Wed, September 16, 2026

شاباش ارشد ندیم، ایک اور گولڈ میڈل پاکستان کے نام

 شاباش ارشد ندیم، ایک اور گولڈ میڈل پاکستان کے نام

پاکستانی اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور جیولن تھرو سٹار ارشد ندیم نے ایشیئن ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کر لیا ہے۔ اس ایونٹ کے جیولن مقابلے میں ارشد ندیم کی سب سے طویل تھرو ان کی آخری کوشش کے دوران 86.40 میٹر کی تھی۔ اس سے قبل پاکستانی جیولن سٹار نے پہلی تھرو 75.64 میٹر دور پھینکی جبکہ ان کی دوسری تھرو 76.80 میٹر رہی، تیسری کوشش میں ارشد نے 85.57 میٹر جبکہ چوتھی تھرو 83.99 میٹر طویل اور پانچویں 83.44 میٹر تھی۔ ارشد ندیم آج سے پہلے کبھی ایشیئن ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں کوئی میڈل حاصل نہیں کر پائے تھے۔ انہوں نے 2017ء اور 2019ء میں ان مقابلوں میں حصہ لیا تھا لیکن اس وقت وہ 80 میٹر مارک عبور نہیں کر پائے تھے۔ خیال رہے کہ ارشد ندیم کے ساتھ پاکستان کے ایتھلیٹ یاسر سلطان نے بھی جنوبی کوریا میں منعقدہ ایشیئن ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے جیولن تھرو مقابلوں کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا تاہم فائنل میں ان کی سب سے لمبی تھرو 75.39 میٹر رہی اور وہ آٹھویں پوزیشن پر آئے۔ یاد رہے کہ یاسر سلطان نے 2023ء میں ایشیئن ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اور یہ کارنامہ 92.97 میٹر فاصلے پر نیزہ پھینک کر سرانجام دیا تھا جو نہ صرف ایک اولمپکس ریکارڈ ہے بلکہ ان کے کیریئر کی بہترین کارکردگی بھی ہے۔ انہیں اس کارکردگی کے عوض پاکستان کا سرکاری اعزاز تمغہ امتیاز دیا گیا تھا۔ ارشد کو رواں ماہ ایشیئن ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کی جانب سے ایشیا کے بہترین مرد ایتھلیٹ کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ ارشد نے فائنل میں جگہ بنانے کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ مجھے ہمیشہ کی طرح اب بھی آپ کی دعاؤں اور حمایت کی ضرورت ہے۔ اس مقابلے میں انڈیا کے سٹار ایتھلیٹ نیرج چوپڑا نے تو شرکت نہیں کی تاہم انڈین ایتھلیٹ سچن یادو ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل میں دوسرے نمبر پر رہے۔ ایشیئن ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد ہونے والی اس چیمپئن شپ میں 45 ایشیائی ممالک شریک ہوتے ہیں۔
ارشد ندیم کی والدہ نے کہا کہ پورے ملک نے ان کے بیٹے کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگیں، جس کے بعد انہوں نے یہ میڈل جیت کر پاکستان کا نام روش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ارشد ندیم نے محنت کی اور اللہ نے اس کی محنت کا پھل دیا۔ جب تک میرے بیٹے کے لیے دعائیں ہوتی رہیں گی تب تک وہ پاکستان کا نام روشن کرتا رہے گا۔ ارشد ندیم کے والد نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ ان کا بیٹا پاکستان جھنڈا لے کر واپس آئے گا اور وطن واپسی پر ان کا بھرپور استقبال کیا جائے گا۔ ارشد ندیم کی اس کامیابی پر سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی ان کو سراہتے ہوئے فخر پاکستان اور بہترین کھلاڑی قرار دیا۔ سپورٹس جرنلسٹ فیضان لکھانی نے ایکس پر لکھا کہ ارشد ندیم 50 برس بعد پہلے پاکستانی ہیں، جنہوں نے ایشیئن ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان کو اس مقابلے میں آخری بار گولڈ میڈل 1973ء میں ملا تھا، جب فلپائنز میں اللہ داد نے جیولین تھرو جبکہ 800 میٹر ریس کے مقابلے میں پاکستان کے ہی محمد یونس نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ افضل جاوید نے ارشد ندیم کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ آپ نے ایک بار پھر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ پاکستان کے لیے 40 برس بعد اولمپکس میں جیولن تھرو مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والے سٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک نمبر 101-15-L سے ہے۔
ارشد ندیم کا سفر میاں چنوں کے گھاس والے میدان سے شروع ہوا جو انہیں انٹرنیشنل مقابلوں میں لے گیا۔ ارشد ندیم کے کوچ فیاض حسین بخاری ہیں جن کا تعلق پاکستان واپڈا سے ہے۔ وہ خود بین الاقوامی ایتھلیٹکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کے بقول ’’ارشد ندیم ایک سمجھدار ایتھلیٹ ہیں جو بہت جلدی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو کام ایک عام ایتھلیٹ چھ ماہ میں کرتا ہے ارشد وہ کام ایک ماہ میں کر لیتے ہیں۔‘‘ ارشد ندیم کے کیریئر میں دو کوچز رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔ رشید احمد ساقی ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے علاوہ خود ایتھلیٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں باصلاحیت ایتھلیٹس کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔
ارشد ندیم جب چھٹی ساتویں جماعت کے طالبعلم تھے، انہیں وہ اس وقت سے جانتے ہیں۔ اس زمانے میں ان کی توجہ کرکٹ پر زیادہ ہوا کرتی تھی اور وہ کرکٹر بننے کے لیے بہت سنجیدہ بھی تھے لیکن ساتھ ہی وہ ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی سے حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنے سکول کے بہترین ایتھلیٹ تھے۔ رشید احمد ساقی کہتے ہیں ’’میرے ارشد ندیم کی فیملی سے بھی اچھے مراسم ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن ان کے والد میرے پاس آئے اور کہا کہ ارشد ندیم اب آپ کے حوالے ہے، یہ آپ کا بیٹا ہے۔ میں نے ان کی ٹریننگ کی ذمہ داری سنبھالی اور پنجاب کے مختلف ایتھلیٹکس مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے بھیجتا رہا۔ ارشد نے پنجاب یوتھ فیسٹیول اور دیگر صوبائی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ یوں تو ارشد ندیم شاٹ پٹ، ڈسکس تھرو اور دوسرے ایونٹس میں بھی حصہ لیتے تھے لیکن میں نے ان کے دراز قد کو دیکھ کر انہیں جیولن تھرو کے لیے تیار کیا۔‘‘ 
یاسر سلطان میو کا تعلق لاہور کے قریب برکی ہڈیارہ کے گاؤں گھنیاکے سے ہے۔ یاسر سلطان کے والد لاہور میں ایک فیکٹری میں کلرک ہیں۔ ان کے بڑے بھائی فوج میں ہیں جبکہ یاسر سلطان کو جیولن تھرو میں قومی سطح پر عمدہ کارکردگی کے باعث واپڈا کی جانب سے بھی نوکری دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی فیصل سلطان فوج میں ایتھلیٹ ہیں اور انہیں دیکھ کر یاسر میں بھی ایتھلیٹکس کا شوق پیدا ہوا اور جیولن تھرو اس لیے شروع کی کیونکہ میرا جسم فربہ تھا۔ میں بچپن سے ہی دور پتھر پھینکتا تھا اور پرندوں کا شکار بھی کرتا تھا۔

ٹیگز: