Wed, September 16, 2026

2034 تک پاکستان کی 90 فیصد بجلی کلین انرجی پر منتقل ہوگی، وفاقی وزیرِ توانائی

2034 تک پاکستان کی 90 فیصد بجلی کلین انرجی پر منتقل ہوگی، وفاقی وزیرِ توانائی

اسلام آباد : وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں توانائی کے بحران کے مستقل حل اور مستقبل کے روڈ میپ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ماحول دوست توانائی کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔وفاقی وزیر نے ایوان کو درج ذیل اہم نکات سے آگاہ کیا، ملک میں سولر سے بجلی کی پیداوار 22,000 میگاواٹ کی سطح کو چھو رہی ہے۔
 سولر انرجی کا 9 فیصد نیٹ میٹرنگ سسٹم پر منتقل ہو چکا ہے، جس کا آغاز مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور میں 2017 میں ہوا تھا۔ اگلے 8 سالوں (2034) تک ملک کی 90 فیصد بجلی مقامی اور ماحول دوست ذرائع (سولر، ونڈ اور ہائیڈل) سے پیدا کی جائے گی۔
نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر بات کرتے ہوئے سردار اویس لغاری نے دو ٹوک الفاظ میں کہانیٹ میٹرنگ ریگولیشنز میں تبدیلی کرنا ریگولیٹر کا آئینی اور قانونی اختیار ہے۔ حکومت کا مقصد ایسے ضوابط بنانا ہے جس سے قومی گرڈ اور عام صارف دونوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت کا طویل مدتی منصوبہ مہنگے درآمدی کوئلے اور تیل پر انحصار ختم کرنا ہے تاکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے اور ملکی معیشت پر بوجھ کم ہو۔

ٹیگز: