Wed, September 16, 2026

آئینی ترامیم، وزیر اعظم کی بیرون ملک پاکستانیوں کو شاباش

آئینی ترامیم، وزیر اعظم کی بیرون ملک پاکستانیوں کو شاباش

مسلمانوںکا آئین اللہ تعالی نے چودہ سو سال قبل قران مجید کی شکل میں دیا ہوا ہے ، اس پر عمل درآمد نہ کرکے ہم دنیاوی قوانین بنانا شروع کردیتے ہیں پاکستان کے سیاسی ماحول میں بعض سیاست دان سینٹ سے منظور کی جانے والی 27 ویں آئینی ترامیم پر شور مچا رہے ہیں مخالفت کرنا تو حزب اختلاف فرض ہے، جس ایوان میں بیٹھنے کیلئے انہیں عوام نے ووٹ دیا ہے وہ اس میں شور کرنے آتے ہیں اور اسمبلی میں بیٹھنے کے الائونس ضرور لیتے ہیں اس مسئلے پر انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی، 27 ویں ترمیم کے حوالے سے ایک مذہبی کم سیاسی جماعت کے رہنما نے فرمایا کہ ہمیں مسودہ دیر سے ملا ہے اس پر بات کرنے کیلئے اسمبلی کم ازکم ایک ماہ کا وقت دے، پاکستان میں آئینی ترمیم کوئی ایسی نہیں آتی جس میں عوام کے روزگار کی ضمانت ، مہنگائی ختم کرنے کے قانونی نکات ہوں، کیا ریاست کسی بھی جنس، ذات اور نسل سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے دولت اور ذرائع پیداوار کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو روکے گی۔ اس آئینی دفعہ کی دوسری ذیلی شق کہتی ہے کہ ریاست ملک میں دستیاب ذرائع، وسائل کے مطابق ہرشہری کو روزگار فراہم کریگی۔دفعہ 38 کی تیسری ذیلی شق کہتی ہے کہ ریاست ہر شہری کو سوشل سیکورٹی اور لازمی سوشل انشورنس بھی فراہم کریگی اور دفعہ 38 کی چوتھی ذیلی شق کہتی ہے کہ ریاست ہر شہری کو روٹی، کپڑا اور مکان بھی فراہم کرے گی۔ آئین کی جن دفعات سے طاقت ور لوگوںکے مفادات وابستہ ہوتے ہیں انہیں پر عملدرآمد ہوتا ہے، عام آدمی کیلئے جو دفعات موجود ہیں ان پر عمل نہیںہوتا۔ قتل کا مراعات یافتہ مجرم عدالت میں پیشی پر victory کا نشان بناتا ہے اس صورتحال میں کسی بھی مراعات یافتہ شخص کو چاہے وہ صدر رہا ہویا کچھ اور مراعات یافتہ کے زمرے میں آتا ہے اس کے لئے آئین میں اس تحریر کی کیا ضرورت ہے ؟؟ آئین کی شق 38میں ملک سے ربا کی لعنت ختم کرنے کا ذکر بھی جسکا کوئی ٹائم فریم نہیں 
ہے ایک ذیلی شق میں 2028 میں ربا کے خاتمے کا ٹائم فریم دیا گیا ہے اس وقت پارلیمنٹ کے ایوان میں جو بحث جاری ہے، وہ محض آئین کے چند صفحات میں تبدیلی کا سوال نہیں بلکہ طاقت کے محور، انصاف کی سمت، اور جمہور کے اعتماد کا امتحان ہے۔ حکومت اسے ’’اصلاح‘‘ کہتی ہے، عوام کے دل میں ایک ہی سوال ہے کیا یہ ترمیم ان کے حالات بدلے گی یا صرف کرسیوں کا زاویہ؟قانون کی سب سے بڑی توہین وہ شخص کرتا ہے جو خود کو اس سے بالا سمجھتا ہے۔
 27ویں ترمیم کا اصل امتحان پارلیمنٹ کا نہیں، بلکہ کرداروں کا ہے کہ کون اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر قوم کا سوچتا ہے۔ اگر یہ ترمیم عدلیہ کو مزیدکمزور کرتی ہے تو یہ انصاف کے ستون کو ہلا دے گی، گزشتہ ہفتے کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات اسی بحث میں عوام کا وقت ضائع کرتے رہے جبکہ سب سے بہتر خبر یہ تھی جسکا ذکر وزیر اعظم پاکستان میاںشہباز شریف نے کرتے ہوئے سمند ر پاکستانیوںکو خراج تحسین پیش کیاہے خاص طور سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کاکہ سعودی عرب بھیجے جانے والے زرمبادلہ نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیںحالیہ مہینے (اکتوبر 2025) میں، سعودی عرب سے پاکستان کو ترسیلات زر تقریباً 820.9 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جو حکومت پر غیر ممالک میں موجود پاکستانیوںکا حکومت پر اعتماد ہے کہ وہ ملک کی معیشت کی درستی کیلئے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان قانونی ذرائع سے بھیج رہے ہیں پاکستانیوں کو زیادہ زرمبادلہ پاکستان بھیجنے میںاہم کردار پاکستانیوں کے فورمز اور سفات کاروںکا ہے، ستمبر 2025 کے لیے، سعودی عرب نے تقریباً 750.9 ملین امریکی ڈالر کا تعاون کیا، جس سے ملک کا سب سے بڑا تعاون کرنے والا بن گیا۔ ترسیلات زر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد کرتی ہیں (یعنی جب کوئی ملک اپنی برآمدات سے زیادہ درآمد کرتا ہے) اس سے پاکستان کو بیرونی مالیاتی دباؤ کے وقت بھی سانس لینے کی گنجائش ملتی ہے۔ پاکستان میں خاندان بھی اندرون ملک مہنگائی کی وجہ سے بیرون ملک کام کرنے والے رشتہ داروں کی مالی مدد پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ باضابطہ ترسیلات زر کے ذرائع میں اضافہ رسمی بینکاری نظام اور حکومتی پالیسیوں میں تارکین وطن کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو یہ ترسیلات کافی سہارہ کے سبب ہیں۔ یہ ترسیلات زر غیر ملکی کرنسی لانے، گھر بیٹھے خاندانوں کی کفالت اور معیشت کے لیے ایک بفر فراہم کر کے پاکستان کی مدد کر رہی ہیں۔ اس وقت غیر ممالک میں موجود پاکستانی سابق دور کی طرح فیک نیوز اور سوشل میڈیا کی نظر انداز کرتے ہوئے حکومت کے شانہ بشانہ ہیں اسلئے ترسیلات کو مزید مستحکم اور غیر ممالک میںموجود پاکستانیوںکو مزید ترسیلات کیلئے کچھ سہولیات دیکر اس مقدار کو بڑھایا جاسکتا ہے ترسیلات کی طرف راغب کرنے کیلئے سفارت خانوں/قونصل خانوں میں ڈیسک قائم کریں۔ ترسیلات بھیجنے والے سرفہرست ممالک (UAE، سعودی عرب، UK، USA) میں ’’سالانہ ڈائیسپورا بزنس سمٹ‘‘ کا اہتمام کریں۔ زرمبادلہ کی مقدار سامنے رکھتے ہوئے پی آئی اے کی سفری نرخوں میں رعایت ،پاکستان میں فیملی کے لیے یوٹیلٹی بل میں چھوٹ ، سرکاری خدمات یا پاسپورٹ پر چھوٹ، آجکل پاکستان کے ہوائی اڈوںپر وزارت داخلہ اور ہوائی اڈوں پر ڈیوٹی دینے والے اسٹاف میں آپس کی چپلقش کی شکایات عام ہیںکہ وہ آنے جانے والوں کو تنگ کررہے ہیں یہ بات ٹھیک ہے کہ بھیک مانگنے اور عمرہ پر آنے والے یا ملازمتوںپر آنے والے پاکستانیوںکو بلاجواز پریشان کی جاتا ہے اس میں شفافیت ہونا ضروری ہے یہ بات خوش آئند ہے اس سال بھی ایک لاکھ سے زائد پاکستانی خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب گئے ہیں، مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اندرونی روزگار کے ذرائع پیدا نہ کریں اور ہمارا DRAIN BRAIN ہو، غیر ممالک میںموجود انونسٹرز فورم کو اس بات پر راضی کیاجائے وہ باہر ملک میں کما کر اپنی بچت باہر نہ رکھیںبلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں تاکہ پاکستان میں ہمارے نوجوان ائرپورٹ کے راستے کے بجائے ملک میں باعزت ملازمت حاصل کریں۔

ٹیگز: