تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی،تالی بجانے کے لئے دونوں ہاتھوں کوایک جیسی حرکت دینی پڑتی ہے۔آپ اگرتالی مارنے کے لئے دونوں ہاتھوں کوحرکت دینے کے بجائے ایک ہی ہاتھ کوٹیبل یادیوارپرمارتے رہیں گے تالی تونہیں بجے گی لیکن اس ایک ہاتھ کاوہ حال ہوگاجواس وقت پاکستانی عوام کاہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے تالی بجانے کے لئے ہمیشہ ایک ہاتھ کوہی نشانے پر رکھا ہواہے۔ آسمانی آفت ہویا کوئی انسانی اورزمین مصیبت۔ ہر دور اور موقع پرہم نے دونوں ہاتھوں یعنی(عوام وحکمران )کوملانے کی بجائے صرف عوام سے ہی قربانی مانگی۔کتنے سال گزر گئے، ہرمصیبت وآفت کے موقع پر ہم بس ایک ہی بات سنتے آرہے ہیں کہ حالات نازک یاخراب ہیں عوام قربانی دیں۔کبھی کسی ظالم نے یہ نہیں کہاکہ حالات ٹھیک نہیں حکمران اوراشرافیہ قربانی دیں۔کسی کو یادہے کہ کبھی ملک کے معاشی حالات خراب ہونے پر اس ملک کے کسی حکمران، سیاستدان، بیوروکریٹ یاملک پرمرمٹنے والے اشرافیہ کے کسی اورمجاہدنے پیٹ پرپتھرباندھے ہوں۔؟روزے رکھے ہوں۔؟ مرسڈیزاورپراڈوکی جگہ سائیکل اورموٹرسائیکل استعمال کی ہو۔؟یا دوکی جگہ ایک روٹی کھائی ہو۔؟ہمیں تونہیں یادکہ ایساکبھی اس ملک میں ہواہے،البتہ یہ ضرورہواکہ جب بھی ملک کے معاشی حالات کچھ خراب ہوئے یاآسمانی کوئی آفت اور زمینی مصیبت کبھی آئی توایک وقت کی روٹی کے لئے پہلے سے تڑپنے اوربلکنے والے غریب عوام کو پیٹ پرپتھرباندھنے،روزے رکھنے اوردوکی جگہ ایک روٹی پرگزاراکرنے کے درس بہت دیئے گئے۔ بے چارے عوام نے تو اس ملک کی خاطر پیٹ پرپتھربھی باندھے،روزے بھی رکھے اوردوکی جگہ ایک نہیں آدھی روٹی بھی کھائی۔بات عوام کے پیٹ پرپتھرباندھنے یادوکی جگہ ایک روٹی کھانے کانہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہمارے مہربان کب تک ایک ہاتھ سے تالی بجاتے رہیں گے۔؟ملک اس وقت ایک بارپھر نازک موڑاوردور سے گزر رہا ہے۔ سچ پوچھیں توبے چارے عوام بے حس حکمرانوں اوران ظالم مالیاتی اداروں کے درمیان پھنس کررہ گئے ہیں۔باقی دنیامیںجب بھی بجٹ بنانے اورپیش کرنے کے مواقع آتے ہیں تولوگ خوش ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں جب بجٹ کاسیزن شروع ہوتا ہے توغریب عوام کوگرم گرم پسینے آنے لگتے ہیں۔ان کے شب وروز پھر انہی خیالوں اور سوالوں کے درمیان گزرتے ہیں کہ نہ جانے بجٹ میں ہمارے ساتھ کیاہوگا۔؟بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں اضافہ یہ ہمارے حکمرانوں اوراشرافیہ کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتالیکن بجلی،گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں چند روپے کے اضافے سے بھی غریبوں کے گھروں میں جوقیامت برپاہوتی ہے وہ بیان کرنے سے بھی باہرہے۔سابقہ خان حکومت سے عوام اسی لئے تنگ آگئے تھے کہ کپتان اورکھلاڑیوں نے ایک ہی ہاتھ سے تالی بجانے کاکام کچھ زیادہ کر دیا تھا، اب وہی کام اگریہ حکومت بھی کرے گی توعوام پھر ان سے بھی نجات اورچھٹکارے کی دعائیں مانگنا شروع کریں گے۔ اب عوام کاپیمانہ صبرلبریزکرنے کی بجائے ہمارے حکمران اور مہربان تالی بجانے کے لئے اپنے ہاتھ بھی آگے کریں۔ دونوں ہاتھوں سے تالی بجے گی تومزہ آئے گانہیں تومہنگائی اورغربت کی دیواروں سے ٹکراٹکراکرایک ہاتھ میں اب مزیدتالی بجانے کی ہمت اورسکت نہیں۔ اس وقت شہبازحکومت میں مہنگائی ،غربت اوربیروزگاری کے ہر گناہ کو جس طرح عوام کے کھاتے میں ڈالاجارہاہے وہ نہ صرف افسوسناک بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ن لیگ اورشریف برادران کی طرح عوام نے بھی ہمیشہ اس ملک کے لئے قربانیاں دیں لیکن سوال یہ ہے کہ عوام آخرکب تک قربانیاں دیتے رہیں گے۔؟اس وقت ملک میں اکیلی ن لیگ کی حکومت نہیں ۔ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیاںپی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں اور پیپلزپارٹی وفاق کے ساتھ سندھ میں بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔حکمرانوں کو اقتدار اور کرسی کے مزے لینے کے ساتھ خودبھی کچھ قربانیاں دینی چاہئے۔عوام نے توپیٹ پرپتھربھی باندھے، فاقے بھی کاٹے اورروزے بھی رکھے لیکن دوسری طرف حکمران طبقے کی سرکاری خزانے سے عیاشیاں آج بھی جاری ہیں۔