امن کے بھاشن دینے والا امریکہ اسرائیل کے ساتھ ایران پر چڑھ دوڑا ہے اس کے باوجود کہ پینٹاگون نے ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے پہلے حملے کے کوئی شواہد نہیں ملے تھے، امریکا کے پاس ایسی کوئی خفیہ معلومات بھی موجود نہیں تھیں جن سے ظاہر ہو کہ ایران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے والا تھا، امریکی اعلیٰ حکام نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ نے حملوں کا فیصلہ مفروضوںکی بنیاد پر کیا کہ ایران ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر پیشگی حملہ کر سکتا ہے،جب عراق پر حملہ کیا گیا تو بھی اسی طرح کے جھوٹ موٹ کے سہارے لیکر ہی صدرصدام حسین کا تختہ الٹا گیا تھا بعد میں صدر بش نے کہا کہ تھا کہ عراق پر حملہ سنی سنائی باتوں پر کیا گیا تھاامریکہ ہمیشہ کی طرح جھوٹ کا سہارالیکر اورغداروں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرتا ہے اور پھر کام نکل جانے پر ٹشوکی طرح پھینک دیتا ہے دوسری طرف دنیا میں امن قائم کرنے کے دعوے دار امریکی سینیٹ نے ایک اہم وار پاورز قرارداد کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر جاری فوجی کارروائیاں روکنے اور کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید حملوں کے اختیارات محدود کرنا تھایہ قرارداد 47 ،53 کے فرق سے مسترد ہو گئی، جس سے صدر ٹرمپ کو ایران پر کارروائیوں جاری رکھنے کا قانونی اختیار مل گیاامریکی میڈیا کے مطابق قرار داد کی سربراہی سینٹر ٹم کین نے کی تھی اور اس کی 26 دیگر سینیٹرز نے بھی حمایت دی تھی، لیکن ری پبلکن ارکان نے اکثریت کے ساتھ قرارداد کو آگے بڑھنے سے روک دیا جس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور امریکی دنیا کو فتح کرنے کیلئے کس حد تک گر سکتے ہیں بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی حضرت عیسٰی کے نام لیوائوں نے ایران جنگ کے تناظر میں امریکا بھر سے پادریوں نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جمع ہو کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے لیے دعا کی،وائرل ویڈیو میں پادری صدر ٹرمپ کو گرد گھیرے کھڑے ہیں اور متعدد مذہبی رہنما دعا کے دوران صدر ٹرمپ پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، دعا میں شرکت کرنے والے رہنماؤں نے صدر کے مستقبل کے فیصلوں اور قومی خدمت میں کامیابی کی دعا کی،پادریوں نے ثابت کردیا کہ وہ مظلوم کے نہیں ظالم کے ساتھ ہیں کیونکہ امریکی شہ پرہی اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی بچوں بڑوں خواتین کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیاروتے بلکتے بچوں کی آہیں نہ امریکہ کو نظر آئیں نہ خلیجی ممالک کو جنہوں نے غزہ معاملے پر چپ سادھے رکھی اسی طرح اب ایران میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اورمسلم ممالک تماشا دیکھ رہے ہیں غزہ کی طرح اب ایران میں بھی حملہ کرکے میناب میں سکول پرحملہ کرکے تقریباً 200 بچوں کو شہید کر دیا گیایونیسف نے کہا بچے جنگیں شروع نہیں کرتے لیکن وہ ناقابلِ قبول حد سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، جنگ اور تشدد کے اثرات بچوں، خاندانوں اور معاشروں کو نسلوں تک متاثر کرتے ہیں، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بچوں اور سکولوں کو تحفظ حاصل ہے، مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی نے پہلے ہی بچوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہوئے ہیں یونیسیف رپورٹ امن کے نام نہاد ٹھیکداروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو دنیا میں امن کے نام پر تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں ڈھٹائی تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے ارجنٹائن کے فٹبال اسٹار لیونل میسی اور ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور ایران میںحملوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بمباری کا ذکر کیا، جس میں حالیہ دنوں میں سینکڑوں بچے شہید ہو گئے ،اس دوران، لیونل میسی اور لوئس سواریز سمیت ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے ٹرمپ کی باتوں پر تالیاں بجائیں جو کہ بظاہر ایک غیر معمولی اور متنازعہ ردعمل تھا ویڈیو وائرل ہونے پرسوشل میڈیا صارفین نے میسی کو آڑے ہاتھوں لے لیا، بعض صارفین نے ایران میں شہید ہونے والی سکول کی معصوم طالبات کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان بچوں کو قتل کرنے پر تالیاں کیوںبجائی جارہی ہیں؟ایران کے ہاتھوں ’’کٹ ‘‘پڑنے پر امریکہ نفسیاتی جنگ لڑ رہاہے کٹ پڑنے کا ثبوت یہ بھی ہے کہ امریکی نقصانات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیٹلائٹ تصاویر پر فوری پابندی لگا دی گئی ٹرمپ جنگ جیت کے دعوے کر رہا ہے جبکہ اس کے اپنے لوگ جنگ میں نقصان کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن ٹرمپ جو ہار نہیں مان رہا اور چھتر پولے کے باوجود مزید آپریشن جاری رکھنے کا عندیہ دیدیا ایران میں رجیم چینج میں ناکامی کے بعد امریکا نے ایران میں ایک اور خطرناک کھیل کھیلنے کی تیاری شروع کر دی، امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے کردوں کو ایران میں بغاوت کے لیے تیار کر رہی ہے، ایرانی کرد مغربی ایران میں شورش کریں گے یہ امریکہ کی طرف سے خطرناک کھیل ہے جسے منظم ایرانی قوم پاسداران انقلاب سے مل کرناکام بناتے ہوئے تہران کو طاغوت کا قبرستان بنائیں گے دوسری طرف افسوس کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ امریکی،اسرائیلی جارحیت میں ایران کے بعض خلیجی پڑوسیوں کی ملی بھگت بھی شامل ہے ،
امریکہ نے افغان اور عراق جنگ سے کوئی سبق نہیں سیکھا وہی غلطیاں دہرائی جارہی ہیں اگر جنگ ایک دو ہفتے جاری رہی تو امریکہ اسرائیل کے اور اس کے ہمنوائوں کو جان کے لالے پڑ جائیں گے کیونکہ عالمی طاغوتی قوتوں نے خطے میں اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے جنگ مسلط کی ہے ، فلسطین اور غزہ میں جدید مہلک ہتھیاروں سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہااب ایران میں بھی یہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے ، امریکہ، اسرائیل اور بھارت ایک ہی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے کہ کل تک بھارت پر ٹیرف پہ ٹیرف لگانے والا ٹرمپ آج مودی کو تیس دن کیلئے روس سے تیل خریدنے کی اجازت دے رہا ہے ٹرمپ اور نیتن یاہو کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، سکولوں، ہسپتالوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا بدترین درندگی اور سفاکیت ہے جس کے نتیجے میں معصوم بچے اور ہزاروں شہری شہیدہو رہے، مشکل گھڑی میں مسلم امہ کو ایران کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے، امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام مسلم ممالک کو اتحاد اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی ایرانی قیادت کی شہادت کے باوجود امریکہ کا رجیم چینج کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔