Wed, September 16, 2026

قربانی صرف عوام کیوں دیں؟

قربانی صرف عوام کیوں دیں؟

پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں فی لیٹر پچپن روپے اضافہ بظاہر ایک معاشی فیصلہ ہے، مگر اس کے اثرات محض پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے۔ یہ فیصلہ معیشت کی رگوں میں دوڑنے والے خون کی قیمت بڑھانے کے مترادف ہوتا ہے، کیونکہ پٹرول صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ صنعت، تجارت، زراعت اور روزمرہ زندگی کے بیشتر شعبوں کا بنیادی محرک ہے۔ جب اس کی قیمت میں یکدم اتنا بڑا اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات ایک زنجیری ردِعمل کی صورت میں پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح خطے کے کئی ممالک سے زیادہ رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں افراطِ زر کی شرح کئی مواقع پر 25 سے 30 فیصد تک جا پہنچی۔ ایسے میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دراصل ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں، صنعت کے پیداواری اخراجات اور عام آدمی کی قوتِ خرید پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ معاشیات کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جب توانائی مہنگی ہوتی ہے تو پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور جب لاگت بڑھتی ہے تو صنعت کار یا تو قیمتیں بڑھاتا ہے یا پیداوار کم کر دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان معیشت اور روزگار کو پہنچتا ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت، جو ملک کی برآمدات کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ فراہم کرتی ہے، پہلے ہی توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث دباؤ میں ہے۔ کئی صنعت کار شکایت کرتے ہیں کہ بجلی اور ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے پیداواری لاگت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات مسابقت کھو بیٹھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں بعض صنعتی یونٹس یا تو بند ہوئے یا اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس کا براہِ راست اثر روزگار پر پڑتا ہے، کیونکہ صنعت جب سست پڑتی ہے تو سب سے پہلے مزدور کی دیہاڑی متاثر ہوتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی یہی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان میں سامان کی ترسیل کا بڑا حصہ سڑکوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو ٹرکوں اور بسوں کے کرایے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ منڈی سے دکان تک پہنچنے والی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ آٹے سے لے کر سبزی تک اور کپڑے سے لے کر تعمیراتی سامان تک، ہر چیز کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومتیں اکثر ایسے فیصلے بین الاقوامی مالیاتی دباؤ، قرضوں کی شرائط یا مالی خسارے کے باعث کرتی ہیں۔ پاکستان کا مالیاتی خسارہ کئی سالوں سے جی ڈی پی کے سات سے آٹھ فیصد کے قریب رہتا ہے، جبکہ سرکاری قرضہ تریسٹھ سے پینسٹھ ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایسے میں حکومتوں کو آمدن بڑھانے یا اخراجات کم کرنے کے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان فیصلوں کا بوجھ کس کے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے۔
پاکستان کے عوام ایک عجیب مزاج رکھتے ہیں۔ جب بات ملک کی بقا، قومی سلامتی یا معاشی استحکام کی آتی ہے تو یہ قوم بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ جنگوں کے زمانے ہوں، قدرتی آفات ہوں یا معاشی بحران، عوام نے ہمیشہ صبر اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر آج بھی عوام سے پوچھا جائے کہ کیا وہ پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں تو یقیناً اکثریت ہاں میں جواب دے گی۔ مگر مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں عوام کے ذہن میں ایک سوال جنم لیتا ہے: کیا حکمران طبقات بھی وہی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں جو عوام سے مانگی جا رہی ہے؟۔
پاکستان میں ریاستی ڈھانچے کے اندر ایک وسیع بیوروکریسی موجود ہے۔ سرکاری افسران کو گاڑیاں، مفت پٹرول، سرکاری رہائش گاہیں، سفری اخراجات، ٹی اے ڈی اے اور دیگر بے شمار مراعات حاصل ہیں۔ کئی محکموں میں ایک افسر کے زیرِ استعمال دو یا تین گاڑیاں تک ہوتی ہیں۔ اگر صرف سرکاری گاڑیوں کے پٹرول اور دیکھ بھال کے اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ سالانہ اربوں روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
سیاستدانوں کی مراعات کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ پارلیمنٹ کے اراکین کی تنخواہیں، الاؤنسز، سفری سہولتیں اور دیگر مراعات ایک ایسے ملک کے معیار سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہیں جہاں کروڑوں لوگ خطِ غربت کے قریب زندگی گزار رہے ہوں۔ ایک طرف عوام کو بتایا جاتا ہے کہ معیشت مشکل میں ہے اور کفایت شعاری کی ضرورت ہے، مگر دوسری طرف حکمران طبقہ اپنی زندگی کے معیار میں کوئی نمایاں کمی لاتا نظر نہیں آتا۔ یہی وہ تضاد ہے جو عوام کے اندر بے چینی پیدا کرتا ہے۔ اگر قربانی کا مطالبہ صرف عام آدمی سے کیا جائے اور طاقتور طبقات خود کو اس سے مستثنیٰ سمجھیں تو یہ احساسِ ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے حالیہ دنوں میں کفایت شعاری کے کچھ اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں سرکاری اخراجات کم کرنے اور بعض غیر ضروری سہولتیں محدود کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یقیناً یہ اقدامات ایک مثبت سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات وقتی ہیں یا مستقل پالیسی کا حصہ بنیں گے۔
پاکستان کو اصل میں ایک مستقل اور سخت مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں کے غیر ضروری اخراجات کم کرنا ہوں گے، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح یا نجکاری پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، اور حکمران طبقے کو بھی اپنی مراعات میں واضح کمی لانا ہوگی۔ اگر عوام دیکھیں کہ حکمران خود بھی سادگی اختیار کر رہے ہیں تو پھر قربانی دینا ان کے لیے مشکل نہیں رہے گا۔
پاکستان کے عوام کو قربانی دینے سے کبھی انکار نہیں رہا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ قربانی کا پیمانہ سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ جب تک حکمران طبقات خود کو احتساب اور کفایت شعاری کے اسی معیار پر نہیں لاتے جس کا تقاضا عوام سے کیا جاتا ہے، تب تک معاشی فیصلوں کی اخلاقی قوت کمزور رہتی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک نازک معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت صرف سخت فیصلوں کی نہیں بلکہ منصفانہ فیصلوں کی ہے۔ اگر پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام برداشت کریں تو حکمرانوں کو بھی اپنی مراعات میں کمی کر کے مثال قائم کرنی چاہیے۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ انصاف اور مساوات کے احساس سے مضبوط ہوتی ہیں۔

ٹیگز: