Wed, September 16, 2026

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر ورچوئل مذاکرات آج سے شروع ہونگے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر ورچوئل مذاکرات آج سے شروع ہونگے

اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر مشاورت کے لیے ورچوئل مذاکرات آج سے شروع ہو گئے ہیں، جو 16 مئی تک جاری رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں بجٹ اہداف، ٹیکس پالیسی اور اقتصادی اصلاحات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحاتی ایجنڈا جاری رکھنا چاہتی ہے، اور آئندہ بجٹ بھی اسی تناظر میں بنایا جا رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے باعث آئی ایم ایف وفد کا پاکستان کا دورہ تاخیر کا شکار ہوا ہے، تاہم امکان ہے کہ آئی ایم ایف ٹیم اگلے ہفتے پاکستان پہنچے گی۔ ورچوئل سیشنز میں ابتدائی ڈیٹا شیئر کیا جا رہا ہے، جبکہ بجٹ کے اہم نکات پر پالیسی سطح پر بات چیت اگلے مرحلے میں ہوگی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بجٹ میں تقریباً 400 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں ریلیف پر خصوصی مشاورت جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کو ٹیکس ریلیف کی اہمیت پر قائل کیا جا سکے۔

صنعتی اور تعمیراتی شعبے کے لیے بھی ریلیف پیکجز پر غور ہو رہا ہے، تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ آئی ایم ایف نے اس سلسلے میں بلغاریہ کی معاشی ماہر آئیوا پیٹرووا کو پاکستان میں نیا مشن چیف مقرر کر دیا ہے۔ حکومت کی منصوبہ بندی ہے کہ نیا بجٹ 2 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے، جب کہ امکان ہے کہ مالیاتی پالیسی آئندہ سال بھی سخت رکھی جائے۔

دوسری طرف  آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ بجٹ کا ہدف جی ڈی پی کے 1.6 فیصد پرائمری بجٹ سرپلس کی بنیاد پر رکھا جائے۔

ٹیگز: