Wed, September 16, 2026

بسنت : مسکراتا ہوا لاہور

بسنت : مسکراتا ہوا لاہور

لاہور کی شناخت صرف اس کے قلعے، باغات، دروازوں اور کھانوں سے نہیں بنتی، اس کی اصل پہچان اس کی مسکراہٹ ہے۔ یہ وہ شہر ہے جو مشکل وقتوں میں بھی خوشی کی کوئی نہ کوئی کھڑکی کھول لیتا ہے۔ بسنت اسی مسکراہٹ کا نام ہے۔ ایک ایسا تہوار جس میں آسمان رنگوں سے بھر جاتا ہے اور زمین پر رہنے والے لوگ چند لمحوں کے لیے اپنی روزمرہ کی تھکن، پریشانیوں اور فکروں کو بھول جاتے ہیں۔خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بسنت کی اجازت ملی تو بہت جانی نقصان ہوگا،کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی دوسری حقیر سی وجوہات بیان کرنا شروع کردیں۔ تین دن بسنت رہی ،انسان محفوظ رہے۔ لوگوں نے سہمی ہوئی فضا سے نجات پا کر مسرت کے رنگ دیکھے۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوا کہ بسنت کے تہوار کو منانے کے لئے حکومت نے ایس او پیز اختیار کئے۔پولیس، بیوروکریسی، سماجی و کاروباری برادری نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
مختلف ذرائع سے جو رپورٹس سامنے آئیں وہ بتاتی ہیں کہ لاہور میں بسنت کے موقع پر دس ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا۔گڈی ڈور والوں کے علاوہ ہوٹل ، کیٹرنگ، ایونٹ مینجمنٹ ، موسیقی، ملبوسات وغیرہ کا کام خوب چلا۔ دوسرے شہروں سے لاکھوں لوگ لاہور آئے، بہت سے غیر ملکی مہمان لاہوریوں کے ساتھ چھتوں پر دکھائی دئیے۔پچیس سال سے کم عمر کے بچوں نے پہلی بار اپنی دیسی ثقافت کا دلکش چہرہ دیکھا۔
بسنت ایک تہوار سے بڑھ کر لاہور کی اجتماعی یادداشت ہے۔ یہ وہ موسم تھا جب گھروں کی چھتیں آباد ہوتی تھیں، ہمسائے ایک دوسرے کو آواز دیتے تھے، بچے، بڑے اور بزرگ ایک ہی خوشی میں شریک نظر آتے تھے۔ ڈھول کی تھاپ، پتنگوں کی اڑان اور شام کے وقت زرد روشنی میں نہایا ہوا شہر ۔ یہ سب مل کر ایک ایسی فضا بناتے تھے جس میں زندگی کی رمق محسوس ہوتی تھی۔ حالیہ برسوں کے بعد جب بسنت دوبارہ منائی گئی تو اس نے ثابت کیا کہ لاہور کی روح ابھی زندہ ہے۔لاہور ابھی مسکرا سکتا ہے۔
یہ بسنت ایک بڑے دباؤ اور طویل بحث کے باوجود منائی گئی، لیکن اس کے نتیجے میں جو سماجی اور معاشی سرگرمی سامنے آئی، اس نے ایک نئی حقیقت کو واضح کیا۔ بازاروں میں رونق لوٹی، پتنگ سازی، ڈور سازی، کپڑوں، کھانوں اور تفریحی سرگرمیوں سے وابستہ ہزاروں چھوٹے کاروبار متحرک ہوئے۔ اندازوں کے مطابق اربوں روپے کی معاشی سرگرمی پیدا ہوئی جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھے بلکہ شہر کی مجموعی معیشت میں بھی حرکت پیدا ہوئی۔ ایسے تہوار دراصل معیشت کے نچلے طبقات تک خوشحالی کی ایک لہر پہنچاتے ہیں۔کلچر ہمیشہ مقامی کاروبار کو بڑھاتا ہے،اس کا ہاتھ تھامتا ہے اور حکومتیں اسی لئے کلچر کو فروغ دیتی ہیں۔
سماجی سطح پر بھی بسنت کے اثرات نمایاں رہے۔ ایک ایسے دور میں جب شہری زندگی تنہائی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے، اجتماعی خوشیاں لوگوں کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔ خاندان اکٹھے ہوتے ہیں، دوست ملتے ہیں اور شہر میں ایک مثبت توانائی جنم لیتی ہے۔ معاشرے کی نفسیات میں امید اور تعلق کا احساس پیدا ہوتا ہے، جو کسی بھی صحت مند سماج کے لیے ناگزیر ہے۔ہمارا سماج بیمار اور اداس دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کی خوشیاں دہشت گردی،بدامنی، آپس کی نا اتفاقی اور سیاسی جھگڑوں نے چھین لی ہیں۔بسنت آئی تو سارا سماج اس کے رنگوں میں رنگ گیا۔لسانی و علاقائی امتیاز ختم ہوا ۔ سب ایک جیسے نظر آنے لگے، خوش ۔
دنیا بھر میں تہوار صرف تفریح نہیں ہوتے بلکہ قومی تشخص اور نرم قوت (سافٹ پاور) کا حصہ ہوتے ہیں۔ دبئی، سنگاپور اور دیگر شہروں نے اپنی ثقافتی اور تجارتی سرگرمیوں کو عالمی شناخت بنا دیا ہے۔بسنت آوٹ ڈور تہوار ہے۔ہم کئی انڈور تہوار بھی منا سکتے ہیں۔ شاپنگ فیسٹیول، میوزک ایونٹس، فیشن اور ثقافتی میلوں کے ذریعے دنیا کے بڑے شہر نہ صرف سیاحت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ اپنی معیشت کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔ اگر دنیا کے دیگر شہر منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کے ساتھ ایسے اجتماعات منعقد کر سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں؟ ہمارے پاس تو پہلے سے موجود ثقافتی رنگ اور روایتیں ہیں، جنہیں صرف بہتر انتظام اور مثبت سوچ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید معاشروں میں خوشی کو محدود نہیں کیا جاتا بلکہ منظم کیا جاتا ہے۔ تہواروں کو روکنے کے بجائے انہیں محفوظ، منظم اور مہذب انداز میں منانا ہی ترقی یافتہ معاشروں کی پہچان ہے۔ پاکستان میں بھی شاپنگ فیسٹیول، ثقافتی میلے، موسیقی اور فنونِ لطیفہ کی تقریبات، ادبی اجتماعات اور خاندانی تفریحی سرگرمیاں سماجی زندگی کو متوازن بنا سکتی ہیں۔ ایسے بہت سے تہوار انڈور نوعیت کے بھی ہو سکتے ہیں جو شہری زندگی میں خوشی اور تخلیقی اظہار کو جگہ دیتے ہیں۔
بسنت کے احیاء نے دنیا کو پاکستان کا ایک مختلف چہرہ بھی دکھایا۔ ایک ایسا چہرہ جہاں رنگ ہیں، زندگی ہے اور امید موجود ہے۔ عالمی سطح پر مثبت تاثر صرف بیانات سے نہیں بلکہ زندہ معاشرتی مناظر سے بنتا ہے، اور بسنت ایسا ہی ایک منظر ہے جو خود اپنی زبان میں پیغام دیتا ہے۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خوشی اور ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ جب ریاستی نظم، شہری شعور اور ثقافتی روایت ایک ساتھ چلیں تو تہوار معاشرے کو تقسیم نہیں بلکہ جوڑتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنی خوشیوں کو محفوظ رکھتی ہیں، انہیں بہتر بناتی ہیں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتی ہیں۔
لاہور کی بسنت دراصل امید کا استعارہ ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف مسائل کا نام نہیں،یہ یاد دلاتی ہے کہ جن تہواروں و مواقع کو ہم خطرہ سمجھتے ہیں مناسب ایس او پیز اختیار کئے جائیں تو یہ بہت محفوظ اور پر مسرت ہو سکتے ہیں۔ خوشیوں پر سب کاحق ہے۔پنجاب حکومت نے ایک جرات مندانہ کام کیا ،اس کے لئے وہ مبارکباد کی مستحق ہے کیونکہ لاہور مسکرائے گا تو پنجاب مسکرائے گا، پنجاب مسکرائے گا تو پاکستان مسکرائے گا۔ اور جب ایک معاشرہ مسکرانا سیکھ لے تو اس کے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔

ٹیگز: