Wed, September 16, 2026

مکہ مکرمہ میں آخری دن (۲) .... !

مکہ مکرمہ میں آخری دن (۲) .... !

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہوٹل کے کمرے میںاور اہلیہ محترمہ اس انتظار میں تھے کہ کب شیر افضل صاحب کا فون آتا ہے اوروہ ہمیں جدہ روانگی کے لیے بس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اسی دوران مسجد الحرام میں عصر کی اذان ہو گئی ۔ ہم نے عصر کی نماز ہوٹل کے کمرے میں ادا کی ۔ نماز سے فارغ ہوئے تو شیر افضل صاحب کا فون آگیا ۔ انہوں نے تاکید کی کہ ہم ہوٹل کا کمرہ خالی کر کے سامان سمیت نیچے لابی (استقبالیہ) میں آجائیں اور وہیں جدہ کے لیے بس کا انتظار کریں۔ میں نیچے استقبالیہ پر گیا کہ ہوٹل بوائے یا کسی اور شخص کو بلا کر لاﺅں جو کمرے سے لفٹ تک سامان پہنچانے میں میری مدد کرے ۔ ہوٹل بوائے ذرا مشکل سے لیکن اُوپر کمرے میں آنے کے لیے آمادہ ہو گیا ۔ اُس کی مدد سے سامان کے اٹییچی کیس نیچے لابی میں پہنچائے اور خود میں اور اہلیہ محترمہ بھی نیچے آ گئے۔ لابی میں استقبالیہ کاﺅنٹر والے حصے میں پتہ نہیں کس وجہ سے اے سی بند تھے اور یہ حصہ کافی گرم تھا۔ مجبوراًہمیں ساتھ کھانے والے حصے یا ڈائننگ روم جہاں اے سی چل رہے تھے میں بیٹھنا پڑا ۔ اب ہمیں شیر افضل صاحب یا اُن کے کسی نمائندے کے فون اور جد ہ جانے کے لیے بس کی روانگی کے بارے میں اطلاع کا انتظار کرنا تھا۔ 
ہوٹل کے ڈائننگ روم میں ڈائننگ ٹیبل کی کرسیوں پر بیٹھے ہمارے ٹانگیں تھک رہی تھیں کہ اسی دوران کسی بنا پر میں نے اپنا موبائل فون آن کیا ۔ موبائل کی بیٹری کی چارجنگ محض 3% دیکھ کر میرے تو اوسان خطا ہو گئے کہ جدہ روانگی کے لیے بس کے بارے میں شیر افضل صاحب یا اُن کے کسی نمائندے سے رابطے کا ذریعہ یہ موبائل فون ہی ہے اور اس کی بیڑی ختم (Dead ) ہونے کو ہے۔ میں نے اللہ کریم کا شکر ادا کیا کہ مجھے اس کا بروقت علم ہو گیا۔ اب فون کی بیڑی کی چارجنگ کا مسئلہ تھا کہ میرا چارجر وہاں بجلی کے نصب بورڈ میں فٹ نہیں آ رہا تھا۔ ہوٹل بوائے نے وہاں اپنا فون چارجر پر لگا رکھا تھا ۔ بڑی مشکل سے وہ میرے فون کو اپنے چارجر کے ساتھ جوڑنے پر تیار ہوا۔ 
وقت گزر رہا تھا اور جدہ روانگی کے لیے بس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں آ رہی تھی۔ مجھے یہ فکر بھی دامن گیر تھی کہ بس کے شارع ابراہیم خلیل پر پہنچ جانے کی اطلاع آتی ہے اور ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ سامان لے کر بس پر پہنچیں تو اُس وقت سامان اُٹھانے اور لیجانے کے لیے فوری طور پر کوئی ریڑھی یا ٹرالی والا دستیاب نہ ہوا تو پھر کیا ہو گا۔ میں اور اہلیہ محترمہ سامان کے چار بھاری پیک اور دو ہینڈ بیگزکیسے بس تک پہنچائیں گے؟ یہ پریشانی اپنی جگہ تھی لیکن دل میں کہیں نہ کہیں یہ خیال بھی موجود تھا کہ اللہ کریم کریںگے کچھ نہ کچھ انتظام ہو ہی جائے گا۔ ہوٹل کے ڈائننگ روم میں بیٹھے اڑھائی تین گھنٹے گزرے ہونگے کہ مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ مجھے وضو کرنا تھا اور چاہتا تھا کہ وہیں استقبالیہ کے واش روم میں جو بند تھا وضو کر لوں۔ میں نے ہوٹل بوائے سے اسے کھولنے کے لیے کہا لیکن وہاں کمپیوٹر پر بیٹھی خاتون نے اُسے روک دیااور کہا کہ اوپر اپنے کمرے میں جا کر وضو کریں۔ مجھے یہ بات کچھ ناگوار گزری لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ اُس کی یہ بات میرے لیے ایک طرح کی مہربانی یا Blessings ثابت ہوئی ۔ میں اس کے لیے اب بھی ربِ کریم کا شکر ادا کرتا ہوں کہ انسان سے بے دھیانی یا انجانے میں بعض اوقات کوئی کوتاہی یا لا پرواہی ہو جاتی ہے قدرت بڑی مہربان ہے کہ وہ اُس کا کسی نہ کسی طرح سے ازالہ کر دیتی ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی ہوا ۔ میں کمرے کی چابی لے کر اوپر اپنے خالی کیے ہوئے کمرے (نمبر 208 ) میں پہنچا ۔ وضو کے لیے واش روم میں داخل ہوا تو سامنے اپنے کپڑوں کا جوڑا لٹکتا ہوا دیکھ کر حیران رہ گیا کہ واہ میرے رب جو کپڑے میں بے دھیانی یا لاپروائی میں واش روم میں بھول گیا تھا آپ نے کیسا انتظام کیا کہ مجھے انہیں اُٹھانے کے لیے دوبارہ اِدھر کا موقع میسر آ گیا۔ اصل میں ہوا یوں تھا کہ دن کو زیارات سے واپس آنے کے بعد میں نے غسل کیا اور کپڑے تبدیل کیے تو کپڑوں کا یہ جوڑا واش روم میں لٹکایا۔ کمرہ چھوڑنے سے پہلے ہم نے اپنا سامان وغیرہ تو سمیٹا لیکن ان کپڑوں کی طرف دھیان ہی نہ گیا اور یہ واش روم میں ہی لٹکے رہ گئے۔ خیر وضو کر کے میں نے کپڑے اُٹھائے اور اللہ کریم کا شکر ادا کرتے ہوئے نیچے آ گیا اور مغرب کی نماز ادا کی۔ 
اب ہوٹل کے استقبالیہ والے حصے کے اے سی چلا دئیے گئے تھے میں اور اہلیہ محترمہ اِدھر صوفوں پر آ کر بیٹھ گئے ۔ گھڑی کی سوئیاں آٹھ کے ہندسے کی طرف بڑھ رہی تھیں اور مجھے کچھ تشویش بھی ہو رہی تھی کہ جدہ لیجانے والی بس کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع کیوں نہیںآئی۔ میں نے سوچا کہ نیچے شارع ابراہیم خلیل پر جا کر سامان اُٹھانے کی ریڑھی یا ٹرالی والا کوئی شخص دیکھوں اور اُس کی مدد سے سامان نیچے شارع ابراہیم خلیل پر پہنچا دیں تاکہ اچانک بس آ جائے تو پھر کوئی مسئلہ نہ بنے۔ میری خوش قسمتی کہ شارع ابراہیم خلیل پر مجھے ایک ٹرالی والا مل گیا ۔ وہ سامنے آگے ہوٹل کی طرف جا رہا تھا کہ میں نے اُسے روک لیا اور اُس سے اپنے ہوٹل مشاعر الذھبیہ سے شارع ابراہیم خلیل تک سامان لانے کی بات کی وہ کچھ رد وکد کے بعد 15 ریال کرایہ پر اپنی ٹرالی پر سامان اُٹھانے کے لیے تیا ر ہو گیا۔ (جاری ہے)

ٹیگز: