ جاتے ہیں۔ اسلحہ کا استعمال جانتے ہیں، آنسو گیس سے بچنے کیلئے ماسک کے علاوہ دوسرے بہت سے ٹوٹکے جانتے ہیں۔ یہ مقامی لوگ نہیں بلکہ میں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں اور جس دن عمران نیازی بُلٹ پروف جیکٹ اور ماسک پہن کر نکلا تھا سب کچھ عیاں ہو گیا تھا۔ یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں روزنامہ ”نئی بات“ کے ادارتی صفحہ پر تحریر شدہ تحریریں ہیں جو 9 مئی سے پہلے کی ہیں۔ لبرٹی چوک سے لے کر جناح ہاو¿س تک مجھے تحریک انصاف کی سیکنڈ لیڈر شپ نہ صرف نظر آئی بلکہ کچھ نے تو میرے ساتھ سلام دعا بھی لی۔
تین سال بعد میں وہیں کھڑا چشم تصور سے اُن تمام مکروہ چہروں کو دیکھ رہا تھا جس میں اکثریت کو میں جانتا تھا لیکن توڑ پھوڑ کرنے والے، کور کمانڈرہاو¿س میں داخل ہونے والے، شہدا کے مجسموں کی تذلیل کرنے والوں کی اکثریت یا تو پختون تھی یا پھر افغانی۔ البتہ پی ٹی آئی کے نوجوان بھی اس میں شامل تھے جن کا سرخیل زبیر نیازی آج تک روپوش ہے لیکن پی ٹی آئی کی سیکنڈ لیڈر شپ اپنے جوانوںکی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ جیت یا ہار یقیناً مستقل فتح یا شکست نہیں ہوتی لیکن جب پہلی ہی ”چھترول“ کے بعد لوگ آپ کے بیانیے سے انحراف کر دیں تو ہر گزرتا دن آپ کی شکست پر مہر ثبت کر دیتا ہے۔ اس سیاہ دن کے تین سال بعد بھی قوم نے اسے بلیک ڈے کے نام سے ہی یاد کیا۔ ایک دن بعد یعنی 10 مئی کو آپریشن بنیان مرصوص کو قومی غیرت کے ساتھ معرکہ حق کی فتح کے طور پر منایا گیا۔ وہ عظیم سپہ سالار جس کے رستے میں عمران نیازی نے اپنی طاقت، نفرت، دولت، سازش اور بیرونی تعلقات کی ہر دیوار کھڑی کی، جسے عمران نیازی نے چاہا کہ وہ کسی صورت پاک فوج کا حصہ ہی نہ رہے۔ جس کا سوشل میڈیا کا ٹرائل اندرونِ اور بیرون ملک بیٹھی یوتھیا برگیڈ سے کرایا گیا۔ اللہ کا فیصلہ دیکھیں کہ خدائے مشرق و مغرب نے اُسے ہر محاذ پر پہ در پہ فتح سے ہمکنار کیا۔ بلوچستان اور کے پی کے میں فیلڈ مارشل نے دہشتگردوں کے خلاف جو اقدامات کیے اُس کا کوئی تصور اُن سے پہلے نہیں ملتا۔ دہشتگردی کے بہت سے نیٹ ورک صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ یہی پاکستانی عوام کے دل کی آواز تھی اور دنیا بھی دہشتگردی کا زمین سے خاتمہ چاہتی ہے۔ 2025ءمیں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص نے بھارت کی کھلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان کی بہترین کارکردگی کا اعلان امریکی سپرپاور کے صدر مسٹر ٹرمپ نے کیا جس سے بھارت کو مزید خفت اٹھانا پڑی اور بھارت آج بھی اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور دوسری طرف ڈی جی آئی ایس پی آر نے 14 اگست کو کچھ نیا کرنے کی خبر قبل از وقت دے کر بھارت کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ آرمی چیف نے سفارتی اور علاقائی روابط کو خاص اہمیت دیتے ہوئے نہ صرف چین اور خلیجی ممالک میں تعلقات بہتر کرائے بلکہ امریکہ اور ایران کی کشید گی کے دوران پہلے ایران اور سعودی تعلقات کو معمول پر لائے اور پھر ثالثی کے کردار کیلئے پاکستان کو پیش کیا اور مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا جو پاکستان کیلئے دنیا بھر میں عزت کا باعث بنا اور اس ساری تحریک کے پیچھے اگر کوئی مضبوط دیوارکھڑی تھی تو وہ بنیان مرصوص ہی تھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جب اپنے عہدے کو سنبھالا تو انہیں پی ٹی آئی کے پروپیگنڈا کے علاوہ معاشی طور پر ایسا پاکستان ملا جسے سری لنکا سے تعبیرکیا جا رہا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقیقی ”ڈرٹی ہیری“ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا جو 1971ءمیں کلائنٹ ایسٹ وڈ کی فلم میں پولیس والے کا فکشن کردار تھا لیکن یہاں تو ڈرٹی ہیری، اُس کا رسہ گیر، ماتا ہیری سب عدالتوں سے سزا پا چکے البتہ پھولن دیوی مال و متاع لے کر رفو چکر ہونے میں کامیاب ہو گئی لیکن مجھے مکمل امید ہے کہ ملک ریاض اور گوگی دونوں پاکستان لازمی آئیں گے اور اپنے کیے کی سزا بھی بھگتیں گے۔ ایس آئی ایف سی یعنی special Investment facilitation councl کو پاکستان کی معیشت کیلئے خوش آئند قرار دیا گیا جو فیلڈ مارشل پاکستان کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 9 مئی گزر گیا لیکن احمد فراز نے کہا تھا کہ
پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں
زخم بھر جائے مگر داغ تو رہ جاتا ہے
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں
یقینا زخم بھر چکا ہے لیکن تاریخ کے صفحات پر عمران نیازی، اُس کے حواریوں اور پشت پناہی کرنےوالوں نے جو داغ لگایا ہے وہ تو اب بھی دکھائی دے رہا ہے اور قوم اس داغ کو ہمیشہ ہر نو مئی کو یاد رکھے گی۔ یہ داغ صرف عاصم منیر کے سینے پر نہیں پاکستانی فوج اور قوم کے سینے پر لگایا گیا ہے۔ اس داغ کو لگانے کیلئے بھارت اور اسرائیل نے اربوں ڈالرخرچ کر دیئے لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن 9 مئی 2023ءکو یہ جرم پی ٹی آئی نے کر دیا۔ عاصم منیر پاکستانی قوم کا متفقہ علیہ ہیرو ہے اور آج تک اُس نے اپنا ہر کام انتہائی جانفشانی اور حب الوطنی کے جذبے سے کیا ہے۔ بس وفاقی حکومت اپنے اخرجات کم کر کے لیوی ٹیکس میں کمی کر دے۔ ہمیں عام آدمی کا بھی سوچنا چاہیے جو صرف اور صرف سیاسی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیوی ٹیکس نہیں ہے کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کے مطابق اس کا ایک پیسہ بھی کسی صوبے کو نہیں ملتا جس کا دوسرا مطلب سیدھا اور صاف ہے کہ اس کمائی سے عام آدمی کا بھلا ہونےوالا نہیں۔ ٹیکس نیٹ ورک بڑھائیں یا پاکستانی ارب پتیوں سے پاکستان کے نام پر پیسے لیں لیکن عاصم منیر کے کیے آفاقی کاموں پر پانی مت پھیریں کہ قوموں کو ایسا کردار خدا روز روز نہیں دیتا جو مقبول بھی ہوتے ہیں اور محبوب بھی۔ جو مختلف جہتوں میں کام کرنے کی یکساں صلاحیت رکھتے ہوں۔9 مئی پی ٹی آئی نے اور 10 مئی پاکستانی قوم نے منایا اور سب نے اُس لائن کو دیکھ لیا۔