Wed, September 16, 2026

روس کی طرف سے جواب کا انتظار

روس کی طرف سے جواب کا انتظار

پاکستان بھر میں ہی نہیں دنیا کے ہر ملک میں سیاست اور جنگ کے بارے میں جاننے کی خواہش رکھنے والا ہر شخص ایک دوسرے سے پوچھتا نظر آتا ہے کہ روس نے یوکرین کی طرف سے کئے جانے والے حملے کا اب تک جواب کیوں نہیں دیا۔ اس سوال کا جواب کوئی راز نہیں، بچوں کی لڑائی کھیل کھیل میں شروع ہوتی ہے۔ اگلی شام لڑنے والے بچے پھر اکٹھے کھیلتے نظر آتے ہیں، خواتین کی لڑائی بھی چھوٹی سی بات سے شروع ہوتی ہے کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا وہ بات سینہ بہ سینہ ہوتی پورے شہر کے علم میں آ جاتی ہے، بول چال ختم اور تعلقات کشیدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ کشیدگی قریباً ایک ماہ جاری رہتی ہے پھر فریقین ایک شام کسی ایک سہیلی کے گھر قہقہے لگاتے نظر آتے ہیں، مردوں کی لڑائی زن، زر اور زمین سے شروع ہوتی ہے لہٰذا عرصہ دراز تک چلتی ہے۔ زن بے وفائی کر جائے، زر ختم ہو جائے اور زمین بک جائے تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ دو ملکوں کے درمیان لڑائی اس طرح شروع نہیں ہوتی، اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔ دنیا نے دو برس میں تین جنگی دیکھ لی ہیں۔ اسرائیل فلسطین کا نام و نشان مٹانا چاہتا ہے۔ روس اور یوکرائن متحارب ہیں پاکستان اور بھارت لڑنے مرنے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔ کون حق پر ہے اور کون نہیں، اسے چھوڑ کر ذرا ماضی میں چلتے ہیں۔ 
دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگاساکی پر دو ایٹم بم چلائے۔ جاپان تباہ ہو گیا، جرمنی کی کمر ٹوٹ گئی اور ہتھیار ڈال دیئے گئے۔ اقوام متحدہ وجود میں آئی اور فیصلہ ہوا کہ ملکوں کے تصفیہ طلب امور یہاں لائے جائیں گے اور ان کا فیصلہ مذاکرات سے ہوگا، جنگ عظیم میں اتحادی ممالک اس دور میں بھی اسلحہ فیکٹریاں چلا رہے تھے۔ بمبار لڑاکا ہوائی جہاز، ٹینک، توپیں، بندوقیں، مشین گنز اور ان میں استعمال ہونے والا گولہ بارود بڑی تعداد میں تیار کیا جاتا تھا اور جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد بھی تیار کیا جاتا رہا۔ اسلحہ انڈسٹری بند نہیں کی گئی۔ یہ معیشت کا حصہ بنا دی گئی۔ اس دور کی فاتح اور جارح مزاح قوتوں نے فیصلہ کیا کہ اب آئندہ کوئی جنگ امریکہ یورپ میں نہیں ہوگی بلکہ مستقبل کی تمام جنگیں ایشیاء میں ہونگی۔ عرب و افریقہ میں سرنگی جنگ کے بعد ان ممالک کے وسائل پر قبضہ کیا جائے گا اور امریکی و یورپی معیشت کو اس کے زور پر چلایا جائے گا۔ برطانیہ کے ہاتھوں برصغیر کی لوٹ مار سب کے سامنے ایک حوصلہ افزا مثال تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تمام جنگیں اسی خیال اسی منصوبے کے تحت لڑی گئی ہیں۔ آئندہ بھی اس منصوبے کے تحت یہی خطے میدان جنگ ہوں گے۔ اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی کی ترقی اور ملکوں کی باہمی رقابت نے دنیا کو مختلف بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے۔ آج دو بڑے بلاک بن چکے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، جاپان، حجاز، یو اے ای، قطر، بھارت ایک بلاک میں ہیں۔ بنگلہ دیش اور اس سے ملتے جلتے ملک زیادہ اہم نہیں لیکن جو جس بڑے ملک کے قریب ہے اس کا بغل بچہ ہے۔ چین، روس، ایران، کوریا دوسرے بلاک میں ہیں۔ ترکی دونوں طرف حسب ضرورت نظر آتا ہے، اسے یورپ میں شامل ہونے کی خواہش ہے۔ یہی خواہش اسے ایک کشتی میں پائوں رکھنے سے روکتی ہے۔ وہ دونوں کشتیوں کا سوار ہے۔ پاکستان کی طرح۔ امریکی بلاک دنیا میں اپنے پروگرام کے مطابق جنگیں جاری رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس میں شامل برطانیہ، جرمنی، فرانس، جاپان ٹیکنالوجی اور اسلحہ سازی کی صنعت میں بہت آگے جا چکے ہیں۔ وہ ہر زمانے میں اپنا مال بیچنا چاہتے ہیں۔ چینی گروپ جنگوں پر یقین نہیں رکھتا، وہ اقتصادی ترقی کے پروگرام کو اولیت دیتا ہے، یہی پالیسی پاکستان، ایران، روس اور کوریا کی ہے لیکن جنگ مسلط کرنے کے خطرے کے تحت یہ ملک اپنے دفاع سے غافل نہیں۔ امریکہ نے افغانستان کو اسی منصوبے کے تحت تاراج کیا۔ عراق، لیبیا، شام اور کویت کے وسائل پر قبضہ اس کا خواب تھا۔ افغانستان نفسیاتی طور پر امریکہ کے مقابلے میں چین کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہی حال بنگلہ دیش کا ہے جو امریکی گروپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ 
اسرائیل کو امریکی گروپ نے شہ دی، یوکرین کو امریکی گروپ نے نیٹو میں شامل ہونے کا جھانسا دیا اور فوجیں روس کی سرحد پر پہنچائیں۔ اسرائیل حملے سے پہلے فلسطینیوں نے اور یوکرائن کے حملے سے پہلے روس نے دفاعی حملہ کیا۔ یہی کچھ بھارت نے پاکستان کے ساتھ کیا لیکن پاکستان پہلے تو تیل اور تیل کی دھار دیکھتا رہا پھر تحمل کا دامن تھام کر جواب دینے پر مجبور ہوا۔ امریکہ کی ایک کال پر اگر پاک بھارت جنگ بند ہو سکتی ہے تو فلسطین اور یوکرین میں جنگ بند کیوں نہیں ہو سکتی؟ امریکی بلاک جنگ کو  طول دینا چاہتا ہے تاکہ ان کا اسلحہ بکتا رہے، نیا اسلحہ ٹیسٹ ہوتا رہے اور اسی جنگ کے نتیجے میں وسائل پر قبضہ بھی ہوتا رہے اور مخالف بلاک کو کمزور و تباہ بھی کیا جائے۔ 
یوکرین کے پیچھے امریکہ اور پورا یورپ کھڑا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کو کسی بائولے نے کاٹا ہے کہ اس نے روس کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آنے کا اعلان کر دیا حالانکہ اس کا روس کے ساتھ براہ راست کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ اس نے یہ سب کچھ امریکہ کی شہ پر کیا ہے۔ دیگر یورپی ممالک بھی یہی طرز عمل اختیار کریں گے۔ بڑے جوڑ کی کشتی کے فیصلے کے بعد چھوٹے جوڑ پاکستان و بھارت کی کشتی شروع کرا لی جائے گی، اسے وقتی طور پر روکا گیا ہے۔ امریکہ کی پاکستان سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ 
یوکرین کے روس پر اٹیک اور اس کے نقصانات کی کہانی کا حقیقت سے دور کا تعلق نہیں۔ روس اور اس کے صدر اس کی مسلح افواج کباڑیئے کی دکان نہیں چلاتے کہ انہوں نے اپنے اہم تمام بمبار کھلے میدان میں کھڑے کر رکھے تھے کہ یوکرینی ڈرون آئیں، انہیں تباہ کریں تاکہ پھر روس اس کا ملبہ بیچ کر پیسہ کھا سکے۔ روس کے پاس چار ہزار پانچ سو لڑاکا اور بمبار جہاز ہیں۔ اڑھائی سو جنگی کاپٹر اور ہزاروں کی تعداد میں ماڈرن دور مار توپیں اور ایسے میزائل ہیں جو امریکہ اور یورپ میں دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بڑی طاقت، بڑے حملے سے قبل اپنے اہم اتحادیوں کے مشورے کے بعد کوئی بڑا جواب دے گی۔ وقت کا انتخاب روس کا حق ہے، امریکہ اور یورپ کے عزائم واضح ہیں۔ روس نے اگر اپنے دس ارشنک میزائل چلا کر یوکرین کے دس شہر اڑا دیئے تو یوکرین کی وہی حالت ہو جائیگی جو سڑک پر پھرتے آوارہ کتے کی تیزرفتار گاڑی کی زد میں آنے کے بعد ہوتی ہے۔ اس کا نچلا دھڑ بے کار ہو جاتا ہے پھر وہ گھسیٹ گھسیٹ کر باقی سانس پورے کرتا ہے۔ روس کی طرف سے ایسا حملہ متوقع ہے وہ لمبی سوچ بچار میں پڑ گیا تو یہ اسے اس کی کمزور سمجھا جائے گا اور امریکہ ایماء پر ایک اور وار اس کے سر پر کیا جائے گا۔ یہ شکست صرف اس کی نہیں روس، کوریا اور چین کی شکست ہوگی بلکہ چینی بلاک کی شکست ہوگی جس میں پاکستان اور ایران کے ساتھ افغانستان اور بنگلہ دیش بھی شامل ہوں گے کیا چینی بلاک بیٹھے بٹھائے یہ شکست تسلیم کر لے گا یقینا نہیں، روسی جواب کا انتظار اہم ہے۔

ٹیگز: