Wed, September 16, 2026

پاگل خانے میں چھپے سچ…

پاگل خانے میں چھپے سچ…

اعظم میرے بچپن کا دوست اور آج کل امریکہ میں مقیم ہے۔ کبھی کبھی دھرتی کی یاد میں پاکستان آتا ہے۔ گزشتہ دنوں وہ پھر پاکستان آیا تو ملاقات ہوئی۔ اس دفعہ وہ مجھے اتنا خوش نہیں لگا جتنا وہ پہلے اظہار کیا کرتا تھا۔ اس اچانک تبدیلی بارے پوچھا تو بولا یار میرے ساتھ امریکہ سے میرا ایک دوست بھی آیا ہے اور کل ہم پاگل خانہ جا رہے اور تمہیں بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاکہ تم ایک ایسی کہانی سنو جس کے بارے لوگوں کو پتہ چلے کہ ماں باپ کس قدر نعمت ہوتے ہیں اور وہ اولادیں کتنی بدقسمت، بدنصیب ہوتی ہیں جو ماں باپ کی دولت ورثے میں ملی جائیداد کو حاصل کرنے کے لئے انہی والدین کو جنہوں نے ان کو جنا، ان کو پڑھایا، سکھایا ایک مقام دلوایا اور پھر دولت کے نشے نے ان کو عظیم رشتوں سے دور کرا دیا۔ خیر اگلے روز ہم تینوں پاگل خانے گئے تو وہاں ایک لرزہ خیز داستان اور دل ہلا دینے والے واقعات نے مجھے بھی رولا دیا۔ ہم سے کوئی یہ پوچھے جن کے ماں باپ دنیا میں نہیں ہیں کوئی ہم سے جانے ماں باپ کی قدر کیا ہوتی ہے بہرحال میں نے دیکھا ایک طرف خوش قسمت ماں تو دوسری طرف وہ یہ بدنصیب اور بدقسمت بیٹا جس نے صرف کچھ عرصہ قبل جائیداد کی خاطر ماں کو پاگل خانے داخل کرا دیا اور جب اس نے نشے میں سب کچھ برباد کر ڈالا تو خدا تعالیٰ نے اس کو اسی ماں کے قدموں میں پھینک دیا جس ماں کو وہ پاگل قرار دے کر اس کو پاگل خانے جمع کرا کے امریکہ چلا گیا۔ اس سے پہلے بات کو آگے لے کر چلوں ایک ایسی ہی خبر کا ذکر جو میرے کالم کا مکمل احاطہ کئے ہوئے ہے۔ خبر یہ ہے کہ چند روز قبل لاہور کے ایک فلاحی ادارے کے سربراہ نے پاگل خانے کا دورہ کیا اور اس یونٹ گیا جہاں 30کے قریب خواتین قید تھیں، جن کو میڈیکل فائلوں میں خطرناک حد تک پاگل قرار دیا جا چکا تھا۔ جب اس سربراہ نے پاگل خانے کی دیواروں پر نگاہ ڈالی تو وہاں اس کو دانائی بھری باتیں لکھی نظر آئیں۔ دیکھ کر وہ بولا:’’ان میں ایک عورت بالکل ٹھیک ٹھاک لگتی ہے اور وہ جان بوجھ کر پاگل بننے کا ناٹک کر رہی ہے۔‘‘ انتظامیہ نے جواب میں کہا کہ: ’’یہ ممکن نہیں! سب ماہرِ نفسیات نے اس خاتون کے پاگل ہونے کی تصدیق کی ہے۔‘‘ سربراہ نے وہاں کے باورچی سے کہا: ’’آج کھانے میں جان بوجھ کر نیند کی دوا ملا دینا۔‘‘ پھر اسی رات کو کھانا عورتوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ خفیہ کمرے سے ان تمام خواتین کا مشاہدہ کرنا شروع ہوا کہ ان پر نیند کی دوا کا کیا اثر ہوتا ہے۔ چند ہی لمحوں میں سب خواتین آہستہ آہستہ اونگھنے لگیں اور پھر ایک ایک کرکے گہری نیند میں چلی گئیں لیکن ان میں وہ عورت، جو سب سے الگ ایک کونے میں بیٹھی،نہ صرف جاگ رہی تھی بلکہ وہ مسلسل چوکنی نظروں سے اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی اور وہ بار بار اپنی ساتھیوں کو دیکھتی،کبھی اپنی آنکھیں مَلتی، جیسے یقین کر رہی ہو کہ وہ واقعی سو گئی ہے۔ ادارے کے سربراہ نے یہ منظر دیکھا تو فوراً نگران عملے کو بلایا اور کہا،’’یہی وہ عورت ہے جو پاگل ہونے کا ناٹک کر رہی ہے۔ اسے الگ کمرے میں لے جاؤ، میں اس سے خود کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ پھر کچھ دیر بعد جب وہ عورت تنہائی میں سربراہ کے سامنے بیٹھی تو اس کی آنکھوں میں بلا کی ہوشیاری کے ساتھ دکھ دونوں نظر آئے۔ ’’بی بی، سچ سچ بتاؤ، تم یہاں کیسے آئی ہو؟‘‘ عورت نے تھوڑی دیر خاموش رہ کر ایک گہری سانس لی، اور پھر بولی:
’’میں ایک تعلیم یافتہ عورت ہوں، ایک یونیورسٹی میں بطور پروفیسر پڑھاتی تھی لیکن میرے شوہر نے میری جائیداد کی خاطر میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا، کہ میں پاگل ہوں کیونکہ وہ دوسری شادی بھی کرنا چاہتا تھا۔ شوہر کا پیسہ اور اس کے تعلقات مجھے پاگل خانے لے آئے۔ انہی تعلقات کے سبب عدالت اور ماہرینِ نفسیات کی غلط رپورٹ پر بھروسا کیا اور مجھے یہاں قید کر دیا گیا۔ اس اثناء میں، میں نے کئی بار شدید مزاحمت کی مگر کسی نے میری بات نہ سنی۔‘‘ وہ سربراہ سمجھ گیا کہ عقل کی باتیں دیواروں پر اسی عورت نے لکھی تھیں۔ اس نے فوراً اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا، اس بند کیس کو دوبارہ کھلوایا اور پھر چند ہی دنوں میں اس مظلوم خاتون کو انصاف مل گیا۔ وہ غلط دی گئی سزا سے آزاد ہوگئی، لیکن وہ ہسپتال سے جاتے جاتے کہہ گئی: ’’عقل کی بات کرنے والوں کو دنیا اکثر پاگل ہی سمجھتی ہے۔‘‘ 
یہ تو ایک واقعہ ہے۔ انہی پاگل خانوں اور پناہ گاہوں میں کتنے ہی ماں، باپ ناخلف اولادوں کی سزائوں کو بھگت رہے ہیں۔ آج کئی مائیں، کئی باپ آج بھی اولاد کے درد اور کئی بیویاں شوہروں کے ظلم سہتے سہتے انہی کے ہاتھوں پاگل خانے کی چار دیواریوں میں پاگل نہ ہونے کے باوجود پاگل قرار دے کر قید کر دی گئی ہیں اور آج ایک نہیں ہزاروں کیس انسانیت کا منہ چڑا رہے ہیں شاید اصل دیواریں تو اس بھرے معاشرے کے بدلے رویوں کے ساتھ لکھی گئی ہیں جو ان دیواروں کے پیچھے سچ کو قید کر دیتے ہیں۔ 
اور آخری بات…
امریکہ سے آئے بدنصیب بیٹے کو جب یہ بتایا گیا کہ وہ تیری جدائی میں تیری ماں جسے تو پاگل قرار دلوا کر چلا گیا تھا وہ واقعہ پاگل ہو گئی ہے تو وہ انہی دیواروں کو ٹکریں مارے لگا جن دیواروں کے حوالے وہ اپنی بے گناہ ماں کو کر گیا اور آج وہ خود پاگل ہو گیا…

ٹیگز: