واشنگٹن: مائیکروسافٹ نے اپنی 50ویں سالگرہ کی تقریب کے دوران اسرائیلی فوج کو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے دو ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔
کمپنی کی سالگرہ کی تقریب کے دوران انجینیئر ابتھال ابوسعد نے مائیکروسافٹ کے اے آئی سی ای او مصطفیٰ سلیمان کی تقریر کے دوران احتجاج کیا اور کہا کہ مائیکروسافٹ اسرائیلی فوج کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ہتھیار فراہم کر رہا ہے، جو غزہ میں ہونے والے مظالم اور قتل عام کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ ابتھال نے کمپنی کو اس نسل کشی میں شریک قرار دیا، اور کہا کہ 50 ہزار افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار مائیکروسافٹ ہے۔
مائیکروسافٹ نے ابتھال ابوسعد کو احتجاج کرنے اور تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے کے الزام میں برطرف کر دیا۔ اس کے علاوہ، ایک اور ملازم وانیا اگروال کو بھی احتجاج کی وجہ سے کمپنی چھوڑنے کے لیے کہا گیا، حالانکہ کمپنی نے بتایا کہ وانیا پہلے ہی استعفیٰ دے چکی تھیں۔
مائیکروسافٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے ملازمین کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہے، مگر کاروباری رکاوٹیں اور خلل ڈالنا ناقابل قبول ہیں۔ یاد رہے کہ گوگل نے بھی اپنے ملازمین کو ایسے معاہدوں کے خلاف احتجاج کرنے پر برطرف کیا تھا۔