Wed, September 16, 2026

مکہ مکرمہ میں آخری دن(۱)....!

مکہ مکرمہ میں آخری دن(۱)....!

(گزشتہ سے پیوستہ)
منگل ۳۰ جولائی مکہ مکرمہ میں ہمارے قیام کا آخری دن تھا ۔ اس دن مکہ کے مقدس تاریخی مقامات کی زیارات ہماری ایک اہم مصروفیت تھی جس کی تفصیلات بڑی حد تک بیان ہو چکی ہیں۔ اِ س ضمن میں بس میں ہمارے لیے گائیڈ بنے صاحب کا بھی ذکر ہوا ہے تا ہم اِن کے بارے میں ایک آدھ اور بات کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ہو ا یوں کہ زیارت والی بس ابھی واپس شارع ابراہیم خلیل پر اپنے سٹاپ پر نہیں پہنچی تھی بلکہ مسجد الحرام کے نواح میں شمال مشرقی سمت میں ہی تھی کہ ہمارے گائیڈ صاحب نے بس میں اپنے سامان کی پوٹلی کھولی اور اس میں سے خوشبویات، تسبیحیں اور اسی طرح کی کچھ دوسری اشیاءنکال کر با آوازِ بلندان کی خصوصیات اور خوبیاں بیان کرنے لگے۔ ان کا انداز بالکل ایسا ہی تھا جیسے اِدھر پاکستان میں بسوں کے اڈوں پر ہاکروں (گھوم پھر کر اپنی چیزیں بیچنے والوں) کا ہوتا ہے۔ بسوں خاص طورپر مضافاتی علاقوں میں جانے والی بسوں میں سواریا ں وغیرہ بیٹھ جاتی ہیں تو یہ ہاکر بسوں میں چڑھ آتے ہیں اور پھر ہاتھوں میں اٹھائی منجن (دانت صاف کرنے کے پاﺅڈر)، ہاضمے کی پھکی، نمکو اور ٹافیوں وغیرہ جیسی اشیاءکی خصوصیات اور خوبیاں بیان کرنے کے بعد مسافروں کی سیٹوںکے سامنے جا کر انہیں خریدنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہمارے گائیڈ صاحب جو مقدس مقامات کی زیارات کے دوران ایک ایسے راوی کے طور پر سامنے آئے تھے، جس نے مقدس مقامات کے بارے میں کچھ مستند اور کچھ غیر مستند روایات کو اَز بَر کر رکھا تھا اور انہیں دہرانے میں اپنی لسانی صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کیا تھا۔ ایک ہاکر کے طور پر بھی اُن کا رُوپ کچھ کم دلچسپی کا حامل نہیں تھا۔ میرا خیال تھا کہ عطر یا خوشبویات کی چھوٹی سی شیشی جس کی تعریف و تو صیف بیان کر کے وہ 12 یا 15ریال تک قیمت وصول کر رہے تھے مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کی عام دکانوں میں وہ اس سے کم نرخوں میں دستیاب تھی۔ خیر مقدس مقامات کی زیارات کے ایک گائیڈ کے طور پر انہیں جو خصوصی حیثیت حاصل تھی، اس کا فائدہ بہر کیف انہیں مل رہا تھاکہ عطر یات کہ ان کی کچھ شیشیاں مہنگے داموں میں بِک گئیں۔ پھر ایسا ہوا کہ بس ابھی شارع ابراہیم خلیل پر اپنے سٹاپ پر نہیں پہنچی تھی کہ انہوں نے اپنی اشیاءکی پوٹلی بند کر لی اور جوں ہی بس شارع ابراہیم خلیل پر جا کر رکی وہ بس سے سب سے پہلے اُتر کر چلتے بنے۔ شاید انہیں افسوس تھا کہ ان کی اشیاءکی خریداری کچھ کم ہوئی ہے۔ 
شارع ابراہیم خلیل پر میں اور اہلیہ محترمہ بس سے نیچے اترے تو مسجد الحرام میں ظہر کی اذان ہو چکی تھی۔ میرے اور اہلیہ محترمہ کے لیے مسجد الحرام میں جا کر نماز میں شامل ہونے کا وقت نہیں تھا۔ اس لیے ہم 
نے مناسب سمجھا کہ ظہر کی نماز ہوٹل کے کمرے میں ادا کر لیں گے لیکن اس سے قبل اِدھر مطعم عرفات پاکستانی ہوٹل سے کھانا کھا لیتے ہیں تاکہ آگے چڑھائی پر اپنے ہوٹل میں جانے کے بعد کھانا کھانے کے لیے دوبارہ شارع ابراہیم خلیل پر واپس نہ آنا پڑے۔ مختصر سا کھانا کھانے کے بعد ہم ہوٹل کے کمرے میں پہنچے۔ کچھ دیر آرام کیا۔ غسل کیا، کپڑے تبدیل کیے اور کمرے میں تنگ سی جگہ پر ظہر کی نماز ادا کی۔ اب بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے نے شام کو جدہ ائیر پورٹ پر جانے کے لیے تیاری کرنا تھی۔ شیر افضل صاحب کا فون آ چکا تھا کہ چار بچے تک ہوٹل کے کمرے کو چھوڑ کر سامان سمیت نیچے استقبالیہ یا لابی میں آ جانا ہو گا اور وہیں جدہ جانے والی بس کا انتظار کرنا ہو گا۔ ہمارے سامان کے اٹیچی وغیرہ جو ہم مدینہ منورہ سے پیک کر کے لائے تھے ایک کو چھوڑ کر اسی طرح بند تھے البتہ باہر کچھ اور سامان اورکپڑے وغیرہ تھے جنہیں سمیٹنا اور سنبھالنا تھا لیکن اس سے زیادہ مجھے اس بات کی فکر کھائے جا رہی تھی کہ اوپر کمرے سے لفٹ کے ذریعے نیچے لابی تک تو سامان کے اٹیچی کیس جیسے تیسے ہو گا لے ہی جائیں گے لیکن آگے شارع ابراہیم خلیل پر جب بس آئے گی، جس کے آنے کا مقررہ وقت ابھی تک معلوم نہیں ہے اس تک سامان کیسے پہنچ پائے گا۔ اس وقت سامان اٹھوانے کے لیے کوئی ریڑھی یا ٹرالی والا مل سکے گا بھی یا نہیں۔ میں اپنی ان فکروں میں غلطاں و پریشاں تھا کہ اہلیہ محترمہ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا کہ مکہ مکرمہ سے کوئی چیزیںوغیرہ ہم نے نہیں خریدیں۔ کیوں نہ میں کانوں کے لیے سونے کی بالیاں لے لوں۔ میں نے آپ کو بتایا نہیں ہے ویسے بھی میرے کانوں کی ایک بالی گر گئی ہے۔ شاید مدینہ منورہ سے آتے ہوئے اس دن راستے میں غالباً مسجد ذوالحلیفہ والی جگہ پر جہاں ہم نے عمرے کے لیے احرام باندھا تھا وہاں کہیں گِر گئی تھی۔ میں نے جواب دیا کہ خدا کی بندی پہلے بتایا ہوتا ؛ اب وقت انتہائی کم ہے اور مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ سونے کی دکانیں وغیرہ کد ھر ہیں اور کہاں سے بالیاں وغیرہ خریدی جا سکتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ شارع ابراہیم خلیل پر کبوتر چوک کے سامنے ایک صراف (r Money Change ) کی دکان تو ہے اور اس سے پہلے شاید ایک سونے کی دکان بھی ہے۔ میں جا کر دیکھ لیتا ہوں۔ اہلیہ محترمہ نے اپنی بالی مجھے پکڑائی کہ دکاندار مناسب قیمت پر لینا چاہے تو اسے دے کر اس کی قیمت نئی خریدی جانے والی بالیوں کی قیمت میں سے منہا کرا لیں۔
میں تیزی سے ہوٹل سے نکل کر شارع ابراہیم خلیل پر آ گیا اورمسجد الحرام کی طرف چلا تو کبوتر چوک سے کچھ پہلے یا اس کے سامنے بائیں ہاتھ سنار کی دکان پر پہنچا۔ یہ کوئی زیادہ بڑی دکان نہیں۔ اس وقت دکان میں غالباً ایک ہی نسبتاً جوان شخص موجود تھا۔ میں نے ہاتھ میں پکڑی بالی اسے تھمائی اور کچھ اردو ، کچھ انگریزی اور کچھ اشاروں میں اسے بتانے کی کوشش کی کہ اس کے ساتھ کی دوسری بالی گِر گئی ہے ۔ اس بالی کی قیمت لگا کر آپ رکھ لیں اور مجھے دو نئی بالیاں دے دیں۔ اُس نے بالی مجھ سے لے کر فی الفور الیکٹرانک ترازو پر اس کا وزن کیا اور کیلکولیٹر پر حساب لگا کر570 ریال اس کی قیمت بتائی۔ میں جلدی میں تھا، اس لیے یہ نہ پوچھا کہ اس کا وزن کتنا ہے اور کس نرخ سے آپ نے اس کی یہ قیمت لگائی ہے۔ صرف یہ کہا کہ نئی بالیاں دکھائیں۔ وہ سمجھا کہ اتنے وزن والی بالیاںدکھاﺅں جنکی قیمت اس بالی کی قیمت کے برابر بنتی ہو۔ اس طر ح اس نے یکے بعد دیگرے کئی ہلکے وزن والی بالیاں دکھائیں جبکہ میں اسے ذا بھاری وزن والی بالیاں دکھانے کے لیے کہہ رہا تھا۔ اس طرح بالیوں کا ایک جوڑا میں نے پسند کیا اور اسے قیمت لگانے کو کہا۔ اس نے بالیوں کے اس جوڑے کی 1170 ریال قیمت بتائی۔میں نے اسے کہا کہ یہ قیمت کچھ زیادہ ہے۔ میں اپنی بالی والے570 ریالوں کے ساتھ اور زیادہ دسے زیادہ 550 ریال اور (یعنی کل 1120 ریال) دے سکوں گا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ تو مذاق ہے، پھر کچھ اشاروںمیں کہنے لگا کہ آپ کیا کرتے ہیں ، میں نے اسے بتایا کہ اَنا معلم ۔ اس نے میرے ہاتھ تھام لیے اور اشارہ کیا کہ پیسے دیں۔ میں نے اسے 550ریال دئیے اور اس طرح اس نے کل1120ریال لے کر وہ بالیاں میرے حوالے کر دیں۔ میں خوش تھا ؛ شکر الحمد للہ کہ اہلیہ محترمہ جو کم ہی مجھ سے اپنے لیے کسی چیز کے لانے کی فرمائش کرتی ہیں اُن کے لیے میں نے مکہ مکرمہ سے یادگار کے طور پر سونے کی بالیاں خریدلی ہیں۔
میں خوش خوش اپنے ہوٹل کی طرف چلا لیکن ابھی کچھ مسائل باقی تھے جن کا سامنا کرناتھا۔ ہماری جدہ سے اسلام آباد کے لیے سعودی ائیر لائن کی فلائٹ تھی ، اُن کی ہدایت ہے کہ سامان کے بیگ یا اٹیچی کیس وغیرہ پتلی پلاسٹک شیٹوں میں لپٹے ( wrap) ہونے چاہیے۔ ہوٹل کے کمرے میں پہنچ کر میں نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے اٹیچی کیس پلاسٹک شیٹس میں لپیٹ لیے جائیں۔ نیچے شارع ابراہیم خلیل پر گیا وہاں قریب ہی دکان سے باریک پلاسٹک شیٹ کا رول ، چپکانے والی ایک ٹیپ اور قینچی لی اور اوپر آ کر اٹیچی کیسز کو پلاسٹک شیٹ میں لپیٹنا شروع کر دیا ۔ بیس پچیس منٹ کی کوشش کے باوجود میں بھاری اٹیچی کیسز کے گرد پلاسٹک شیٹ چپکانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو تھک ہا رکر یہ پریکٹس ختم کر دی اور پلاسٹک شیٹ کے رول، قینچی اور ٹیپ کو اپنے دستی بیگ میں ڈال دیا۔ یہ قینچی آگے جدہ ائیر پورٹ پر میرے لیے کیسے پریشانی کا باعث بنی ، اس کا تذکرہ آگے چل کر آئے گا۔ (جاری ہے)

ٹیگز: