کراچی: پاکستان کے توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عالمی بینک نے 37 کروڑ 59 لاکھ ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فنڈنگ 10 سالہ توانائی پروگرام کے پہلے مرحلے پر خرچ کی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق اس رقم سے قومی بجلی ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جبکہ جدید ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی تنصیب کے ذریعے بجلی کی ترسیل کو مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جائے گا۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت 640 میگاواٹ ونڈ انرجی کو قومی گرڈ سے منسلک کیا جائے گا، جس سے ملک میں صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد بجلی کی ترسیل میں بہتری، بجلی کی فراہمی میں استحکام اور لوڈشیڈنگ میں کمی کی توقع ہے، جبکہ جدید ٹرانسمیشن نظام بجلی کی مجموعی لاگت کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
اس منصوبے سے گھریلو، صنعتی اور تجارتی شعبوں کو زیادہ قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی ممکن ہوگی، جبکہ توانائی کے نظام کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے قابل بھی بنایا جائے گا۔
عالمی بینک کے مطابق اس اقدام سے سالانہ تقریباً 8 لاکھ 32 ہزار ٹن کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی، جبکہ یہ منصوبہ حکومت کی توانائی اصلاحات، قومی گرڈ کی مضبوطی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔