عید پر شیخ رشید کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں وہ اپنی والدہ مرحومہ کو یاد کر کے رو رہے ہیں، ایسا ہونا انسانی فطرت اور جذبات کے عین مطابق ہے۔ اصل چیز ان کے آنسو نہیں بلکہ باڈی لینگویج ہے۔ شدید مایوسی اور دباؤ کا شکار، ہارا ہوا عمر رسیدہ شخص جو خود کو نارمل ظاہر کرنے کے لیے کبھی ریڑھی سے کچھ خرید رہا ہوتا ہے، کبھی کسی دکان سے خریداری کر رہا ہوتا ہے، کبھی اپنے فارم ہاؤس ’’فریڈم ہاؤس‘‘ میں پالتو جانوروں کے ساتھ تصویریں بنا کر پوسٹ کرتا ہے، کبھی کسی تفریحی پہاڑی مقام پر جا کر اپنے فوٹوز سوشل میڈیا پر لگاتا ہے، کبھی پیشی بھگت کر عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتا ہے تو کرب، دکھ، بیزاری اور لاچاری کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا، شیخ رشید اول و آخر ایک مکمل ٹاؤٹ سیاستدان ہیں اور وہ اپنے اس لقب پر ہمیشہ نازاں بھی رہے۔ جی ایچ کیو کا گیٹ نمبر چار ہی ان کے لیے سب کچھ تھا۔ ایک دو مواقع کے سوا اسٹیبلشمنٹ نے بھی ہمیشہ شیخ رشید کو اپنی فخریہ پراڈکٹ کے طور پر پیش کیا۔ یہ شیخ رشید ہی تھے جو جلسوں کے دوران عمران خان کی بغل میں کھڑے ہو کر لوگوں کو پاکستان کو آگ لگانے اور سول حکمرانوں کو جان سے مار دینے کے لیے اکساتے رہے۔ پراجیکٹ نیا پاکستان کی بُری طرح سے ناکامی کے بعد جو پیچیدہ حالات پیدا ہوئے ان میں مکاری کی حد تک چالاک شیخ رشید بھی اپنے ٹریک سے پھسل گئے، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید اتنا زیادہ اثر رسوخ حاصل کر چکے تھے کہ اپنی ذات میں پورا ادارہ بن گئے، یہ تاثر عام ہو گیا کہ انہیں اگلا آرمی چیف بننے سے روکا نہیں جا سکتا۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ میڈیا اور ججوں کی بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ کھڑی ہو گئی، پی ٹی آئی حکومت کی رخصتی کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر عمران خان اینڈ کمپنی نے تو تنقید کرنا ہی تھی مگر جج بھی چیف جسٹس بندیال کی قیادت میں یوتھیاپے پر اتر آئے، اسٹیبلشمنٹ کے اپنے پالے پوسے چینلوں کا یہ حال تھا کہ اینکر اور تجزیہ کار جنرل باجوہ کو غیر ملکی ایجنٹ ثابت کرنے پر تلے تھے۔ یقیناً جنرل باجوہ نے کمزوری دکھائی یا پھر جنرل فیض حمید کے پاس اپنے چیف کے بارے میں کچھ ایسا موجود تھا جو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا ورنہ جتنا گند فیض حمید نے ڈالا، جنرل باجوہ کو اپنی فراغت سے پہلے انہیں ریٹائرمنٹ کا محفوظ راستہ دینے کی بجائے کورٹ مارشل کرنا چاہیے تھا۔ اسی دھما چوکڑی میں عام لوگ بھی اس وقت حیران پریشان رہ گئے جب شیخ رشید جیسے ’’جدی پشتی اردلی‘‘ اور بزدل کو آرمی چیف جنرل باجوہ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باتیں کرتے بلکہ دھمکیاں سناتے۔ باجوہ کے جانشین جنرل حافظ سید عاصم منیر کا تقرر رکوانے کے لیے جو مہم چلائی جا رہی تھی، شیخ رشید اس میں بھی متحرک رہے، یہاں تک کہ نو مئی ہو گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آہنی اعصاب کا مالک ہونے کا ثبوت دیا اور فیض حمید بھی گرفتار کر لیے گئے۔ اس دوران کچھ وقت کے لیے شیخ رشید کو بھی اٹھایا گیا۔ عمران کی حامی ملکی و غیر ملکی لابیوں اور فیض حمید نیٹ ورک کی چالوں نے جو ہڑبونگ مچا رکھی تھی ریاست اسے خاطر میں نہ لائی۔ شیخ رشید ہاتھیوں کی لڑائی میں کچلے گئے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ٹاؤٹ کو مکمل طور پر آؤٹ کر دیا جائے۔ ماضی اور حال گواہ ہیں کہ ٹاؤٹوں کو ان کی بڑی غلطیوں پر کبھی کبھار وقتی طور پر دھتکارا ضرور جاتا ہے لیکن برطرف نہیں کیا جاتا تاکہ ضروت پڑنے پر پھر سے استعمال کیا جا سکے۔ شیخ رشید کی بدقسمتی کہ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ناکارہ اشیا کی لسٹ میں ڈال کر مہر لگا دی، جی ایچ کیو تو دور کی بات عام عسکری دفاتر اور سیف ہاؤسز میں مدعو کرنے پر بھی پابندی لگا دی، لگتا ہے فون پر رابطے کرنے والے بھی غائب ہو گئے، ٹاؤٹی کی دنیا میں ایسی بلندی اور ایسی پستی کی مثال کم ہی ملے گی، شیخ کے بارے میں یوں میں خود بھی بہت کچھ جانتا ہوں اور میری طرح کئی دوسرے صحافی بھی خصوصاً راولپنڈی اسلام آباد میں خدمات سرانجام دینے والے بخوبی واقف ہیں۔ زیادہ کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں، لیکن جو پورا پاکستان جانتا ہے وہ یہ ہے ’’اوچھی حرکتیں، بازاری زبان، بدکرداری پر اترانا، انداز نشست و برخاست میں چھچھورا پن، رعونت، خفیہ ایجنسیوں کی فراہم کردہ پر چیوں کو پڑھ کر تھرڈ کلاس نجومی کی اداکاری، ٹی وی کی سکرینوں پر قبضہ جمائے رکھنا‘‘، شیخ رشید نے اسٹیبلشمنٹ کا پٹہ پہننے کے بعد خود کو جنرل سمجھنا شروع کر دیا تھا، شاید کچھ اور وقت اقتدار کے ایوانوں میں سگار کا دھواں اڑاتے اور گپیں ہانکنے میں نکل جاتا لیکن وہ اندازے کی غلطی سے حماقت کے اس درجے پر جا پہنچے کہ اپنے حقیقی مالکان کو ہی للکارنا شروع ہو گئے۔ اب نمونہ عبرت بن کر پھر رہے ہیں۔ یہ وہی شیخ رشید ہیں جنہوں نے 2022 میں پیشگی اعلان کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں حجاز مقدس جانے والے وفد کے ساتھ جو ہو گا وہ سب دیکھیں گے۔ پہلے سے تیار شدہ منصوبے کے تحت جو یقینا اسلام آباد میں ہی کسی مقام پر تیار کیا گیا تھا، پی ٹی آئی کے ایک گروہ نے مسجد نبویؐ کا تقدس پامال کیا، پاکستانی وفد کا پیچھا کر کے نعرے لگائے گئے، بے ہودگی کی انتہا کر دی۔ برطانیہ سے عمران خان کے فنانسر انیل مسرت اور چیکو وغیرہ بھی اس ناپاک جسارت کے لیے خصوصی طور پر آئے تھے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبویؐ میں ہلڑ بازی کے موقع پر وہاں موجود تھے۔ قبیح حرکت کے فوری بعد وہیں کھڑے ہو کر اپنی ویڈیو بنوا کر جاری کی اور کہا کہ پاکستانی حکومت کے لوگ یہاں آئے تھے، لوگوں نے چور چور کے نعرے لگائے، یہ عمران خان کی فتح ہے، یہ خانہ کعبہ جائیں گے، وہاں بھی انکے خلاف نعرے لگیں گے، دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ راشد شفیق نے موقع پر ہی نہ صرف اس گستاخی کی ذمہ داری قبول کی بلکہ ’’کریڈٹ‘‘ بھی لیا۔ دنیا کے مقدس ترین مقام کے تقدس کی ایسی پامالی دیکھ کر سعودی حکومت فوراً حرکت میں آ گئی، انیل مسرت اور چیکو وغیرہ ممکنہ خطرات کو بھانپ کر فوری طور پر چارٹر جہاز پر واپس انگلینڈ فرار ہو گئے، سعودی حکومت نے کچھ مجرموں کو پکڑ لیا جنہیں بعد میں نہ جانے کیا سوچ کر شہباز شریف نے معافی دلوا دی۔ راشد شفیق پاکستان آئے تو گرفتار کر لیے گئے، شیخ رشید پر بھی پاکستانی عدالت میں مقدمہ چلا، جج صاحب سخت برہم نظر آئے لیکن ان سب کو بری کر دیا گیا، مگر مکافات عمل بھی ایک حقیقت ہے۔ غلیظ سیاسی مقاصد و مفادات کے لیے دین و دنیا دونوں کو داؤ پر لگانے والے ظاہری و باطنی کرداروں کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔