میرا خیال تھا پنجاب سرکار اس جذبے کے تحت صرف ایک روز کے لیے ہی بسنت سے پابندی ہٹائے گی کہ نقصان کم سے کم ہو، نقصان تو تین روزہ بسنت میں خیر کوئی نہیں ہوا بلکہ مالی فائدہ ہی ہوا ہے۔ لاہوریوں کی ایک کثیر تعداد نے تین روزہ بسنت پر خوب مزے کیے، بسنت کو عید الفطر یا عید الضحیٰ کی طرح منایا گیا، ہمارے کچھ بزرگ بڑے خوش تھے، بسنت کے ساتھ ان کی بڑی دیرینہ اور خوبصورت یادیں جڑی ہوئی تھیں، ہمارے جین زی بھی بڑے خوش تھے، تین روزہ بسنت کی وجہ سے وہ اسے عید الفطر یا عید الضحیٰ جیسا کوئی تہوار سمجھ رہے تھے، چنانچہ ایک جین زی نے بسنت کی چاند رات پر اپنے ڈیڈ سے پوچھا کل بسنت کی نماز کتنے بجے ہو گی؟ ڈیڈ نے اسے بتایا بسنت کی نماز نہیں ہوتی۔ جین زی نے حیرانی سے پوچھا اس کا مطلب ہے بکرے بھی نہیں ہوتے۔ بسنت کی تین روزہ اجازت کو صرف لاہور تک محدود رکھا گیا، ایسا صرف پاکستان میں ہی ہو سکتا ہے۔ بسنت سے ایک روز پہلے تک پورے پنجاب کے ایس ایچ اوز دیگر سارے اہم امور چھوڑ کر صرف اس پر توجہ دے رہے تھے کوئی گڈی نہ اڑائے، نہ ھی دھاتی ڈور سے کسی کا گلا کٹے اور بسنت کے روز وہی ایس ایچ اوز اپنے اپنے افسروں اور حکمرانوں کے لیے پتنگوں، گڈیوں اور ڈوروں کا بندوبست کر رہے تھے، قانون کا ایسا مذاق گڈیوں اور پتنگوں کی طرح صرف پاکستان میں ہی اڑایا جا سکتا ہے۔ ہمارے دور کی بسنت بڑی معصوم بڑی خیر و برکت والی ہوتی تھی، کسی کی جان نہیں لیتی تھی نہ اس سے ایسی خرافات جڑی ہوتی تھی جو آج کچھ اس طرح جڑی ہیں ان کے بغیر لوگوں کو بسنت کا مزہ ھی نہیں آتا۔ بسنت کے حالیہ تین روزہ جشن یا غل غپاڑے میں کچھ چھتوں یا کوٹھوں پر گڈیاں یا پتنگیں اڑانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا، باقی سارے بندوبست تھے، وہاں گڈیوں اور پتنگوں کی جگہ دم والا پانی زیادہ چلا، لاہور کے ایک ایس ایچ او کو کسی کام کے لیے میں نے فون کیا اس نے کہا سر میں آپ کو تھوڑی دیر بعد فون کرتا ہوں، ابھی میں بہت اہم اور ضروری امور نمٹا رہا ہوں۔ کچھ دیر بعد اس کا فون آیا، میں نے پوچھا وہ اہم اور ضروری امور کیا تھے؟ کہنے لگا، سر ایک تو صاحب کے بچوں کے لیے پتنگوں اور ڈور کا بندوبست کرنا تھا، دوسرا ان کے عزیز واقارب کے لیے دم والے پانی کا بندوبست کرنا تھا، اللہ کا شکر ہے میں دونوں امور نمٹانے میں کامیاب ہو گیا ہوں چنانچہ اب اگر میرے علاقے میں کسی کی گردن کٹ بھی گئی تو صاحب مجھ سے ناراض نہیں ہوں گے، اور ایسے کسی واقعے پر بادل نخواستہ انہوں نے مجھے معطل کیا بھی تو چند روز بعد وہ اس کا ازالہ کر کے مجھے کسی اور بڑے تھانے میں لگا دیں گے۔ پنجاب حکومت نے بسنت منانے کی اجازت شاید میاں نوازشریف کی خواہش پر دی تھی، اس تاثر کو تقویت اس لیے بھی ملی کہ وہ بسنت کے پہلے روز بسنت منانے اندرون شہر کے مشہور علاقے پانی والا تالاب پہنچ گئے۔ میرے خیال میں اْنہوں نے اپنی سی ایم صاحبزادی کی نمائندگی کی جنہیں اس سانحے کے بعد بادل نخواستہ اعلان کرنا پڑ گیا تھا وہ بسنت کی کسی تقریب میں شریک نہیںہوں گی ، کچھ لوگ یہ غلط اعتراض کر رہے ہیں’’اتنے بڑے سیاسی رہنما میاں محمد نواز شریف کو اْس روز اسلام آباد جا کر شہیدوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرنا چاہیے تھا یا اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں جا کر زخمیوں کی عیادت کرنی چاہیے تھی‘‘ ، میرے خیال میں یہ اب اْن کے لیول کے یا اْن کے کرنے کے کام نہیں رہے ، وہ جانتے ہیں اس بنیاد پر اب اْنہیں ووٹ وغیرہ نہیں پڑنے ، جس سطح کے اب وہ لیڈر ہیں اْنہیں صرف بسنت منانا ہی زیب دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز بسنت کی اجازت دے کر بے شمار لوگوں خصوصاً بیشمار ایسے نوجوانوں کے دلوں میں رچ بس گئی ہیں جو سوائے عمران خان کے کسی کا نام سننا گوارا نہیں کرتے تھے، پی ٹی آئی کے بے شمار لوگوں نے بھی بسنت کو خوب انجوائے کیا، مجھے پورا یقین تھا لوگ بسنت پر عمران خان کی تصویر والی پتنگیں یا گڈیاں وغیرہ نہیں اڑائیں گے اور لوگ یہ کسی کے ڈر خوف سے نہیں اس بسنت کی خوشی سے نہیں اڑائیں گے جس کی پچیس برس بعد تین روزہ اجازت دیتے ہوئے سی ایم مریم نواز شریف نے اس بات کی پروا بھی نہیں کی اس سے خدانخواستہ ہونے والے کسی جانی نقصان سے ان کی مقبولیت کم ہو سکتی ہے، اس بار اپنی مقبولیت سے زیادہ انہیں شاید لوگوں کی خوشیاں عزیز تھیں۔ ہمارے بے شمار بیوروکریٹس نے بھی بسنت کو باقاعدہ ایک سرکاری فریضے کے طور پر ادا کیا، بے شمار افسروں نے گڈیاں اور پتنگیں اڑاتے ہوئے ان کی تصویریں اور ویڈیوز بھی اپنی فیس بک وال پر شیئر کیں، جیسے انہیں کہیں سے یہ ہدایت ملی ہو بھرپور طریقے سے بسنت منا کر اس کے شواہد بھی شیئر کریں، ایک چھت پر چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر بھی موجود تھے، ان کی تصویر یا ویڈیو شیئر ہونے کے بعد ان کے ماتحت بیوروکریٹس کو بسنت منانے کی ہدایت کہیں سے نہ بھی ملتی ان کے لیے اتنا ہی کافی تھا چونکہ ان کے باس بسنت منا رہے ہیں چنانچہ ان پر بھی اب یہ فرض ہو گیا ہے۔ ہماری سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی پتنگ اڑائی، ان کا پیچا کس سے لڑا یا پڑا؟ اس بارے میں اللہ جانے ہمارے کچھ سیاسی رپورٹرز یا اینکرز نے جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اس عظیم خبر سے ہمیں محروم کیوں رکھا؟