شاباش بلاول بھٹو تمہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ سو سال بعد جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں ہندوستان سے فتح کا سہرا یقینا اس وقت کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے نام جائے گا لیکن ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ تاریخ کا مورخ جب محب وطنوں اور غداروں کی فہرست بنائے گا تو اس میں یقینا بلاول بھٹو زرداری کا نام محب وطنوں کی فہرست میں لکھا جائے گا کہ بغیر کسی لالچ کے بیرون ملک جا کر اپنی ذات سے بالاتر ہو جماعتی گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر جگہ صرف اور صرف ریاست کی بات کر رہے ہیں ۔ ہندوستان نے بھی سینئر سیاستدان اور سفارتی دنیا کا تجربہ رکھنے والے ششی تھرور کی قیادت میں ایک سفارتی مشن دنیا کے اہم ممالک میں بھیجا ہے لیکن بھٹو کے نواسے اور شہید بی بی کے صاحبزادے نے ہندوستانی مشن کو ہر جگہ مات دی ہے ۔ امریکن کانگریس ہو یا اقوام متحدہ کے وفود ہوں ہر جگہ انتہائی اعتماد کے ساتھ اپنے ملک کا موقف پیش کیا اور پھر دنیا سے منوایا بھی ہے ۔ ہم نے ٹیلی وژن کی سکرینوں پر ان ملاقاتوں کی وڈیوز دیکھیں ان میں ملاقات کرنے والوں کی باڈی لینگویج سے پتا چل رہا ہے کہ وہ اس جواں سال سیاستدان سے کس قدر متاثر نظر آ رہے ہیں ۔ جس وقت حکومت نے اس کمیٹی کا اعلان کیا تھا تو تحریک انصاف نے بڑی کھپ ڈالی تھی کہ انھیں اس میں شامل کیوں نہیں کیا گیا تو حکومت نے کہا تھا کہ جب پارلیمانی وفد جائے گا تو اس میں ان کی جماعت کے لوگوں کو ضرور شامل کیا جائے گا ۔ آج حالات و واقعات کو دیکھنے کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حکومت کا اس کمیٹی میں تحریک انصاف کے لوگوں کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ سو فیصد درست تھا اس لئے کہ بیرون ملک جو وفد گیا ہے وہ صرف اور صرف ریاست پاکستان کا مقدمہ لڑ رہا ہے اور دنیا کے سامنے ہندوستان کا مکروہ چہرہ دکھا رہا ہے لیکن ایک طرف بلاول بھٹو زرداری ہے جو سفارتی محاذ پر ریاست کی لڑائی لڑ رہا ہے اور دوسری جانب تحریک انصاف جو کچھ کر رہی ہے اسے کسی طور بھی ریاست دوست اقدام نہیں کہہ سکتے ۔ 14جون کو فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ کے دورے پر ہوں گے اور اسی دن تحریک انصاف واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ کے باہر فیلڈ مارشل صاحب کے خلاف احتجاج کر رہی ہے ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ کتنا اہم ہے کہ جسے تحریک انصاف اپنے احتجاج سے سبو تاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس دورے میں امریکہ پاکستان کو جدید ترین ریڈار سسٹم دینے کی بات کرے گا ۔
1972کا سال تھا اور اسی جون کے مہینے کا آخری عشرہ تھا ۔ بھٹو صاحب کو مذاکرات کے لئے ہندوستان جانا تھا ۔ اس وقت کی حزب اختلاف کو بھی یقینا بھٹو صاحب سے سنجیدہ نوعیت کے اختلافات ہوں گے اور کیا اعلیٰ پایہ کی شخصیات تھیں ۔ مولانا مفتی محمود ، پروفیسر غفور احمد ، مولانا شاہ احمد نورانی ، پیر صاحب پگاڑہ اور نواب زادہ نصر اللہ لیکن وہ حزب اختلاف تھی انھیں بھٹو صاحب سے اختلاف ضرور تھا لیکن ریاست پاکستان سے اختلاف نہیں تھا لہٰذا دشمن کو دکھانے کے لئے کہ ہمارے آپس میں لاکھ اختلافات ہوں لیکن ہم دشمن کے مقابلے میں متحد ہیں ۔ اس وقت کی پوری سیاسی قیادت بھٹو صاحب کو رخصت کرنے کے لئے ائر پورٹ پر موجود تھی اور یہ تو ابھی کل کی بات ہے کہ 2019میں پلوامہ واقعہ کے موقع پر اس وقت کی حزب اختلاف نے بھی تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ کھڑی تھی لیکن اس وقت بھی جب پلوامہ واقعہ پر بریفنگ دی جا رہی تھی تو حزب اختلاف نے تحریک انصاف کی طرح بائیکاٹ نہیں کیا تھا بلکہ اس بریفنگ میں شریک ہوئی تھی لیکن اس وقت بھی بانی پی ٹی آئی اس بریفنگ کی جگہ سے چند قدم کے فاصلے پر اپنے چیمبر میں بیٹھے رہے لیکن حزب اختلاف کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہوئے ۔ اب یہاں رک کر سوچیں کہ اگر تحریک انصاف کے ارکان بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں جانے والی کمیٹی میں شامل ہوتے تو جس شد و مد سے تحریک انصاف امریکہ کی قیادت اس احتجاج میں لوگوں کو شامل ہونے کے لئے دعوت دے رہی ہے توکمیٹی میں شامل تحریک انصاف کے ارکان بھی یقینا اس احتجاج میں شامل ہوتے اور اگر ایسا ہوتا تو عقل کا اندھا بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس کے بعد اس کمیٹی کے مشن کا تو دھڑن تختہ ہونا ہی تھا لیکن سوچیں کہ اس سے پوری دنیا میں کیا پیغام جاتا اور کیسی جگ ہنسائی ہوتی اور ہندوستانی میڈیا جو پہلے ہی پاکستان کے خلاف تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کو بطور دلیل پیش کرتا ہے وہ کیا کچھ نہ کہتا ۔
بہترین طرز عمل یہ تھا کہ تحریک انصاف کہتی کہ ہمارے ان سے کچھ مسائل ہیں لیکن جس طرح پاک بھارت کشیدگی کا ماحول چل رہا ہے تو یہ وقت ان اختلافات کے اظہار کا نہیں ہیں بلکہ ہم اس دوران دشمن کے مقابلے میںمکمل طور پر افواج پاکستان اور اس کے سربراہ کے ساتھ ہیںلیکن شومئی قسمت کہ ایسی وسعت قلبی آتی کہاں سے ۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ اپنی ذات سے آگے کچھ سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے اسی لئے عرض کیا تھا کہ ’’ شاباش بلاول بھٹو تمہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ سو سال بعد جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں ہندوستان سے فتح کا سہرا یقینا اس وقت کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے نام جائے گا لیکن ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ تاریخ کا مورخ جب محب وطنوں اور غداروں کی فہرست بنائے گا تو اس میں یقینا بلاول بھٹو زرداری کا نام محب وطنوں کی فہرست میں لکھا جائے گا ‘‘ ۔