Wed, September 16, 2026

پاکستان کی انسداد دہشت گردی کے خلاف کوششیں سیاسی اختلافات سے متاثر ، عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ

پاکستان کی انسداد دہشت گردی کے خلاف کوششیں سیاسی اختلافات سے متاثر ، عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ

اسلام آباد : ایک بین الاقوامی جریدے "دی ڈپلومیٹ" نے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے قومی یکجہتی کو سب سے اہم قرار دیا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ختم کیے بغیر دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔

رپورٹ میں خاص طور پر خیبر پختونخوا حکومت کی وفاق سے مختلف حکمت عملی کو دہشت گردی کے خاتمے میں بڑا مسئلہ بتایا گیا ہے۔ جریدے کے مطابق وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کی الگ الگ پالیسیاں ملک میں صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، کیونکہ خیبرپختونخوا حکومت مذاکرات اور محدود کارروائیوں پر زور دے رہی ہے۔

دی ڈپلومیٹ نے پاکستانی فوج کے آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت کی کچھ پالیسیوں، جیسے فتنہ الخوارج کے ساتھ مذاکرات، نے دہشت گردوں کو مزید طاقت دی۔

رپورٹ میں افغان حکومت کے ان اقدامات پر بھی تنقید کی گئی کہ وہ دہشت گرد عناصر کو اپنے حکومتی اداروں میں شامل کر رہی ہے، جسے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سنجیدہ نہیں سمجھا۔

افغان مہاجرین کے مسئلے پر بھی وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات ہیں۔ وفاق کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ سیاسی اختلافات سے دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں۔

جریدے کا کہنا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا وفاق کی ہدایات پر عمل نہیں کرے گی تو شدت پسندوں کی کارروائیوں سے بچنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے ملک میں دہشت گردی ختم کرنے کے لیے سب کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔

ٹیگز: