Wed, September 16, 2026

عالمی بینک کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، جوہری توانائی منصوبوں پر عائد پابندی ختم

عالمی بینک کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، جوہری توانائی منصوبوں پر عائد پابندی ختم

واشنگٹن : عالمی بینک نے ترقی پذیر ممالک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جوہری توانائی کی فنانسنگ پر عائد 10 سالہ پابندی ختم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کرنا ہے۔

بینک کے صدر اجے بانگا نے عملے کو بھیجے گئے پیغام میں بتایا کہ بورڈ سے مشاورت کے بعد نئی توانائی پالیسی منظور کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق اب عالمی بینک اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی (IAEA) کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا تاکہ محفوظ اور مؤثر جوہری منصوبوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں بجلی کی مانگ 2035 تک دوگنی ہو جائے گی، جسے پورا کرنے کے لیے ہر سال توانائی کے شعبے میں 630 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اس وقت یہ سرمایہ کاری تقریباً 280 ارب ڈالر سالانہ ہے۔

عالمی بینک اب ان ممالک میں پرانے جوہری ری ایکٹرز کی عمر بڑھانے اور بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی مدد فراہم کرے گا۔

اگرچہ جوہری توانائی پر بورڈ میں نسبتاً آسانی سے اتفاق ہوا، لیکن قدرتی گیس کے اپ اسٹریم منصوبوں پر رکن ممالک میں اختلاف موجود ہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے گیس منصوبوں پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

خیال  رہے، عالمی بینک نے 2013 میں جوہری توانائی کی فنانسنگ روک دی تھی، اور 2017 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2019 کے بعد تیل و گیس کے اپ اسٹریم منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری بند کرے گا، تاہم اب کچھ گیس منصوبے دوبارہ زیر غور لائے جا رہے ہیں۔

ٹیگز: