Wed, September 16, 2026

 مکہ دفاعی معاہدہ..

 مکہ دفاعی معاہدہ..


مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ وطن عزیز کی سفارت کاری کے میدان میں ایک اور اہم کامیابی ۔ ویسے تو گذشتہ سال پاک بھارت جنگ میں فقط چار گھنٹے کی جنگ میں ایک عظیم الشان فتح کے بعد ہی بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کے نام کے ڈنکے بج رہے ہیں اور ہر گذرتے دن کے ساتھ خدائے بزرگ و برتر کی ذات وطن عزیز پر اپنا مزید کرم کئے جا رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب ایسے اہم ترین اسلامی ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ نے بھی پوری دنیا میں پاکستان کے عزت و احترام میں بلا شبہ اضافہ ہی کیا ہے ۔ دنیا میں پاکستان کے عزت و احترام کی داستان صرف یہیں تک محدود نہیں اور ایک دور تھا کہ جو زیادہ پرانی بات بھی نہیں ہے کہ ہمارا ازلی دشمن ہمارے متعلق یہ پروپیگنڈا کرتا تھا کہ اس نے اپنی کامیاب سفارت کار سے پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے لیکن جس پاکستان کے متعلق تنہائی کا شکار ہونے کے ڈھول پیٹے جاتے تھے اسی پاکستان کو پھر خدائے پاک نے یہ مقام عطا کیا کہ وہ اس کرہ ارض کی سپر پاور امریکہ ، ایک غیر اعلانیہ نیوکلیئر پاور اسرائیل اور برادر اسلامی ملک ایران کے درمیان ثالثی کا انتہائی اہم اور حساس نوعیت کی سفارت کاری کا فریضہ انجام دے۔ ثالثی پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ کانٹوں کا بستر ہے کہ جس میں ایک درجن کے قریب مختلف بلکہ متضاد سوچ کے حامل ممالک کو چند نقاط پر اتفاق رائے کی منزل پر لایا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں اور پھر بقول غالب ” مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا “ ۔ یہ وہ کٹھن کام ہے کہ جو بار بار کرنا پڑ رہا ہے اور فریقین بار بار اپنے ہی کئے ہوئے معاہدے کو توڑتے ہیں تو اسی سے اندازہ لگا لیں کہ یہ ثالثی کس قدر مشکل کام ہے ۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہے اور اس میں یہ بات بڑی واضح ہے کہ ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک ملک پر بھی حملہ تینوں ملکوں پر حملہ تصور ہو گا اور ظاہر ہے کہ پھر تینوں ملک مل کر دفاع بھی کریں گے ۔ 
اس معاہدے سے دو ملک تو حقیقی معنوں میں ” تتے توے “ پر بیٹھ کر ہائے ہائے کر رہے ہیں ایک ہندوستان اور دوسرا اسرائیل ۔ ہندوستان تو اس لئے کہ ایک تو گذشتہ سال شکست سے پوری دنیا میں اس کی جو تذلیل ہوئی تھی اور پھر بالی وڈ جو کہ ہندوستان کے پاس پروپیگنڈا کا ایک بڑا ہتھیار ہے اس کے ذریعے وہ گذشتة کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف اور پاکستان پر اپنی دفاعی برتری کا جو جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا تھا وہ سارے کا سارا ایک ہی ہلے صرف چار گھنٹوں میں ملیا میٹ ہو گیا اور آج دنیا میں ہندوستان تنہا رہ چکا ہے اور اسے کوئی پوچھتا تک نہیں اور اس خطے میں اس کے پڑوس میں خلیج میں تاریخ کی ایک بڑی جنگ ہو رہی ہے لیکن اس حوالے سے اس کا کوئی کردار نظر نہیں آتا اور نہ ہی اسے اس جنگ کے حوالے سے کسی نے کوئی کردار ادا کرنے کے لئے کہا ہے ۔ اس سے بڑی تنہائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا میں چین کے بعد سب سے بڑی آبادی والا ملک اور جس کے تمام خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلق ہیں اور امریکہ کے ساتھ بھی دوستی ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ تو اسلام دشمنی کے ایجنڈے پر خصوصی مراسم ہیں لیکن شومئی قسمت کہ جب مقدروں میں ذلت لکھی ہو تو پھر اسے کوئی ٹال نہیں سکتا ۔ اس معاہدے سے جس دوسرے ملک کو سب سے زیادہ تکلیف ہوئی ہے وہ اسرائیل ہے اور یہی نقطہ اس معاہدے کی اہمیت کو دو چند کرتا ہے کہ در حقیقت اس معاہدے نے ” گریٹر اسرائیل “ کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے ۔ یہودی صدیوں سے یہ خواب دیکھ رہے تھے لیکن اب ان کی قسمت ہی خراب ہے کہ حالات نے مسلم دنیا کو متحد ہونے کا موقع دے دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کی سیاست کا جو منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے اس میں مصر ، کویت ، بحرین اور آزربائیجان بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں ۔
یہ معاہدہ ایک اور خوش آئند حقیقت کی نشان دہی بھی کرتا ہے کہ وہ عرب ممالک کہ جن کے دفاع کا کلی انحصار امریکن اڈوں پر تھا انھیں موجودہ خلیجی جنگ میں اس بات کا بخوبی احساس ہو چکا ہے کہ امریکی اڈے ان کے دفاع نہیں بلکہ الٹا ان کی تباہی کا باعث بن رہے ۔ جس کے بعد ان تمام برادر اسلامی ممالک کی نظریں اگر کسی طرف گئیں ہیں تو وہ پاکستان ہے اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے یقینا آج میرا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس میں ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کا بڑا اہم کردار ہے جس میں خاص طور پر فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر صاحب کی کاوشیں خصوص طور پر شامل ہیں ہیں ۔ آخر میں اس معاہدے کے تناظر میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت سے اتنا عرض کرنا ہے کہ سعودی عرب کو اگر دفاعی میدان میں پاکستان کی ضرورت ہے اور پاکستان نے اس کے لئے میدان عمل میں آنے کے لئے ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کی تو اب ہمارے برادر اسلامی ملک سعودی عرب جو کہ پہلے بھی ہر مشکل وقت میں ہمارے کام آیا ہے اسے معاشی میدان میں ہماری مدد کے لئے بہت کچھ کرنا ہے اور یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو گا کہ ہمارے برادر عرب ممالک اسی دفاع کے بدلے جو کچھ امریکہ کے لئے کرتے آئے ہیں ۔ دعا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ آگے چل کر امت مسلمہ کے اتحاد کا نقطہ آغاز ثابت ہو آمین ۔ 

ٹیگز: