چند روز قبل ایک ایسے واقعے سے گزرنے کا اتفاق ہوا جس نے ایک بار پھر مجھے زندگی کے فانی ہونے کا احساس دلایا، شاید اسی لیے ہر سانس پر شکر ادا کرنا ہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ میرا ایک پرانا دوست تھا۔ محنتی، ذہین اور کاروباری دنیا کا ایک نہایت کامیاب انسان۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا تھا۔ کامیاب کاروبار، اربوں روپے مالیت کی فیکٹری، وسیع فارم ہاو¿س، خوبصورت بنگلہ، قیمتی گاڑیاں، سماجی وقار اور جمخانہ و رائل پام جیسے اعلیٰ کلبوں کی رکنیت۔ بظاہر اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جسے دنیا کامیابی کا نام دیتی ہے۔ لیکن اس کی زندگی مسلسل دوڑ میں گزرتی تھی۔ ایک میٹنگ ختم ہوتی تو دوسری شروع ہو جاتی، ایک منصوبہ مکمل ہوتا تو اگلا سامنے آ جاتا۔ میں اکثر ہنستے ہوئے اس سے کہتا تھا، "دوست! کبھی اپنے لیے بھی وقت نکال لیا کرو۔ گھر والوں کے ساتھ چند پرسکون لمحے گزار لیا کرو۔ دولت اسی وقت نعمت بنتی ہے جب انسان اس کے ساتھ زندگی بھی جیتا ہو۔" وہ ہمیشہ مسکرا کر میری بات ٹال دیتا۔پھر ایک دن اچانک راستے میں اسے دل کا شدید دورہ پڑا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ چند لمحوں میں ایک بھرپور زندگی خاموش ہو گئی۔ میں شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔ قلوں میں حاضری دی، پھر چند دن بعد اس کے اہلِ خانہ نے کچھ معاملات میں رہنمائی کے لیے مجھے گھر بلایا۔ میں سمجھا شاید تعزیت یا تسلی کی گفتگو ہوگی، لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ گفتگو کا محور کچھ اور ہے۔ گھر میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ دو بیٹیاں آسٹریلیا اور امریکہ سے آئی ہوئی تھیں، ایک دبئی سے پہنچ چکی تھی اور ایک کراچی سے۔ والدہ ابھی عدت میں تھیں، گھر کا ماحول سوگوار تھا، لیکن اسی ماحول میں جائیداد کی تقسیم پر باقاعدہ گفتگو شروع ہو چکی تھی۔میں نے نہایت نرمی سے عرض کیا کہ کم از کم ایک سال انتظار کر لیجیے۔ غم تازہ ہے، دل سنبھل جائیں، پھر شرعی طریقے سے بیٹھ کر تمام معاملات طے کر لیجیے۔ مگر آسٹریلیا سے آئے ہوئے داماد نے فوراً کہا، "ہم دوبارہ اتنی جلدی نہیں آ سکیں گے، بہتر ہے ابھی حساب کتاب مکمل کر لیا جائے۔" امریکہ سے آئے ہوئے داماد نے بھی اسی رائے کی تائید کی۔ میں خاموش بیٹھا ان کے چہروں کو دیکھتا رہا۔ ایک طرف مجھے اپنا وہ دوست یاد آ رہا تھا جس نے پوری زندگی دولت جمع کرنے میں صرف کر دی اور دوسری طرف اسی دولت کی تقسیم کی باتیں اس کے گھر میں اس وقت ہو رہی تھیں جب اس کی قبر کی مٹی بھی پوری طرح خشک نہیں ہوئی تھی۔ زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان مر جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ بعض اوقات اس کے رشتے اس کے زندہ رہتے ہی مر چکے ہوتے ہیں اور موت صرف اس حقیقت کو بے نقاب کر دیتی ہے۔
اسی دوران گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی نے دھیمے لہجے میں کہا، "ابھی امی کی عدت بھی پوری نہیں ہوئی، ایسے وقت میں یہ گفتگو مناسب نہیں لگتی۔" لیکن اس کے شوہر نے اسے اشارے سے باہر بلایا۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئی تو خاموش تھی۔ اس کی آنکھوں کی نمی بتا رہی تھی کہ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہیں سکتی تھی۔میں دوسرے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا۔ سامنے چائے کا کپ رکھا تھا، مگر ذہن میں ایک طوفان برپا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آخر انسان کس چیز پر اتنا فخر کرتا ہے؟سب کچھ وہیں رہ گیا۔قرآن کریم ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ مال اور اولاد دنیا کی زینت ضرور ہیں، لیکن ہمیشہ باقی رہنے والی چیز نیک اعمال ہیں۔ انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کے وارث اس کی دولت کے مالک بن جاتے ہیں۔اس واقعے نے مجھے منیر نیازی کا وہ مشہور شعر بھی یاد دلایا:
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
آسٹریلیا اور امریکہ میں رہنے والے دونوں داماد اپنی اپنی زندگیوں میں خوشحال تھے۔ وہاں ملازمت کرتے تھے کروڑوں روپے کے اثاثے موجود تھے، لیکن یہاں انہیں اندازہ تھا کہ وراثت میں دو سے تین سو کروڑ روپے ان کے حصے میں آ سکتے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ جلد از جلد تقسیم ہو، اثاثے فروخت ہوں اور رقم ان کے ہاتھ آ جائے۔ مرحوم نے ایک بڑی فیکٹری چھوڑی تھی، جو صرف ایک عمارت نہیں بلکہ سیکڑوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ تھی۔ اس کا بڑا بیٹا کئی برسوں سے وہاں کام سیکھ رہا تھا تاکہ مستقبل میں اپنے والد کا کاروبار سنبھال سکے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر مطالبہ یہ تھا کہ فیکٹری بھی فروخت کر دی جائے۔میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہ مل فروخت ہو گئی تو اس نوجوان بیٹے کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور سینکڑوں مزدوروں کے گھروں کے چولہے کیسے جلیں گے؟پھر مل کا اپنا نظام ہوتا ہے، لوگوں سے مال کے پیسے لینا ہوتے ہیں، کچھ لوگوں کو ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں۔پندرہ دن بعد دوبارہ ملاقات ہوئی تو ان میں سے ایک نے کہا، ”انکل! اگر آپ سے یہ معاملہ حل نہیں ہوتا تو ہم عدالت سے سٹے آرڈر لے آتے اور مل بند کرا دیتے“۔ یہ جملہ سن کر میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں سوچنے لگا کہ چند کروڑ روپے جلد حاصل کرنے کی خواہش میں کوئی شخص سیکڑوں خاندانوں کا روزگار بند کرنے کا تصور بھی کیسے کر سکتا ہے؟بعد میں گھر فروخت کرنے کی باتیں بھی شروع ہو گئیں۔ اختلافات بڑھتے گئے، مقدمے بازی کا آغاز ہوا اور وہ خاندان جو کبھی محبت اور احترام کی علامت تھا، مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک دن حالات یہاں تک پہنچے کہ مرحوم کی اہلیہ یہ سب برداشت نہ کر سکیں اور اثاثوں پر ایک بحث ہوتی دیکھ کر بے ہوش ہو گئیں۔ ڈاکٹر کو فوری طور پر بلانا پڑا۔آج وہی گھر، جو کبھی محبت، سکون اور خوشیوں کا گہوارہ تھا، خوف، بے اعتمادی اور نفرت کی علامت بن چکا ہے۔ ہر شخص دوسرے سے محتاط ہے، ہر دل میں اندیشہ ہے، ہر رشتے پر شک کی دھند چھائی ہوئی ہے۔ زندگی کا حاصل شاید یہی ہے کہ انسان صرف دولت ہی نہیں بلکہ ایسے رشتے بھی چھوڑ کر جائے جو اس کے بعد بھی محبت، احترام اور اخلاص کی بنیاد پر قائم رہیں۔ ان شاءاللہ، اس واقعے کا باقی حصہ آئندہ کالم میں بیان کروں گا۔