Wed, September 16, 2026

قربانی کے بکرے

قربانی کے بکرے

عید سے غالباََ دو تین روز پہلے کی بات ہے رات کے کوئی ایک ڈیڑھ بجے کا وقت ہوگا جب مجھے اپنے گھر کے باہرسے بے حد دُکھی آواز میں ندیم اور شبنم کی فلم’’دل لگی‘‘ سے مہدی حسن کے درد بھرے گانے ’’ہم چلے اس جہاں سے دل اُٹھ گیا یہاں سے‘‘ کی آواز سنائی دی۔ 
 اس گانے کے بولوں میں جودرد تھا اس نے مجھے اچھا خاصا افسردہ کردیا۔مجھے ٖافسردگی کے ساتھ حیرانی بھی ہورہی تھی کہ عید کی آمد آمد ہے اور ہر طرف خوشیوں کا ایک سماں ہے ایسے میں یہ کون دُکھی ہے جو رات کے اس پہر میں درد بھرا گانا گا کرنا صرف خود کو بلکہ پورے ماحول کو سوگوار کر رہا ہے۔میں اسی حیرانی میں بسترچھوڑکر باہر گلی میںنکل آیا۔مگر اس وقت مجھے مزید حیرانی کا سامنا کرنا پڑا جب مجھے گلی میں بندھے ہمسایوں کے تین چار بکروں اور اس سے کچھ فاصلے پر اونگھتے چوکیدار کے علاوہ کوئی اوربندہ نہ دکھایا دیا۔میں اِدھر اُدھر دیکھ کر واپس مڑا ہی تھا کہ مجھے اپنے عقب سے پھر وہی آواز سنائی دی۔میں نے جلدی سے مڑ کے دیکھا تو وہاں سوائے ان بکروں اور اونگھتے چوکیدار کے علاوہ کوئی اور انسان نہیں تھا۔اچانک میں نے محسوس کیا کہ باقی دو بکروں کی نسبت جو اپنے دھیان میں مگن غالباََمنہ میں کچھ چبا رہے تھے ایک بکرامیری طرف مسلسل دیکھ رہا تھا۔میں نے ایک نظر بکرے کی طرف دیکھا اور خود کلامی کی’’ بھلاایک بکراکیسے بول سکتا ہے اور وہ بھی قربانی کا بکرا جس کی قربانی میں صرف دو تین دن رہ گئے ہوں‘‘۔مجھے اس وقت حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب اس بکرے نے بڑے غصے سے مجھے کہا’’اے نادان انسان یاد رکھ یہ قانون قدرت ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو پھرگونگوں کو بھی زبان مل جاتی ہے‘‘۔ میں نے اپنی حیرانی پر قابو پاتے ہوئے بکرے کی طرف دیکھا اوراس سے پوچھا’’ابھی کچھ دیر پہلے گلی میں بکرے جیسی آواز میں گانا تم گارہے تھے‘‘۔جواب میں بکرے نے میری حیرانی کا مزا لیتے ہوئے کہا’’ظاہر ہے میں ایک بکرا ہوں تو بکرے کی آواز میں ہی گائوں گا‘‘۔میں نے بکرے کو کہا’’لگتا ہے تمہیں کوئی بہت بڑا دُکھ ہے جو تم مہدی حسن کا درد بھرا گیت گا رہے تھے‘‘۔ بکرے نے ایک لمحے کے لئے طنزیہ نظروں سے میری طرف دیکھا اورپھر ایک سرد آہ بھر کر کہنے لگا’’ جناب! میں نے ساری عمر گھاس پھونس کھا کر گزارہ کیا ہے۔ اپنے بچپن کی ساتھی جس بکری کو میںپسند کرتا تھا خیر سے اسے ایک قصائی لے جا چکا ہے اوردو تین روز بعد میری اپنی قربانی ہے۔یہ کوئی ایسی دُکھ کی بات تو نہیں ہے جس پر رویا جاے میں تو ان حالات و واقعات پر خوش ہوکر دُکھی گانا گا رہا تھا‘‘۔میں نے کہا’’ مجھے تمہارے حالات سُن کر دکھ ہو ا ہے لیکن تمہیں اس بات پر ضرور خوش ہونا چاہیے کہ اب تمہیں اللہ کی راہ میں قربان کیا جارہا ہے ‘‘۔بکرے نے نئی نسل کے عجیب و غریب شاعرعلی زریون جیسا دُکھی سا منہ بناکر کہا’’کیسی اور کہاں کی خوشی مجھے کونسا میری مرضی سے قربان کیا جارہا ہے۔جس طرح تم جیسے لوگوں کو کبھی رسموں رواجوں، رشتے ناطوں،دوستی بھائی چارے، وطن کی محبت اور کبھی مذہب کے نام پر بغیر مرضی کے قربان کردیا جاتا ہے۔ مجھے بھی بنا پوچھے ایسے ہی قربان کیا جارہا ہے‘‘۔میں نے کہا ’’ اگر یہ بات ہے تو میں تمہارے گلے میں بندھی یہ رسی کھول دیتا ہوں ۔رات کے اس اندھیرے میں تم اپنی مرضی سے جہاں چاہو خاموشی سے نکل جانا‘‘۔بکرے نے مجھے تشکر آمیز نظروں سے دیکھا اور کہا’’تمہاری اس ہمدردی کا بہت شکریہ مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے کہ یہ طے کہ آخر کار مجھے ضرور ذبح ہونا ہے۔ اس بڑی عید پر قربان نہیں ہونگا تو ہفتے دس دن بعد کسی اور قصائی کے ہتھے چڑھ جائوں گا جو مجھے میری بوٹی بوٹی کرکے بازار کے بھائو بیچ دے گا۔ویسے بھی اب میرا اس بے رحم ،مطلبی اور بے وفادنیا کی وجہ سے جینے سے جی بھر گیا ہے ‘‘۔میں نے بکرے کو پیار سے پچکارتے ہوئے کہا’’ مجھے تمہارے اس دُکھ کا پورا احساس ہے کہ ظالم سماج نے تمہیں تمہارا حق نہیں دیا اور تم سے تمہاری محبت بھی چھین لی ہے مگر اس کے باوجود تمہیں اتنا شدید مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
اپنی گذشتہ زندگی کی ناکامیوں  اور دُکھوںکو بھلا کر تم پھر سے ایک نئی زندگی کی شروعات کرسکتے ہو‘‘۔بکرے نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا’’مگر اس دل کا کیا کرونگا‘‘۔میں نے پوچھا’’  توکیا پہلی محبت کی ناکامی کے بعد کوئی اور تمہارے دل کو بھایا ہی نہیں ہے‘‘۔ میرے اس سوال کے جواب میںبکرے نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو بھر لئے اور مہدی حسن کے ایک اور گیت ’’تم ضد تو کر رہے ہو ہم کیا تمہیں سنائیں/ نغمے جو کھو چکے ہیں ان کو کہاں سے لائیں‘‘کو گنگنا کر اس کا بیڑہ غرق کرنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا ’’یار پہلیاںنہ بجھوائو اور سیدھی طرح اپنی رام کہانی بتائو‘‘۔ اس نے کہا ’’ پہلے تم وعدہ کرو کہ تم میری کہانی سُن کر ہنسو گے نہیں‘‘۔میں نے کہا’’پکا وعدہ بالکل نہیں ہنسوں گا‘‘۔ وہ کہنے لگا’’ لو پھر سنوآدھی سے زیادہ عمر پہلی محبت کے ہجر میں گزارنے کے بعد آخر کار مجھے وہ شکل نظر آئی جسے دیکھ کر مجھے لگا جیسے یہ میرے عمر بھر کے دُکھوں کا مداوا ہو مگر اس سے مل کر میرے سارے ارمان ایک بار پھر مٹی میں مل گئے‘‘۔میں نے پوچھا’’وہ کیسے‘‘ اس اس پر اس نے مزید دُکھی سی شکل بناکر کہا’’ اس نے میرے جذبات کی بالکل قدر نہیں کی اور مجھے بھائی کہہ دیا‘‘۔یہ سن کر میںاس زور سے ہنسا کہ ہنستے ہنستے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اس پر وہ مجھ سے خفا ہوکر کہنے لگا ’’اسی لئے میں تمہیں اپنی کہانی نہیں سنا رہا تھا ‘‘۔میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا’’یار میں تمہاری کہانی پر نہیں بلکہ میں تو اس عجیب و غریب اتفاق پر ہنس رہا ہوں جو میری اور تمہاری کہانی میں ہوبہو ایک جیساہے۔ حالانکہ تم ایک بے بس، بے زبان مجبور اور لاچار بکرے ہو اور میں بظاہر ایک اشرف المخلوق انسان‘‘۔بکرا حیرانی سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا’’ میں کچھ سمجھا نہیں‘‘۔میں نے ہنستے ہوئے کہا ’’ میرے پیٹی بند پیارے راج دُلارے اور بھولے بھالے قربانی کے بکرے یہی راز تو میں بھی سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں کہ زندگی ہر بار قربانی اور تاوان ہم جیسے بے بس مجبور اور لاچاروں سے ہی کیوں لیتی ہے۔‘‘ ۔

ٹیگز: