میرے لیے اپنے وطن بارے روشن مستقبل کی پیشین گوئی سننا حیران کن حد تک خوشی کا سبب تھا اس لیے میں رہ نہ سکا اور کچھ اہم ترین دوستوں کی محفل میں وہ سب کچھ بتا دیا جو شاہ صاحب نے بہت راز داری سے بتایا تھا۔ یہ کہ جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف بنے ہیں، ان کی شخصیت پاکستان کی بلند بامی کا باعث بنے گی۔ پھر یہ پیشین گوئی بہت مختصر مدت میں مجسم ہوتی گئی۔
شاہ صاحب نے پھر فرمایا کہ مئی دو ہزار پچیس میں کچھ غیر معمولی ہونے جا رہا ہے۔ بھارت نے پہلگام واقعہ کی آڑ لے کر پاکستان میں دراندازی کی اور کچھ اہداف کو نشانہ بنایا تو پاکستان کی طرف سے حکمت سے بھرپور مختصر سکوت دیکھنے کو ملا، ایسا سکوت جو کسی طوفان کی آمد کا پتا دے رہا تھا۔ پھر پاکستان نے غیر جذباتی انداز میں تین گھنٹے پینتیس منٹ میں سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ دنیا نے پاکستان اور وطن عزیز کی قیادت کو کامیابی کے ملبوس میں بلند ہوتے دیکھا اور میں نے شاہ صاحب کی طرف تسلیمی نگاہ ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ ابھی کامرانی کے کئی زینے باقی ہیں۔ امریکا جیسے ملک نے بھارت کو سفارتی فہرست سے بہت نیچے گرا دیا۔ امریکی صدر وطن عزیز کی طرف سے کمنٹری کرتے دکھائی دئیے اور گرائے گئے بھارتی جہازوں کی تعداد کا تعین بھی وائٹ ہاو¿س سے ہونے لگا۔
جب جنرل سید عاصم منیر فیلڈ مارشل بنے تو بھی شاہ جی کے بتائے ہوئے زینے مکمل نہیں
ہوئے۔ میں نے عرض کیا کہ قبلہ فیلڈ مارشل سے بھی آگے؟ جواب آیا، جی ہاں۔ پھر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ گئی، ایسی جنگ جس نے کئی ریاستوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ ایسی جنگ جو عالمی جنگ کی طرف بڑھنے لگی اور پھر دنیا کی نگاہیں اسلام آباد پر مرکوز ہو گئیں۔ فیلڈ مارشل اور پاکستان امن کے پیامبر بنے اور جنگ روک دی گئی۔ پوری دنیا کا میڈیا اسلام آباد میں جمع ہوا۔ پاکستان نے امریکی قیادت اور ایرانی سربراہوں کو ایک میز پر بٹھا دیا۔ بھارت عالمی سفارتی سطح پر بہت تنہا ہو گیا، اتنا تنہا کہ پس منظر سے بھی پیچھے چلا گیا۔ امریکا ایسے ملک کے صدر نے قدم قدم پر پاکستانی قیادت کو سراہا۔ پاکستان دنیا بھر میں اہم ہوتا گیا۔
پھر ایک شام شاہ صاحب نے فرمایا کہ وقار و عزت کی بلندی کے زینے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ملک صاحب کو میں پہلے جو جو بتاتا رہا مختصر عرصے میں، مستقبل قریب وہ سب کچھ ویسا ہی ہوتا گیا۔ شاہ جی اب بھی؟ ۔۔۔ جی ہاں ابھی دیکھنا کہ وطن عزیز میں بہت کچھ بہترین ہوتا نظر آئے گا۔
پھر میں نے شاہ جی سے پوچھا کہ آپ کو یہ سب کچھ کیسے معلوم ہوتا ہے؟ فرمایا کہ وطن اور فیلڈ مارشل سے بے لوث محبت آگہی کے در وا کرتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ انہوں نے اس بے لوث محبت کو کسی خاص مقصد سے آلودہ کیا ہو۔ کبھی ایسا بھی نہیں کہ کچھ مانگا ہو۔ وقت ہی سب سے بڑا عینی شاہد ہے کہ وہ بے لگام خوارج کی نفرت گردی کی بھینٹ چڑھ کر بھی وطن عزیز کے لیے نیک تمناو¿ں سے مالا مال رہے۔ وہ دعا گو رہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سرپرستی میں دفاعی طور پر ناقابل شکست ہونے کے بعد اقتصادی طور پر بھی بنیان مرصوص ہوتی ریاست شائد ہر آدمی اور ہر طبقے کے لیے جنت بن سکے۔
شاہ صاحب کی پیشین گوئی میں کامیابی کے مراحل ابھی باقی ہیں۔ وہ نیم شب کے آخری دعا گو ہیں جو کچھ مانگے بغیر فیلڈ مارشل کی قیادت میں ملک کو آگے بڑھتا دیکھ رہے ہیں اور ان کی شرط ہے کہ ان کا نام عام نہ کیا جائے کہ انہیں محبت کو بے لوث ملبوس پہنانا آتا ہے۔
میں نے بہت قریب سے دیکھا کہ شاہ صاحب کے آس پاس سیاسی و سماجی ناانصافی کے وہ خیمے نصب ہیں جن کے اندر وطن کی مٹی بیچ کھانے والے سوداگر قیام پذیر ہیں مگر وہ سب کی خیر مانگتے ہیں۔ ہمیشہ دعا گو رہتے ہیں۔ اب دسویں پیشین گوئی سچ ہوئی تو بہت سے احباب نے انہیں ملنے کی خواہش کا پُرزور مطالبہ کیا مگر مجھے معلوم ہے وہ کبھی سامنے نہیں آئیں گے جب تک وطن عزیز میں سماجی ناہمواری موجود ہے وہ بہترین وقت کے لیے دعا گو رہیں گے۔ ایک پُر امید درویش اپنی آخری دعا کے مجسم ہونے اور تعبیر میں ڈھلنے تک دعائے نیم شبی کا منبع رہے گا اور وطن دنیا بھر میں عزت و وقار سے آگے بڑھتا جائے گا۔
یہ ایک دو دن کی کہانی نہیں، پندرہ ماہ کا زمانہ ہے کہ روز ایک نیا اعزاز ہمارا مقدر بن رہا ہے اور اسی طرح معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کا دن بھی گزر گیا ۔ آئندہ برس معرکہ حق کی دوسری سالگرہ شائد پاکستان کو وہاں پہنچا دے جہاں کامیابی کا آخری زینہ منتظر ہے۔