Wed, September 16, 2026

فتنہ الہندوستان کی مارو اور ریاست پر ڈال دو پالیسی

فتنہ الہندوستان کی مارو اور ریاست پر ڈال دو پالیسی

صوبہ بلوچستان ہمیشہ سے پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قدرتی وسائل کی دولت، جغرافیائی محل وقوع اور اس کے سماجی و ثقافتی تنوع نے اسے ملکی ترقی میں کلیدی مقام عطا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک دشمن قوتیں، خصوصاً بھارت، طویل عرصے سے بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی منظم کوشش کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے ان کالعدم تنظیموں کو اسلحہ، فنڈنگ، تربیت اور خفیہ سرپرستی فراہم کی، تاکہ صوبے میں خوف، انتشار اور بدامنی پھیلائی جا سکے۔ 2016ءمیں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اعتراف اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔ بی ایل اے، بی ایل ایف، بی این اے، بی آر اے جیسی دیگر فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو مختلف طریقوں سے جن میں اپنی سہولت کار بلوچ یکجہتی کمیٹی، بلوچ وویمن فورم اور پانک جیسی جعلی تنظیموں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی ناانصافیوں اور محرومیوں کی جھوٹی کہانیاں گھڑ کر گمراہ کر کے ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتی ہیں۔ جو نوجوان ان تنظیموں کے مکروہ مقاصد میں ان کا ساتھ نہیں دیتے، اور بیرونی ایجنڈے کا حصہ بننے سے انکار کرتے، انہیں ”ساتھ دو یا جان دو“ کی سفاکانہ پالیسی کے تحت قتل کر دیا جاتا ہے، اور ان کی لاشیں ندی نالوں، ویرانوں، پہاڑوں اور سنسان علاقوں میں پھینک دی جاتی ہیں، تاکہ پورے علاقے میں خوف قائم رہے۔ بعد ازاں انہیں لاشوں پر سیاست کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ یعنی ساتھ نہ دینے والوں کو ”مارو اور ریاست پر ڈال دو“۔ بلوچستان میں دہشت گردی اور بلوچ نسل کشی کی یہ سب سے بھیانک ترین شکل ہے۔ اکثرنہتے اور بے گناہ نوجوانوں کو ”ڈیتھ سکواڈ“ کا لیبل لگا کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ سال 2025 اس حوالے سے ایک سیاہ باب ہے۔ صرف اسی ایک سال میں 133 نوجوانوں کو اس لیے قتل کیا گیا کہ انہوں نے ان کالعدم تنظیموں کا ساتھ دینے، معصوم بلوچ بچوںاور خواتین کو مارنے سے اور ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہچانے سے انکار کیا۔ ان کی لاشیں مسخ کر ندی نالوں اور ویرانوں میں پھینکی گئیں۔ اسی سال 148 نوجوانوں کو ”ڈیتھ سکواڈ“ کے نام پر قتل کیا گیا، جو عام بلوچ شہری تھے جن کا کسی ریاستی ادارے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ واضح رہے کہ یہ بلوچ نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، روزگار چاہتے تھے، امن چاہتے تھے، لیکن ان کالعدم تنظیموں نے انہیں زندہ نہیں رہنے دیا۔ ان سے کہا گیا کہ ہتھیار اٹھا¶، ورنہ مار دئیے جا¶ گے اور انکار پر یہی ہوا۔ واضح رہے کہ قومی دھارے میں شامل ہونے والے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر طلعت عزیز نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا تھا کہ اس کو کس طرح نہتے بے گناہ پنجابیوں کی خونریزی پر اکسایا کیا گیا، برین واشنگ کی گئی، کس طرح اس کو بی وائی سی کے دھرنے میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا اور وہاں اس کو بی ایل اے کے دہشت گردوں سے ملوایا گیا۔ یہ بھی بتایا تھا کہ جن لوگوں کو بی وائی سی، بی ڈبلیو ایف کی تربیت یافتہ خواتین ”جبری گمشدہ“ (مسنگ پرسن) قرار دیکر ان کی تصاویر اٹھا کر اپنے احتجاجوں اور دھرنوں میں ریاست کےخلاف منفی پراپیگنڈا کرتی ہیں وہ سبھی پہاڑوں پر موجود ہیں۔ واضح رہے کہ قومی دھارے میں شامل ہونے والے کالعدم تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی کے اہم کمانڈر نجیب اللہ عرف استاد آدم نے پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا تھا کہ اس نے زندگی کے اہم 19سال دہشت گردوں کیساتھ گزارے تو ان کا اصل چہرہ سامنے آیا، دہشت گرد تنظیموں نے نوجوانوں کی ذہن سازی کی اور بلوچ نوجوانوں کو دہشت گردی میں جھونکا۔ نجیب اللہ کا کہنا تھا کہ تنظیم میں جانے کا خیال 2005 میں آیا، بلوچستان کے حالات اور محرومیوں کے من گھڑت بیانیے کے 
ذریعے اس کی ذہن سازی کی گئی۔ مزید بتایا کہ میں نے کالعدم بلوچ لبرل پارٹی میں شمولیت اختیار کی، بعد میں کالعدم بلوچ لبرل پارٹی میں مجھے کمانڈر بنا دیا گیا۔ نجیب اللہ نے بتایا کہ پڑوسی ملک کے ہینڈلرز کے عزائم دیکھ کر میری آنکھوں سے آزادی کی پٹی کھل گئی، میری ملاقات پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی کے لوگوں سے ہوئی، انہوں نے میری سرزنش کی اور کہا ہمیں تمہاری آزادی کی پروا نہیں، انہوں نے مجھ سے کہا ہم پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے سپورٹ کریں گے۔ کمانڈر نجیب نے مزید بتایا تھا کہ تمام تنظیموں کے لیڈر ان کے بچے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور عام دہشت گرد جو پہاڑوں پر لڑ رہا ہے اسے روٹی بھی میسر نہیں۔ لاپتا افراد کے حوالے سے کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا ڈرامہ سب کے سامنے ہے وہ پہاڑوں پر ازخود روپوش ہیں۔ پہاڑوں پر روپوش لوگوں سے کہتا ہوں کہ بیرون ملک بیٹھے دہشت گرد تنظیموں کے لیڈروںکے آلہ کار نہ بنیں۔ اس موقع پر نجیب اللہ نے بتایا تھا کہ اور بھی دوست ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں آنا چاہتے ہیں ان کو راستہ دیا جا رہا ہے، اپنی واپسی کیلئے میں نے خود ریاست سے بات کی، کہنا چاہتا ہوں اس سازش اور پراکسی کا حصہ نہ بنیں، حکومت کا شکریہ کہ قومی دھار ے میں شامل ہونے کا موقع دیا۔ واضح رہے کہ ریاست اور ریاستی ادارے اس پوری صورتحال سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی لیے ادارے دشمن کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں مصروف ہیں۔ کیونکہ یہ صرف دہشت گردی نہیں، بلکہ ایک مکمل نفسیاتی وار ہے، جس میں ہتھیار کے ساتھ جھوٹ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے عوام کو بھی اب اس سچ کو پہچاننا ہو گا۔ بلوچ نسل کشی کی اصل ذمہ دار یہ کالعدم تنظیمیں ہیں جو ”ساتھ دو یا جان دو“ کی سفاکانہ پالیسی پر عمل کرتی ہیں، نوجوانوں کو مارتی ہیں، لاشیں پھینکتی ہیں اور پھر انہی لاشوں پر سیاست کرتی ہیں۔ یہ کوئی آزادی کی جنگ نہیں بلکہ اپنے بیرونی مفادات اور ڈالروں کے لیے لڑائی ہے، یہ بلوچ حقوق کی جدو جہد نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ جب تک اس سچ کو نہیں مانا جائے گا، بلوچستان کے نوجوان اسی طرح مارے جاتے رہیں گے اور ان کی لاشوں پر بی وائی سی، بی ڈبلیو ایف کی سیاست چلتی رہے گی۔ بلوچ امن، ترقی اور زندگی چاہتا ہے لیکن اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی کالعدم تنظیمیں ہیں۔ ان کا خاتمہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔

ٹیگز: