مسلم امہ فی الوقت تمام تر افرادی قوت اور معدنی وسائل کے باوجود ایک امت ہونے کی بجائے ایک ہجوم کے طور پر زندہ ہے۔ وہ مسلم امہ جس کا مغرب سے مشرق تک طوطی بولتا تھا اور وہ امہ جو تعلیم اور ایجادات میں دنیا کی امام تھی آج وہی امت اسی طرح علم و ہنر سے بے گانہ ہے جیسے کبھی مغرب والے بیگانہ اور محض مقلد تھے۔ گذشتہ 100سال کی ماڈرن ایج کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں کوئی ایک ایسی بڑی ایجاد نظر نہیں آتی جس پر انسانیت فخر کر سکے۔ یہ ایک ایسا نوحہ ہے جسے شد و مد کے ساتھ پڑھا تو جا رہا ہے مگر اس کی تکلیف سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیںآ رہا۔ وہ مسلم امہ جس کے پیغمبر برحقؐ نے علم کو اس کا اوڑھنا بچھونا بنایا تھا آج وہ امت علمی اعتبار سے برہنہ سر تا پا دربدر ہے۔ حکیم الامت نے امت کی اس کیفیت پر ایک نوحہ لکھا تھا جو مختصر ترین ہونے کے باوجود اپنے اندر عبرت کا ایک جہان سموئے ہوئے ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کاررواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا یعنی کہ منزل تک نہ پہنچنا اتنا بڑا نقصان نہیں ہے جتنا بڑا نقصان منزل تک نہ پہنچ سکنے کے احساس کے ختم ہو جانے کا ہے۔ آج امت تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔آسمان سے باتیں کرتے ہوئے تعمیراتی منصوبے، جدید ترین سڑکیں، عالیشان محلات اور عیش و عشرت کے سامان تو نظر آتے ہیں مگر عالم اسلام مل کر ایک بھی ایسی علمی درسگاہ پیش نہیں کر سکتا جسے دنیا کی نمبر ون یا نمبر ٹو قرار دیا جا سکے۔ سر سید احمد خان ایک ایسی مسلمان شخصیت ہیں جنہوں نے امہ کے علمی احیا کیلئے اپنوں کی تمام تر مزاحمت کے باوجود کارہائے نمایاں انجام دیئے جس وقت ہمارے مذہبی طبقات جدید علم کو غاصب انگریز کی سازش قرار دے کر جدید علوم سے دور بھاگ رہے تھے اس وقت سر سید احمد خان امت پر علم کے دروازے کھولنے پر محنت کر رہے تھے اور پھرتحریک پاکستان کی قیادت علی گڑھ کے فارغ التحصیل سکالرز نے سنبھالی اور پاکستان کی صورت میں ایک آزاد اور خود مختار ملک کا تحفہ دیا۔ مجھے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا ایک بیان یاد آتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کو سو علی گڑھ یونیورسٹیاں دوں گا اور پھر انہوں نے اپنے اس دعوے کو عمل کے قالب میں ڈھالنے کی مقدور بھر کوشش بھی کی۔ ہمیں پاکستان اور پاکستان سے باہر ایسے تعلیمی ادارے نظر آتے ہیں جہاں قدیم و جدید علوم کو یکجا کر کے پڑھایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو معاصر تحریکوں اور شخصیات کی طرف سے ایک شدید مزاحمت کا سامنا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ آئندہ نسلوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گذشتہ سال انہوں نے آسٹریلیا، ہانگ کانگ، جاپان، ملائیشیا، سنگاپور میں بڑی بڑی کانفرنسز کیں، ان کانفرنسز کیلئے جو بڑے بڑے ہال منتخب کئے گئے تھے وہ کچھا کھچ بھرے ہوئے ہوتے تھے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونی دنیا میں مقیم مسلمان اپنے رہنمائوں کی اچھی باتیں سننا چاہتے ہیں۔ ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت نے کچھ ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں کہ نوجوان انہیں سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور کسی پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ نفسا نفسی کے اس ماحول میں اگر مغربی بود و باش والے نوجوان کسی مذہبی سکالر کو سنتے ہیں تو یہ ایک حوصلہ افزا اور خوش آئند بات ہے۔ بہرحال اس حوالے سے ڈاکٹر طاہر القادری ایک ایسی مذہبی، سماجی شخصیت ہیں کہ نوجوان ان کی آواز پر جمع ہو جاتے ہیں۔ رواں ماہ واروک یونیورسٹی لندن کے ایک ہال میں الہدایہ2025 ء کے نام سے سہ روزہ ایونٹ ہوا، اس ہال کی گنجائش 1200 کے بیٹھنے تک کی تھی مگر یہاں 1300 سے زائد فیملیز نے شرکت کی یہ تربیتی سیشن مسلسل تین روز انعقاد پذیر رہا اور برطانیہ، یورپ، امریکہ، کینیڈا سے آئے ہوئے وفود نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ ان سیشنز میں حصہ لیا۔ میں نے اس سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کے تمام سیشنز کا بذریعہ آن لائن باریک بینی سے جائزہ لیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ اس الہدایہ کیمپ کے شرکا صرف منہاج القرآن کے کارکنان نہیں ہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جنہوں نے انہماک کے ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، ڈاکٹر غزالہ قادری اور نوجوان سکالر ڈاکٹر طاہر القادری کے پوتے شیخ حماد مصطفی قادری کے لیکچر سنے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا گھرانہ شاید پاکستان کا واحد گھرانہ ہے جس کا ہر فرد دنیا کی بہترین یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل اور پی ایچ ڈی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری70 کی دہائی کے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں ان کے صاحبزادگان پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری مصر سے اور پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری آسٹریلیا کی معروف وکٹوریہ یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری کی بہو اور ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی اہلیہ لندن کی ایک معروف یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں۔ شیخ حماد مصطفی بھی ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد اپنے محققانہ علمی سفر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری ایک ہزار سے زائد کتب کے مصنف ہیں اسی طرح ان کے صاحبزادگان بھی اوائل عمری میں درجنوں کتب کے مصنف بن چکے ہیں اور تحریر و تقریر کا یہ سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مجھے یہ جان بے حد خوشی ہوتی ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے لائق فائق فرزندان نے اپنے علم کی کوئی قیمت وصول نہیں کی حالانکہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات انجام دینے کے مواقع ہمیشہ میسر رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادوں نے اپنے والد گرامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اور انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی۔ ڈاکٹر طاہر القادری درست کہتے ہیں کہ امت کا خوشحال مستقل صرف نوجوان نہیں ہیں بلکہ تعلیم اور تربیت یافتہ نوجوان ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری پوری دنیا میںبلا معاوضہ دین اور علم کے فروغ کیلئے برسر پیکار ہیں۔ معاصر تحریکیں اور شخصیات ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر توانائیاں صرف کرنے کی بجائے اسلام کی نشا ثانیہ کیلئے اپنا حصہ ڈالیں اور نوجوانوں کو علوم و فنون کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ امت اپنی کھوئی ہوئی میراث کو پھر سے حاصل کر سکے۔ الہدایہ 2025 ء کے ایونٹ سے متعلق میں نے برطانیہ کے منہاج القرآن کے صدر سید علی عباس بخاری سے گفتگو کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ گذشتہ 20 سال سے الہدایہ کے تربیتی ایونٹس منعقد ہو رہے ہیں جس کا مقصد مغرب میں آباد مسلم یوتھ کو مصطفوی تعلیمات کے مختلف گوشوں سے روشناس کرانا، دیار غیر میں آباد مسلم کمیونٹی کے مابین رابطوں کو فعال بنانا ہے۔ انہوںنے بتایا کہ الہدایہ کے مقاصد میں اسلام کے بار ے میں لاعلمی پر مبنی انتہا پسندانہ سوچ کو بدلنا، بین المذاہب رواداری کو فروغ دینا، نوجوانوں میں قانون اور دینی اقدار کے احترام کا جذبہ پیدا کرنا اور امن و اعتدال کی اہمیت کو اجاگر کرنا سر فہرست ہے۔ اللہ رب العزت ہماری علم سے محبت اور علم کو پھیلانے کی توفیقات میں اضافہ کرے۔