Wed, September 16, 2026

منی پور جمہوریت کے ماتھے پر لگا خونی داغ

منی پور جمہوریت کے ماتھے پر لگا خونی داغ

منی پور آج محض ایک ریاست نہیں، بلکہ بھارت کی جمہوری ساکھ کا کڑا امتحان ہے اور اس امتحان میں نئی دہلی بری طرح فیل ہو چکی ہے۔ مئی 2023 سے بھڑکنے والا نسلی تنازع اب فروری 2026 میں بھی سلگ رہا ہے، لاشیں بڑھ رہی ہیں، کیمپ پھیل رہے ہیں اور انصاف مسلسل دفن ہو رہا ہے۔ میتیئی اور کْکی زو کے درمیان یہ لڑائی محض فرقِ قومیت نہیں، طاقت، زمین اور شناخت کی وہ جنگ ہے جسے ریاست نے جان بوجھ کر آگ میں جھونکا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 260 سے زائد جانیں جا چکی ہیں، 60 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہیں۔ گھروں کے ساتھ امیدیں جلی ہیں۔ چرچ راکھ ہوئے، عورتیں سرِبازار رسوا کی گئیں، اور قاتلوں کو برسوں سے ایک ہی ڈھال میسر ہے خاموش اقتدار۔ فروری 2025 میں وزیرِاعلیٰ این بیرن سنگھ کے استعفے کے بعد صدر راج لگا مگر امن نہیں آیا، اسمبلی معطل، حکومت غائب، اور ریاست ایک کھلے زخم کی طرح پڑی ہے۔
کْکی زو کمیونٹی تیس سے زائد قبائل، پہاڑی اضلاع میں آباد آج ایک ہی سوال پوچھتی ہے  ہم کس ریاست میں محفوظ ہیں؟ ان کا مطالبہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ بقا کی فریاد ہے  الگ انتظامیہ یا یونین ٹیریٹری بمعہ لیجسلیچر۔ ان کا کہنا ہے کہ میتیئی اکثریت کے ساتھ رہنا اب ممکن نہیں؛ عدم اعتماد، مسلسل تشدد اور وجودی خطرہ اس رشتے کو دفن کر چکے ہیں۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 میں یہ مطالبہ بار بار دہرایا گیا، 14 جنوری کو چوراچندپور کی ریلی میں ہزاروں نے دہلی سے فوری حل مانگا۔ دس کْکی ایم ایل اے مئی 2023 سے اسی موقف پر قائم ہیں۔
دوسری جانب میتیئی قیادت اور گروپس، بالخصوص COCOMI، اسے ریاست کی تقسیم قرار 
دے کر مسترد کرتے ہیں۔ 31 جنوری 2026 کو امپھال میں ‘‘سیو منی پور’’ ریلی نکالی گئی ریاست کی وحدت، آئی ڈی پیز کی واپسی، اور ‘‘چن کْکی نارکو ٹیرورسٹ’’ کے خلاف کارروائی کے نعرے لگے۔ مگر سوال یہ ہے: کیا وحدت لاشوں پر قائم ہوتی ہے؟ کیا واپسی بندوق کی نالی سے ممکن ہے؟۔
اصل مسئلہ یہاں بے نقاب ہوتا ہے۔ کْکی زو کے مطابق یہ سب منظم  cleansing ethnic ہے ریاستی سرپرستی میں وادی محض 10 فیصد زمین، مگر نصف سے زیادہ آبادی اور طاقت میتیئی کے ہاتھ میں؛ پہاڑوں میں بسنے والے کْکی زو اپنی زمین اور ST اسٹیٹس کے خاتمے سے خوفزدہ ہیں۔ اگر میتیئی کو ST ملا تو پہاڑوں کی زمین بھی خطرے میں ہے۔
مئی 2023 میں ATSUM مارچ کے بعد تشدد بھڑکا؛ کْکی علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ ہوا۔ ITLF کے مطابق 158 سے زائد کْکی زو مارے گئے، ہزاروں گھر اور 350 سے زیادہ گرجا گھر نذرِ آتش ہوئے۔ جنسی تشدد، گینگ ریپ، عوامی تذلیل کو تاریخ کے حاشیے میں دھکیل دیا گیا۔
جنوری 2026 میں ایک 20 سالہ کْکی زو خاتون 2023 کے جنسی جرم کی متاثرہ کی موت نے اس ناانصافی پر مہر ثبت کر دی۔ انصاف نہ ملا، زخم ہرا رہا۔ اس کے برعکس، حکومت نے بیانیہ بدلا زمین کے سوال کو ‘‘نارکو-ٹیررازم’’ اور ‘‘انفِلٹریشن’’ میں لپیٹ کر قتل کو جواز دینے کی کوشش کی۔ یہ صرف سیاست نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
صدر راج، سکیورٹی کی تعیناتی، ہتھیاروں کی وصولی یہ سب کاغذی علاج ہیں۔ زخم تب بھرے گا جب ریاست غیر جانبدار ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دہلی کی خاموشی نے بحران کو طول دیا۔ وزیراعظم کی عدم مداخلت نے پیغام دیا کہ منی پور ترجیح نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کْکی زو نے پرامن احتجاج سے آگے بڑھ کر اپنے دفاع کی بات کی؛ گاؤں کے رضاکار، مسلح گروپس یہ سب ریاستی ناکامی کی پیداوار ہیں۔ جنوری 2026 میں ناگا گروپ ZUF-K کے حملوں نے آگ مزید بھڑکا دی۔
اسی تناظر کی میں آج مطالبات واضح ہیں  الگ یونین ٹیریٹری یا ریاست، تاکہ جان، زمین اور خود مختاری محفوظ ہو قتل، جنسی تشدد اور تباہی کی غیر جانبدار تحقیقات سپریم کورٹ یا اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں۔60  ہزار سے زائد بے گھر افراد کی محفوظ واپسی، لوٹے گئے ہتھیار واپس، اور امن سے پہلے ‘‘فری موومنٹ’’ جیسے فیصلوں پر بریک  کْکی زو کو اجتماعی طور پر ‘‘نارکو’’ کہنے کی سیاست بند ہو۔
منی پور میں مسئلہ ‘‘قانون و نظم’’ نہیں، اعتماد کا جنازہ ہے۔ ایک طرف میتیئی ریاست کی وحدت چاہتے ہیں، دوسری طرف کْکی زو بقا کی خودمختاری، صدر راج کے باوجود آگ اس لیے نہیں بجھ رہی کیونکہ زمین، شناخت اور سیاسی انصاف کے بنیادی سوال کو چْھوا ہی نہیں گیا۔
اگر دہلی نے غیر جانبدار اور بروقت فیصلہ نہ کیا تو یہ بحران صرف ایک ریاست کا نہیں رہے گا بلکہ بھارت کے وفاقی دعوے پر سوالیہ نشان بن جائے گا۔ جمہوریت کا اصل امتحان اقلیتوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہے، محض اکثریتی طاقت نہیں۔
بھارت کا ایک ہی مشن رہا ہے کہ پاکستان کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے، حالانکہ بھارت کو داخلی طور پر بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن وہ دوسری ریاستی کو کمزور کرنے کیلئے شب و روز کام کر رہا ہے جس کا سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہے۔ آخر میں کہوں گا کہ تاریخ نعروں سے نہیں، انصاف سے لکھی جاتی ہے اور منی پور اسی انصاف کا منتظر ہے۔

ٹیگز: