Wed, September 16, 2026

پاکستان کی جانب سے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو ورچوئل ایسٹس کے لیے این او سی جاری

پاکستان کی جانب سے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو ورچوئل ایسٹس کے لیے این او سی جاری

کراچی: پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) نے عالمی کرپٹو ایکسچینجز بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو ملک میں ورچوئل ایسٹس کی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) جاری کر دیا ہے۔

پاکستان کرپٹو کونسل کے مطابق، یہ این او سی متعلقہ اداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت اور جائزہ کارروائی کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو پاکستان میں ابتدائی تیاریوں اور مشاورتی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے، تاہم یہ این او سی مکمل آپریٹنگ لائسنس نہیں سمجھا جائے گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ این او سی کا اجراء مالی نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ اختراعات کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی وی اے آر اے دنیا کی پہلی ایسی ریگولیٹری اتھارٹی بننے جا رہی ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہوگی۔ اس اتھارٹی نے ایویلیوایشن سسٹم، ریکروٹمنٹ پورٹل اور ایک AI اسسٹڈ ٹول متعارف کروا دیا ہے، جس کی مدد سے نگرانی کی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ پی وی اے آر اے آئندہ ریگولیٹری فریم ورک کے مختلف مراحل کو آگے بڑھانے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی فریقین سے مشاورت کا عمل جاری رکھے گی۔

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا کہ این او سی کا اجرا ایک ریگولیٹڈ ماحول کی طرف اہم قدم ہے۔ اس اقدام سے صارف کے تحفظ، مالی شفافیت اور ذمہ دارانہ اختراعات کی بنیاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل مارکیٹ میں ہر کمپنی کو شفافیت، حکومتی گورننس اور رسک منیجمنٹ کے اعلیٰ ترین معیار کو اپنانا ہو گا۔

پاکستان دنیا میں کرپٹو کے استعمال میں تیسرے نمبر پر آ چکا ہے، جہاں تقریباً 3 سے 4 کروڑ صارفین موجود ہیں۔ اس وقت پاکستان سے جڑی سالانہ ڈیجیٹل اثاثہ کی تجارت کا حجم 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

ٹیگز: